- الإعلانات -

کیا سیاست دان بلدیاتی نظام کو چلنے دے گا

ejaz-ahmed

اب جبکہ خیبر پختون خوا میں بلدیاتی انتخا بات کے ہوتے ہوئے 7 مہینے گزر گئے، مگر اب تک بلدیاتی انتخابات میں کامیاب اُمیدواروں کو وہ اختیارات نہیں دئے گئے جن کا وعدہ پاکستان تحریک انصاف نے اُسکے ساتھ کیا تھا۔ بلدیاتی الیکشن میں کامیابی کے بعد اپنے اختیارات کے حصول کے لئے ان لوگوں نے خیبر پختون خوا کے کئی مقامات پرامن اختجاجی مظاہرے بھی کئے۔ مگر اب تک حالات جوں کے توں ہیں۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے بلدیاتی الیکشن سے پہلے وعدہ کیا تھا کہ بلدیاتی نظام کو ترقیاتی فنڈ کا 40 فی صد دیا جائے گا۔مگر بد قسمتی سے نہ تو فنڈ دیا گیا اور نہ اس سلسلے میں اب تک کوئی پیش رفت ہوئی۔اگر ہم پاکستان کے سیاسی ڈھا نچے پر نظر ڈالیں تو اس وقت وطن عزیز میں بلدیاتی نظام ( بنیادی جمہوری نظام )کے ساتھ ساتھ ملک میں پارلیمانی نظام بھی رائج ہے ،اور وطن عزیز میں پانچ صوبائی اسمبلیاں ، قومی اسمبلی اور سینیٹ بھی کام کر رہی ہیں۔گو کہ بلدیاتی نظام اور پارلیمانی نظام ایک گلدستے کے دو پھول ہیں۔مگر انکی وہ ورکنگ ریلیشن قائم نہیں ہوئی، جو ہونا چاہئے۔ کسی بھی جمہوری اور پارلیمانی نظام کے لئے بلدیاتی نظام اور ساتھ ساتھ کالج ، یونیورسٹیاں اور ٹریڈ یونین بنیادی سیڑھی اور نر سری کاکام کرتا ہے اور کسی بھی ملک کے بڑے بڑے لیڈرز اور قائدین پیدا کرنے میں مندرجہ بالاا داروں کا کلیدی کردار ہوتا ہے مگر یہ افسوس کی بات ہے کہ پاکستان میں یہ دونوں مروجہ نظام یعنی بلدیاتی اور پارلیمانی نظام ایک دوسرے کو کمزور کرنے کی کوشش کررہے ہیں دونوں ایک دوسرے کو اپنے لئے خطرہ سمجھتے ہیں ۔ حالانکہ یو دونوں جمہوری نظام کی مختلف شکلیں ہیں۔ پاکستان میں ہر ادارہ اور ادارے سے وابستہ افراد اقتدار ، طاقت اور اختیارات کے بھوکے ہوتے ہیں اور ہر ادارہ اور اس میں لوگ یہ چاہتے ہیںکہ انکے پاس زیادہ سے زیادہ صوابدیدی اختیارات ہوں۔ پاکستان میں قومی اسمبلی ، سینیٹ ، پانچوں صوبائی اسمبلیوں اور وفاقی اور صوبائی وزرائے کرام کا بلدیاتی نظام کے ساتھ عرصہ دراز سے رسہ کشی اور ٹکر جا ری ہے۔اگر ہم پاکستان کے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے کامیاب یا شکست خوردہ اُمیدواروں کی مالی حیثیت پر نظر ڈالیں تو اس میں زیادہ تر سرمایہ کار ،جاگیر دار اور کا رخانہ دار شامل ہیں۔ اور یہی یہ وہ لوگ ہیں جو ملک میں مختلف سیاسی پا رٹیوں کے انتخابی مہم اور مختلف قسم کے سیاسی سر گرمیوں کو دولت کے بل بوتے پر جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ ان سیاسی پا رٹیوں میں مالی لحا ظ سے مُستحکم لوگ ، عوام اور سیاسی پا رٹیوں سے وابستہ لوگوں کے خرید و فروخت پر سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ کیونکہ پاکستان میں بُہت کم ایسے این اے ز، ایم پی ایز اور سینیٹرز ہونگے جو قابلیت ،اچھی شہرت ، کا رکردگی اورمحنت کے بل بوتے پر کسی بھی سیاسی پا رٹی میں جگہ بناتے ہونگے۔ پاکستان کا پا رلیمانی نظام ایک ایسا نظام ہے جو دوسرے ممالک کی نسبت انتہائی مہنگا ہے۔ یہاں کسی بھی اُمیدوار کو سیٹ جیتنے کے لئے پہلے پا رٹی ٹکٹ لینے اور پھر سیٹ پر کامیابی حا صل کر نے کے لئے ایک خطیر رقم خر چ کر نی پڑتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان حالات میں وطن عزیز کاایک قابل ترین، لائق فائق ، دیانت دار اور ایمان دار انسان اُس وقت تک سیٹ نہیں جیت سکتا، جب تک اُسکے پاس کروڑوں روپے اور کثیر وسائل نہ ہوں۔اب جبکہ پنجاب ، سندھ اور بلو چستان میں بلدیاتی انتخابات کا سلسلہ جاری ہے۔حالانکہ تینوں صوبوں کے بر سر اقتدار سیاسی پا رٹیاں یہ نہیں چاہتے کہ انکے صوبوں میں بلدیاتی انتخابات ہوں۔ اب سوال یہ ہے کہ ملک میںموجودی جمہوری پارلیمانی نظام کے ہوتے ہوئے بلدیاتی نظام سے عوام مُستفید ہو سکیں گے۔ میرے نا قص خیال میں ایسا قطعاً اور بالکل نا ممکن ہے۔ ما ضی میںمشرف دور میں یہ دونوں نظام اکٹھے آزمائے گئے مگر ملک کے پارلیمانی نظام نے بنیا دی جمہوری نظام یعنی بلدیاتی نظام کو چلنے نہ دیا۔ البتہ ضیاءالحق اور جونیجو دور میں اس نظام سے کسی حد تک فائدہ لیا گیا کیونکہ اُس دور میں جمہوری نظام کمزور تھا۔اگر موجودہ دور میں بلدیاتی نظام کو زیادہ ترجیح دی گئی تو پھر قومی اور صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ کے ممبران بلدیاتی نظام کے خلاف ہونگے ۔ اور جو بر سر اقتدار پا رٹی اس نظام کی حما یت کرے گی اُنکے ایم این اےز، صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ کے ممبران اپنے بر سر اقتدار پا رٹی کے خلاف ہو سکتے ہیں اور کسی وقت اُنکی حکومت گر سکتی ہے۔کیونکہ صورت حال مگر زیادہ چانس یہ ہے کہ چا روں صوبوں میں بلدیاتی نظام کمزور اور برائے نام ہوگا اور ملک میں مروجہ پارلیمانی نظام کا ملک کے تمام معا ملات پر ہولڈ ہوگا۔اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک میں بلدیاتی نظام سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو نظام کی بقا کے لئے متحد ہونا ہو گا اور بنیادی سطح پر ملک کے پانچوں صوبوں اور وفاقی سطح ملک کے ترقی اور کامرانی کے لئے کام کرنا ہوگا۔ کیونکہ بنیادی سطح یعنی گراس روٹ لیول پر مقامی مسائل کو حل کرنے کے لئے بلدیاتی نظام سے اچھا کوئی نظام نہیں۔گو کہ ان دونوں نظاموں میں زمیں آسمان کا فرق ہے مگر بد قسمتی سے ہمارے سیاست دان ان دونوں نظاموں کو لالچ کے بھاﺅ میں اچھے طریقے سے نہیں سمجھ پاسکے۔ علاوہ ازیں ہمارے سیاست دانوں اور ریاستی معاملات چالنے والوں کو چاہئے کہ وہ دونوں نظام کے طریقہ کار مزید اچھی شکل دیں تاکہ دونوں نظاموں اور اس سے وابستہ لوگوں کے درمیان غلط فہمیاں دور کی جا سکیں۔ایم این اے ، ایم پی اے اور سینیٹر کاکا م بجلی کے ٹرانسفارمر لگانا، گلیاں پکی کرنا، نالیاں اور سیوریج لائن بنانا نہیں انکا کام صوبائی اور ملکی سطح پر قانون سازی کرنا ہے۔