- الإعلانات -

مفتی سعید کے گھر پر سبز ہلالی پرچم

riaz-ahmed

 مقبوضہ کشمیر میں 3 کشمیری نوجوانوں کے قتل کیخلاف مظاہرین نے احتجاجاً کٹھ پتلی ریاستی وزیراعلی مفتی سعید کے گھر کا گھیراﺅ کرتے ہوئے اس پر پتھراﺅ بھی کیا اور آبائی رہائش گاہ پر پاکستانی پرچم لہرا دیا۔ بھارتی پولیس نے 3 کشمیری نہتے نوجوانوں کو فائرنگ کرکے قتل کر دیا تھا۔ احتجاج کرنے والوں کی بڑی تعداد نے وزیراعلی مفتی سعید کے گھر کے باہر گھنٹوں دھرنا بھی دیا جبکہ بھارتی سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کومنتشر کرنے کیلئے ان پر بہیمانہ لاٹھی چارج کرنے کیساتھ آنسو گیس کا بھی استعمال کیا جس سے بیسیوں کشمیری مظاہرین زخمی ہو گئے۔
حریت کانفرنس ( جموںو کشمیر )رہنما اور فر یڈم پارٹی کے سربراہ شبیر احمد شاہ نے کپواڑہ میں بھارتی فوج کے ہاتھوں کشمیری نوجوانوں کی شہادت کو انسانی قدروں کی پامالی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ راجستھان میں چار کشمیری نوجوانوں کو عمر قید کی سزا انسانی قدروں کی پامالی کے مترادف ہے۔
جہاں تک مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں پر فوجی مظالم کا معاملہ ہے تو سری نگر کے ایک ہندو وکیل کارتک مور کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں7 لاکھ بھارتی فوج مظالم کے پہاڑ توڑ رہی ہے۔ پچھلے 3 سال میں ایک ہزار 80 کشمیری ماورائے عدالت قتل ہوئے۔172 اب بھی لاپتہ ہیں۔ ایسے جرائم میں بھارتی فوج اور پولیس کے 972 اہلکار ملوث پائے گئے۔
نسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مقبوضہ کشمیر میں ”آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ“ (افسپا) کے نفاذ کے 25 سال مکمل ہونے پر اپنی جاری رپورٹ میں ایک بار پھر مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے ظالمانہ چہرے کا پردہ چاک کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت کشمیریوں پر سفاکانہ کارروائیوں کو تحفظ دینے والے قوانین کا خاتمہ کرے۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں حریت پسندوں کی سرگرمیوں کو کچلنے کے لیے 1990ءمیں ایک کالا قانون ”آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ“ نافذ کیا تھا جس کے تحت بھارتی فوجیوں کو مشتبہ شدت پسندوں کو گولی مارنے اور انھیں بغیر وارنٹ کے گرفتار کرنے کے وسیع اختیارات دے دیے گئے۔
ایمنسٹی کی اس چشم کشا رپورٹ کے مطابق افسپا کے تحت بھارتی فوجیوں کو وسیع اختیارات ملنے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں تشدد اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں بے پناہ اضافہ ہوا اور ان ظالمانہ کارروائیوں پر کسی بھی فوجی پر سول عدالتوں میں مقدمہ نہیں چلایا گیا۔ بھارتی فوجی جوابدہی کے عمل سے آزاد ہو گئے اور انھوں نے کشمیریوں پر اپنے ظلم کی انتہا کر دی۔ بے گناہ کشمیری نوجوانوں کو گھروں سے اٹھا کر غائب کرنے کے علاوہ ہزاروں افراد کو جھوٹے اور بے بنیاد کیسوں میں پھنسا دیا گیا۔ بھارتی مظالم کشمیریوں کے جذبہ حریت کو دبا نہ سکے بلکہ حیرت انگیز امر ہے کہ جوں جوں ان مظالم میں اضافہ ہوتا چلا گیا کشمیریوں کا جذبہ آزادی اتنا ہی پروان چڑھتا چلا گیا۔ بھارتی حکومت نے کشمیریوں کی تحریک آزادی کو کچلنے کے لیے ہر حربہ آزما لیا مگر اس میں مکمل طور پر ناکام ہو گئی۔
بھارت نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹر نیشنل کے لیے بھارتی مقبوضہ کشمیر میںکام کرنے والی کارکن اور امریکی محقق کرسٹین مہتا کو ملک بدر کردیا ہے۔ کرسٹین نے کہا ہے کہ بھارتی حکام نے ان پر ویزا قواعد کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اپنی رپورٹس میں جانبداری سے کام لے رہی تھیں۔ بھارتی ترجمان کا کہنا ہے کہ کرسٹین مہتا کو 15 برس تک بھارت میں رہنے اور کام کرنے کی اجازت تھی تاہم انہوں نے ویزا قواعد کی خلاف ورزی اور وہ ان امور پر تحقیق کرنا چاہی جن کے لیے حکومت کی پیشگی اجازت درکار ہوتی ہے۔ حکومت حقائق کی بنیاد پر کی گئی تنقید کو برداشت کرتی ہے لیکن جانبداری، حساس نوعیت کی معلومات تک رسائی اور منفی پراپیگنڈے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
کرسٹین نے بھارتی جریدے ’انڈیا رئیل ٹائم‘ کو بتایا کہ انہیں اس لیے ملک بدر کیا گیا ہے کہ وہ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی وسیع خلاف ورزیوں کی رپورٹنگ کر رہی تھیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا نے ان کی ملک بدری پر بتایا ہے کہ کرسٹین اس ٹیم کا حصہ بھی تھیں جس نے حال ہی میں کشمیر میں جاری بھاتی فوج کے مظالم پر’کشمیر رپورٹ‘ شائع کی ہے۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والوں میں سے کسی بھی سرکاری اہلکار کو قانون کے کٹہرے میں نہیں لایا گیا اور گزشتہ 25برس سے بھارتی سکیورٹی فورسز کو کشمیر میں بے دریغ کارروائیاں کرنے کے لیے خصوصی قانون کے تحت لا محدود اختیارات حاصل ہیں۔ کرسٹین نے بھارتی اخبار ’دی ہندو‘ میں بھی لکھا تھا کہ بھارتی حکام اپنی فوج کے امیج کے بارے میں حد سے زیادہ حساس واقع ہوئے ہیں اور وہ اس کے تمام جرائم کی پردہ پوشی کرتے ہیں۔ جو شخص بھی بھارتی فوج کی کارروائیوں کے متعلق سوال کرتا ہے، اسے قوم کا دشمن اور غدار قرار دیا جاتا ہے۔
بھارت میں کام سے قبل کرسٹین نے ایمنسٹی حکام کے ساتھ بھارتی قانون کی اس شق پر بھی تبادلہ خیال کیا تھا جس کے کسی بھی بھارتی نژاد شخص کو حساس معاملات پر کام کرنے سے روکا جا سکتا ہے تاہم ان کا خیال تھا کہ کرسٹین کو کام سے نہیں روکا جائے گا۔ بھارت کے متعلق کرسٹین کا کہنا ہے کہ یہ ایک ایسا ملک ہے جہاں دانش اور مکالمے کا تنوع تو موجود ہے لیکن اسے اپنی غلطیوں سبق سیکھنے اور تاریک پہلوو¿ں کا سامنا کرنے کی ضرورت بھی ہے۔
موجودہ مودی سرکار مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا مستقل حصہ بنانے اور کشمیریوں کی تحریک آزادی کو کچلنے کے لیے ہر حربہ آزما رہی ہے مگر گزشتہ دنوں لاکھوں کشمیریوں نے مودی سرکار کی اس سازش کو ناکام بنانے کے لیے ریلی نکالی جس میں انھوں نے پاکستانی پرچم لہرائے اور آزادی کے نعرے لگائے اور پوری دنیا پر واضح کر دیا کہ کشمیری آج بھی پاکستان کے ساتھ ہیں اور وہ کبھی بھارت کا حصہ بننے کے لیے تیار نہیں ہوں گے۔