- الإعلانات -

یہ بھارتی سفاکی کب تلک ۔ ۔ ؟

اقوام متحدہ میں پاکستانی مندوب ملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ بھارتی دعوے کے برعکس کشمیر کبھی بھی بھارت کا حصہ نہیں رہا لہذا اقوام متحدہ کشمیریوں کا تسلیم شدہ حق دلانے کا وعدہ پوراکرے۔یاد رہے کہ اقوام متحدہ کی خصوصی کمیٹی میں اظہار خیال کرتے ہوئے ملیحہ لودھی کا کہنا تھا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں مظاہرین پر پیلٹ گن کا استعمال کر رہا ہے جس سے نابینا ہو کر نوجوان نسل ہمیشہ کیلئے معذور ہو رہی ہے۔ بھارت جعلی الیکشن سے مقبوضہ کشمیر پر تسلط قائم رکھناچاہتا ہے اور اس نے جعلی سازی سے کشمیریوں کو حقوق سے محروم کر رکھا ہے۔ ملیحہ لودھی نے مزید کہا کہ جعلی الیکشن کا ہتھکنڈاکشمیریوں کے حقوق دبانے کی کوشش ہے اور مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں ظلم و بربریت کا وہ بازار گرم کر رکھا ہے جس کی مثال ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی۔ ان کا کہنا تھا کہ بہادر کشمیری اپنے حق خودارادیت کی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ اس صورتحال کا جائزہ لیتے مبصرین نے کہا ہے کہ دہلی سرکار کو یاد رکھنا چاہیے کہ ظلم و ستم اور سفاکی کے زور پر کسی بھی قوم کو ہمیشہ کے لئے غلام بنا کر نہیں رکھا جا سکتا ۔ اور یہ ایسی بڑی سچائی ہے جس سے کوئی بھی ذی شعور انکار نہیں کس سکتا ۔ اسی تناظر میں غیر جانبدار حلقوں نے رائے ظاہر کی ہے کہ بھارتی حکمرانوں نے یوں تو عرصہ دراز سے یہ وطیرہ بنا رکھا ہے کہ بربریت اور وحشت کے زور پر نہتے اور معصوم کشمیریوں کو غلام بنا کر رکھا جائے اور پاکستان کے خلاف جھوٹ اور دروغ گوئی کی بنیاد پر ایسا جھوٹا پراپیگنڈہ کیا جائے جس کے نتیجے میں دنیا کو گمراہ کیا جا سکے ۔ مگر دہلی کے کوڑھ مغز حکمران ٹولے کو یاد رکھنا چاہیے کہ سچائی کو کچھ دیر کے لئے چھپانا شاید ممکن ہو مگر بالآخر سچائی اپنا راستہ خود ڈھونڈ لیتی ہے اور جھوٹ اپنی موت آپ مر جاتا ہے ۔ یوں بھی اس حقیقت سے بھلا کون ذی شعور انکاری کر سکتا ہے کہ بھلے ہی ظلم و سفاکی کی رات کتنی بھی تاریک ہو مگر بالآخر تاریکی کے دبیز پردوں سے صبح آزادی طلوع ہو کر رہتی ہے اور اس آفاقی سچائی کو نہ تو کوئی بدل پایا ہے اور نہ بدل پائے گا ۔ اور اس پس منظر میں امید کی جانی چاہیے کہ عالمی برادری چشم پوشی کے رویے کو ترک کر کے اپنی کوتاہیوں کو صدق دلی سے تسلیم کر کے ان کے ازالے کی ہر ممکن کوشش کرے گی ۔ یہاں پر اس امر کو بھی ملحوظِ خاطر رکھنا ضروری ہے کہ حالیہ دنوں میں دہلی نے پاکستان کے خلاف اپنی معاندانہ روش کو مزید تیز کرتے ہوئے بلوچستان میں اپنے مہروں کے ذریعے دہشتگردی کے سلسلے میں جو شدت پیدا کے ہے اور سی پیک منصوبے کو سبو تاژ کرنے کے لئے جو سازشیں کی جا رہی ہیں ، اس کو بھی را اور اس کے ہمنوا بند کریں گے وگرنہ اس خطے کے امن کی ابتری کے نتائج کی تمام تر ذمہ داری بھارت ، امریکہ اور ان کے دیگر ہمنواؤں پر ہو گی ۔