- الإعلانات -

کراچی اقتصادی کانفرنس

کراچی میں اقتصادیات کے تناظر میں ہونے والی کانفرنس میں ماہرین معاشیات کی بڑی تعداد شریک ہوئی اس کانفرنس میں خاص بات آرمی چیف کا خطاب تھا آرمی چیف نے اپنے خطاب میں جس دردمندی کے ساتھ خطے کی صورت حال کا نقشہ کھینچا اور پاکستان کو لاحق داخلی اور خارجی خطرات پر سیرحاصل گفتگو کی اس کو سن کر پاکستان سے محبت کرنے والے پاکستانیوں کی تشویش کو سمجھا جا سکتا ہے آرمی چیف نے سوویت یونین کی تحلیل کی وجوہات بیان کیں اور بجا طور پر اس تحلیل کی وجوہات میں اقتصادیات اہم وجہ تھی جہاں ہتھیاروں کے انبار لگے تھے لیکن عوام سڑکوں پر روٹی کے لیے مارے مارے پھر رہے تھے اور غلط مالی پالیسیوں مقتدروں کی اقربا پروری عدم احتسابی اور کرپشن کے سبب سوویت ریاست اس حال کو پہنچی اور اس میں صدر گوربا چوف نے بھی بھرپور کردار ادا کیا جو آج کل امریکہ میں ریٹائرمنٹ کی پر تعیش زندگی گزار رہے ہیں اس کا تقابل ہماری اشرافیہ سے کیا جا سکتا ہے جیسے گورباچوف کسی کا ایجنڈہ لے کر آئے تھے بعینہ یہی حالات ہماری اشرافیہ کے ہیں جن کے کوئی اثاثے ملک میں نہیں جو ہیں بھی تو آٹے میں نمک کے برابر انہوں نے کہا کہ ملکی سیکیورٹی اور اقتصادیات کا آپس میں گہرا تعلق ہے انہوں نے مزید کہا کہ ہم دنیا کے مشکل ترین اور انتہائی غیر مستحکم خطے میں رہ رہے ہیں ایک طرف بھارت توسیع پسندی ہے اور پڑوسیوں کے داخلی معاملات میں اس کا بے جا تصرف ان کے وسائل پر قبضہ ہی بھارتی پالیسی ہے انہوں نے جو کہا وہ کسی درد مند پاکستانی کی آواز تھی لیکن ہم عملا کیا کر رہے ہیں انڈیا ہماری اشرافیہ کی آشیرباد سے ہمارے دریاؤں پر غیر قانونی طور پر ڈیموں پر ڈیم تعمیر کئے جارہا ہے ہمارے حکمران انتظار کرتے رہتے ہیں کہ انڈیا کی جانب سے ڈیم کی تعمیر اتنی زیادہ ہو جائے کہ کوئی مصنف انڈیا کے خلاف کوئی فیصلہ نہ دے سکے تو اس وقت اپنی قوم کو بے وقوف بنانے کے لئے کسی عدالتی فورم پر چلے جاتے ہیں لیکن جواب سب کو معلوم ہوتا ہے تقریبا ڈیڑھ ماہ قبل بھی ہم دو ڈیموں پر کیس اسی بنیاد پر ہار چکے ہیں جج نے ہمارے وکلا سے کہا کہ پانچ سال تک ان ڈیموں کی تعمیر جاری رہیں تب کیا آپ سو رہے تھے اب آپ آئے ہیں جب تعمیرات مکمل ہو چکی ہیں لہذا ہم کچھ نہیں کر سکتے انڈیا کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں کر رہا ہے اور وہ اور اس کے ہمنوا ہمارے مغربی بارڈر سے proxies کے ذریعے ہم پر حملہ آور ہیں جس میں سی آئی اے موساد را اور افغان این ڈی ایس مصروف پیکار ہے افغان صدر نے ہمارے آرمی چیف کے دورہ کابل میں جس طرح خوش آمدید کہا اور ان کو جس طرح کا پروٹوکول دیا گیا اور اس کے بعد کے بیانات سے لگتا تھا کہ وہ پاکستان سے اپنے تعلقات بہتر کرنے میں سنجیدہ ہیں لیکن اب لگتا ہے کہ این ڈی ایس براہ راست را کے کنٹرول میں ہے جو یہ نہیں چاہتی کہ پاک افغان تعلقات بہتر ہوں افغان صدر نے واضح بیان دیا کہ کسی بھی جانب سے پاکستان پر حملے کی حمایت نہیں کی جائے گی اس بیان کو سراہا جانا چاہئے ادھر سابق افغان صدر حامد کرزئی نے بھی پاکستان کے حق میں بیان دیا کہ پاکستان ہمارا بھائی ہے اور پاک افغان مستقبل آپس میں جڑا ہوا ہے اور ہمارے درمیان امن ہی دونوں ملکوں کی ترقی کی ضمانت ہے آرمی چیف نے بجا طور پر کہا کہ ہماری سیکیورٹی میں فوڈ سیکیورٹی اندرونی سیکیوریٹی بیرونی سیکیورٹی شامل جہاں تک کراچی میں امن کا تعلق ہے سپہ سالار نے کراچی کے عوام کو یقین دلایا ہے کہ کراچی کے امن کو یقینی بنانے کے لئے کوششیں جاری رہینگی مضبوط دفاع کی بنیاد ہی مضبوط اقتصادیات ہے لیکن جس رفتار اور حجم سے مہنگے قرضے لئے گئے ہیں اس کا قومی اقتصادیات پر کہیں کوئی مثبت اثر نہیں ہوا بلکہ ملک قرضوں کی دلدل میں ڈوب گیا ہے خطے میں ہمارا ٹیکس جی ڈی پی کے تناسب سے نہایت کم ہے ہمارے ہاں اربوں کے اثاثے رکھنے والے محض چند ہزار ہی ٹیکس دیتے ہیں بڑے شہروں میں تاجر ٹیکس دینا اپنے منافع پر ضرب تصور کرتے ہیں جہاں کہیں ٹیکس نظام میں اصلاح کی بات آئے تو احتجاج شروع ہو جاتا ہے اور مہینوں جاری رہتا ہے انہیں ٹیکس کی اہمیت سے روشناس کرانے کے لئے سیمینار ہونے چاہئیں ٹیکس افسران کا صوابدیدی اختیار ختم ہونا چایئے یہ اختیار ٹیکس دہندگان کو نہ صرف بے جا خوف میں مبتلاکرتا ہے بلکہ کرپشن کے در کھولتا ہے سپہ سالار نے اس جانب بھی اشارہ کیا اس قومی اہمیت کی کانفرنس کے موقع پر ہمارے سیاست دانوں کی سنجیدگی ملاحظہ فرمائیے کہ اس کانفرنس میں سندھ کے گورنر جو صوبے میں وفاق کا نمائندہ ہوتا ہے اور صوبے کا چیف ایکزیکٹیو وزیر اعلی شریک نہیں ہوئے اور یہی سنجیدگی اہل اقتدار میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے ہمارے قومی خزانہ کے کلید بردار وزیر جو نیب عدالت مین پیشیاں بھگتتے پھر رہے ہیں لیکن وزیراعظم کے اصرار کے باوجود وزارت چھوڑنے کو تیار نہیں کہ وہ ایک سابق مقتدر کے سمدھی ہیں اور انہیں جیل نہیں جانا وہ سمجھتے ہیں کہ جب تک وزارت کی کلغی سر پر سجی رہے گی وہ جیل نہیں جائیں گے ادھر آئی ایم ایف اور عالمی بینک نے اسحاق ڈار کی کرپشن اور منی لانڈرنگ کے الزامات کے سبب ان سے ملاقات کرنے یا مذاکرات سے انکار کردیا ہے اس بات کو شرمندگی کا باعث ہونا چاہیئے اب ہمارے وزیر داخلہ صاحب عالمی مالیاتی اداروں سے مذاکرات کرنے پہنچے ہوئے ہیں جن کو اقتصادیات اور مالی معاملات کا اتنا ہی پتہ ہے جتنا ہمیں اور آپ کو مریخ کے ماحول کا ،جیسے ایک درزی کو ہوائی جہاز کی مرمت کا کہا جائے 21 کروڑ لوگوں میں کوئی ماہر معاشیات نہیں جو ڈوبتی ہوئی معیشت کو سنبھالا دے سکے یا کم از کم عالمی مالیاتی اداروں سے قومی مفاد کے تناظر میں مذاکرات کر سکے اس سے ملکی مسائل کے حل کے لئے مقتدروں کی سنجیدگی ملاحظہ کی جاسکتی ہے وزیراعظم مقدمات میں ماخوذ وزیر خزانہ سے جبری استعفیٰ لیں یا انہیں برطرف کریں اور کسی ماہر معاشیات کو اس منصب پر متعین کریں ملکی معاشیات سے کھلواڑ کسی کے مفاد میں نہیں اللہ ہمارے مقتدروں کو درست فیصلے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین