- الإعلانات -

معیشت اور سلامتی کے درمیان قابل عمل توازن کی ضرورت

چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کراچی میں معیشت اور سلامتی پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج سلامتی اور معیشت ایک دوسرے سے منسلک ہیں، تمام قومیں پرانی سوچ پر نظرثانی کرتے ہوئے اقتصادی استحکام اور قومی سلامتی کے درمیان توازن پر توجہ دے رہی ہیں ، سوویت یونین کے پاس ہتھیار کم نہ تھے لیکن کمزور معیشت کے سبب ٹوٹا، ہمیں معیشت اور سلامتی کے درمیان قابل عمل توازن کے تسلسل کو یقینی بنانا ہے اسی صورت میں ہم ایک ایسا مستقبل حاصل کرسکیں گے جس میں ہمارے لوگوں کیلئے پائیدار امن اور مسرت یقینی ہوگی۔ ملکی ترقی بڑھی ہے تو قرضے آسمان پر چلے گئے ۔ ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کو شکست دے دی ہمارا خطہ ڈوبے گا تو سب ڈوبیں گے معاشی استحکام کیلئے عدم استحکام دورکرنا ہوگا۔ پاکستان کو کئی بحرانوں کا سامنا رہا دنیا کے سب سے زیادہ غیر مستحکم خطے میں رہتے ہیں۔ تاریخی بوجھ اور منفی مقابلے نے خطے کو اسیر بنا رکھا ہے مشرق میں جارحیت پر آمادہ بھارت اور مغرب میں غیر مستحکم افغانستان ہے مغربی سرحد کو فوجی،معاشی اور سفارتی اقدامات کے ذریعے محفوظ بنا رہے ہیں ہم نے فاٹا میں جو کیا اور بلوچستان میں جو شروع کیا وہ سیکیورٹی بہتر کرنے کی زبردست مثال ہے۔ ہم اپنی نوجوان نسل کی بڑی تعداد کو کم آپشنز کے ساتھ نہیں چھوڑ سکتے، مدارس اصلاحات بھی بہت اہم ہیں، مدارس کو اپنے طلبا کو معاشرے کا مفید رکن بنانا ہوگا۔ نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کی جامع کوششیں ضروری ہیں، نیشنل ایکشن پلان پر بروقت عمل ہوا تواثر براہ راست سیاسی و معاشی استحکام کی صورت میں آئے گا، آج کے دور میں سیکیورٹی ایک وسیع موضوع ہے، سلامتی اور معیشت ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی سخت محنت سے سیکیورٹی صورتحال بہتر ہوئی، سی پیک کے منصوبے مکمل ہو رہے ہیں، ان کامیابیوں کے باوجود ابھی لمبا سفر طے کرنا ہے، انفراسٹرکچر اور توانائی بہتر ہو رہی ہے مگر کرنٹ اکانٹ بیلنس حق میں نہیں، ہمیں اگر کشکول توڑنا ہے تو ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح میں اضافہ کرنا ہو گا۔ پاکستان بھر میں عام آدمی کو ازسر نو یقین دلانا ہو گا کہ ریاست کی جانب سے یکساں برتاؤ ہو گا۔بہتر سیکیورٹی نہ ہونے کے باعث امیر ملک بھی جارحیت کا شکار ہوتے ہیں اور اس کی مثال عراق کا کویت پر حملہ ہے بیرونی عناصر ہمیں کنٹرول اور ڈکٹیٹ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں دشمن کو ان کوششوں کا محور پاک چین اقتصادی راہداری ہے،سی پیک سے پورا وسط اور جنوبی ایشیائی خطہ مستفید ہو گا سی پیک پاکستان کے عوام کا مستقبل ہے سی پیک اہم قومی اثاثہ ہے اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے خطے کے ممالک کی ترقی اور تنزلی ایک دوسرے سے وابستہ ہے قیام امن اور استحکام ہم سب کے مفاد میں ہے سی پیک اور دیگر منصوبے تکمیل کے مراحل میں ہیں، بحیثیت آرمی چیف ملک کی داخلی اور خارجی سلامتی کا ذمہ دار ہوں صورتحال کنٹرول میں ہے ۔ آرمی چیف نے بجا فرمایا ہمیں معیشت اور سلامتی کے درمیان قابل عمل توازن کو یقینی بنانا ہوگا اس کے بغیر ملک کو ترقی کے راستے پر گامزن نہیں ہوسکتا۔ قدامت پسند سوچ سے باہر نکل کر جدت پسندی کو اپنانا ہوگا وہیں قومیں آج ترقی کو چھو رہی ہیں جنہوں نے پرانی سوچ سے چھٹکارا حاصل کیا اور نئی سوچ اور عزم سے آگے بڑھی۔
احتساب بلا امتیاز ہونا چاہیے
نیب کے نئے چیئرمین جسٹس (ریٹائرڈ)جاوید اقبال نے کہا ہے کہ چیلنجز سے نمٹنا میرے لئے کوئی نئی بات نہیں۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف دائر ریفرنسز کی خود نگرانی کروں گا اور پانامہ کیس میں موجود خامیوں کو دور کیا جائے گا، تمام بڑے کیسز کو اہمیت دی جائے گی۔ احتساب سب کا ہو گا، سپریم کورٹ کے ہر فیصلے پر عملدرآمد کرنے کا پابند ہوں، پانامہ کیس میں سپریم کورٹ نے جو وقت دیا ہے اس کی تعمیل ہو گی۔ ان سے ایسی توقعات وابستہ کی جائیں جو قانون کے مطابق ہوں۔ کردار پر آج تک کوئی انگلی نہیں اٹھی اور اگر ایسی نوبت آئی تو وہ نیب کے چیئرمین اور لوگوں کی جبری گمشدگی کے لئے بنائے گئے کمشن کی سربراہی سے بھی مستعفی ہو جائیں گے۔ ہر کام قانون کے تحت ہو گا، کسی کے خوابوں کی تعبیر نہیں دے سکتا۔بلا امتیاز احتساب کے بغیر کرپشن کا خاتمہ ممکن نہیں چیئرمین نیب کا امتحان شروع ہوچکا ہے عوامی اور سیاسی امیدیں کہاں تک بر آتی ہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔
سینیٹ میں نا اہل شخص کیخلاف قرارداد کی منظوری
سینیٹ میں نا اہل شخص کے پارٹی سربراہ بننے کے خلاف قرارداد حکومتی مخالفت کے باوجود منظور کرلی گئی ، قرارداد کے حق میں 52اور مخالفت میں 28ووٹ پڑے ۔ سینیٹ کا یہ اجلاس رضا ربانی کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں اعتزاز احسن نے قرارداد پیش کی۔ قرارداد کے متن میں کہا گیاکہ سپریم کورٹ نے ایک شخص کو نااہل قرار دیا ہے اور یہ ایوان اس معاملے کو حل کرے کہ اس طرح کا کوئی شخص کسی سیاسی جماعت کا سربراہ بننے کا اہل نہیں ہو سکتا۔ وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے کہا کہ قرارداد سے اپوزیشن کیا ثابت کرنا چاہتی ہے ، اب یہ مکمل قانون بن چکا ہے اور دونوں ایوانوں سے منظور ہو چکا ہے، یہ جو قرارداد لائی گئی ہے اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے، یہ قرارداد منظور کر کے قانون کو چیلنج کیا جا رہا ہے۔ سپریم کورٹ میں بھی اسے چیلنج کیا گیا ہے ۔ سراج الحق نے انتخابات ایکٹ 2017ء میں ترمیم کا بل سینٹ میں جمع کرا دیا ہے۔ ترمیمی بل میں شق 203 کی ذیلی شق (الف) میں جملہ شرطیہ کا اضافہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایسا شخص کسی سیاسی جماعت کا عہدیدار نہیں بن سکتا جو مجلسِ شوری (پارلیمنٹ) کے رکن کے طور پر نااہل ہو یا جسے ایکٹ ہذا کے آغازِ نفاذ سے قبل نافذ شدہ کسی دوسرے قانون کے تحت نااہل قرار دیا گیا ہو۔ تمام اپوزیشن جماعتوں نے اس حکومتی ترمیم کی بھرپور مخالفت کی۔ تاہم حکومت نے 22 ستمبر 2017 کو پہلے سینیٹ اور بالآخر 2 اکتوبر کو قومی اسمبلی سے پاس کرواکر سپریم کورٹ کی طرف سے نااہل قرار دیے گئے سابق وزیر اعظم کے پارٹی سربراہ بننے کی راہ میں حائل رکاوٹ دور کردی۔ اس غیر جمہوری ترمیم کے ذریعے نہ صرف پارلیمانی نظام کو کمزور کیا گیا بلکہ اس سے پارلیمنٹ کے وقار کو بھی شدید دھچکا لگا۔ فرد واحد کے لیے قانون سازی کرنا اچھی روایت نہیں ہے اور عوام اسکو کبھی قبول نہیں کریں گے لہذا بل ہذا کے مطابقانتخابات ایکٹ 2017ء کی شق کو از سرِ نو ترتیب دے کر اس میں ترمیم کی جائے۔