- الإعلانات -

وہ کون ہیں….بنگلہ دیشی یا پاکستانی؟

khalid

کبھی کبھی تو ایسا محسوس ہونے لگتا ہے کہ پاکستان ایک بے بس و لاچار ریاست ہے جس کا کوئی والی وارث نہیں اور دنیا میں اس کا کوئی طرف دار بھی نہیں۔ ایک بار پھر یہ احساس ابھر کر سامنے آ رہا ہے جب بنگلہ دیش میں پاکستان کے حامی سیاستدانوں کو غیرمنصفانہ اور بے رحمانہ طریقے سے پھانسیاں دینے کا سلسلہ کئی ماہ سے جاری ہے مگر پاکستان بطور ریاست کچھ بھی کرنے سے لاچار ہے۔ 1971ءمیں سقوطِ ڈھاکہ کا سانحہ ہوا اور مشرقی پاکستان ٹوٹ کر بنگلہ دیش بن گیا۔ تب شیخ مجیب الرحمان نے مشرقی پاکستان کے جنگ و جدل کے دور میں پاکستان کی حمایت اور بنگلہ دیش کے قیام کی مخالفت کرنے والے سیاستدانوں کے ٹرائل کے لیے خصوصی ٹربیونلز بنائے اور ان کے خلاف مقدمات کیے۔ مگر پھر 1973ءمیں پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں ایک بین الاقوامی معاہدہ ہوا جس کے تحت بنگلہ دیش کو پاکستان کے حامی سیاستدانوں کے خلاف مقدمات چلانے اور انہیں سزائیں دینے سے روک دیا گیا۔ اس معاہدے کے بعد شیخ مجیب الرحمان نے تو وہ ٹربیونلز ختم کر دیئے اورمقدمات چلانے کے لیے سیاستدانوں کی جو فہرستیں تیار کی تھیں وہ بھی پھاڑ کر ردی کی ٹوکری میں پھینک دیں۔ مگر آج کئی دہائیاں گزرنے کے بعد شیخ حسینہ واجد کی پاکستان کے ان حامی سیاستدانوں کو چن چن کر دار پر لٹکا رہی ہے اور ان پاکستان کے حامیوں میں سے جو آج موجود نہیں رہے ان کی اولاد سے بدلے لیے جا رہے ہیں۔ ایسے ایسے لوگوں کو پھانسیاں دی جا رہی ہیں جو سقوط ڈھاکہ یا اس سے قبل کسی بھی سیاسی واقعے میں شامل تھے ہی نہیں۔ وہ رہنماءجو اس وقت مغربی پاکستان(موجودہ پاکستان) کی پنجاب یونیورسٹی میں زیرتعلیم تھے انہیں بھی پھانسی دے دی گئی ہے۔ اس وقت اسحاق خاکوانی جیسے لوگ ان کے کلاس فیلوز تھے جنہوں نے ان کی پھانسی رکوانے کی حتی الوسع کوشش کی مگر جب ریاست ہی منہ میں گھنگنیاں ڈالے بیٹھی ہو تو ایسے افراد کی انفرادی کوششیں بنگلہ دیش کی بھارت نواز حکومت کی دہشت گردی کو کہاں روک سکتی ہیں۔ دکھ اس بات کا نہیں کہ حسینہ واجد کیا کر رہی ہے، کیونکہ سانپ سے ڈسنے کے علاوہ کسی بات کی توقع کرنا ہی عبث ہے۔ حسینہ واجد وہی کر رہی ہے جو اس کے خون اور فطرت میں شامل ہے اور وہ اپنا کام بخوبی انجام دے رہی ہے۔ دکھ تو اس بات کا ہے کہ پاکستان بطور ریاست اپنے وجود سے محبت کرنے والے ان جانثاروں کے لیے کیا کر رہا ہے جو یکے بعد دیگرے اس وطن کی شمع پر پروانہ وار فدا ہوئے جاتے ہیں۔ آج جب کئی حسینہ واجد کئی افراد کو قتل کر چکی ہے، ہمارے وزیرداخلہ صاحب نے ایک انگڑائی لی، معمولی سا داغا اور پھر محوِ خواب ہو گئے۔ ادھر ان کے اس ہلکے سے بیان پر بنگلہ دیش نے پاکستانی کے ہائی کمشنر کو دفترخارجہ طلب کرکے شدید احتجاج کیا، یعنی الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے۔ پاکستان کی طرف سے بنگلہ دیش کے اس احتجاج کے ردعمل میں بھی مکمل طور پر خاموشی ہے۔ جن نام نہاد انٹرنیشنل ٹربیونلز کے ذریعے حسینہ واجد پاکستان کے ان حامیوں کو ان کا قیام 2010ءمیں عمل میں لایا گیا۔ اس وقت ریاست پاکستان کیوں متحرک نہ ہوئی۔ مگر کیا کیجیے کہ اس وقت یہاں پیپلز پارٹی کی حکومت تھی اور ان کو صرف ایک ہی فکر لاحق تھی کہ زندگی میں یہ ایک غنیمت موقع حاصل ہو گیا ہے اور اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جتنا اپنی آئندہ نسلوں کا بھلا کر لیا جائے، بہتر ہے۔انہیں کیا پڑی تھی کہ بنگلہ دیش کے اس اقدام کا نوٹس تک لیتے۔ بنگلہ دیش اس بربریت کو اپنا اندرونی معاملہ قرار دے رہا ہے مگر اس کے ٹربیونلز کے نام میں موجود ”انٹرنیشنل“کے لفظ سے ہی واضح ہے کہ یہ بنگلہ دیش کا اندرونی معاملہ نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی معاملہ ہے۔ اس کے علاوہ 1973ءکے پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کا معاہدہ بھی ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے، جس کی بنگلہ دیش دھجیاں اڑا رہا ہے۔ دنیا میں کئی ایسے فورم ہیں جن پر ریاست پاکستان یہ معاملہ اٹھا سکتی ہے مگر ریاست پاکستان کے ناخداﺅں کی ترجیحات شاید کچھ اور ہیں۔ یہ ناخدا بھی شاید ان محبانِ پاکستان کی نسلوں کو باور کرانا چاہتے ہیں کہ پاکستان سے محبت کرو گے تو یہ انجام ہو گا۔ جن بنگلہ دیشی رہنماﺅں کو پھانسیاں ہوچکی ہیں یا ہونے والی ہیں وہ سب کے سب جماعت اسلامی کے رہنماءہیں مگر جماعت اسلامی پاکستان کی طرف سے بھی شعلہ بیانی کے سوا کچھ سامنے نہیں آ سکا۔ محترم سراج الحق صاحب! اس بیان بازی کے سوا کچھ عملی اقدامات بھی کیے ہوتے۔ آپ کے پاس بھی پارلیمنٹ سمیت کئی فورم موجود ہیں جہاں آپ حکومت کا ضمیر جگانے کے لیے اس پر دباﺅ ڈال سکتے ہیں مگرافسوس، آپ نے بھی وہی کیا جو ریاست پاکستان کے ناخدا کر رہے ہیں۔
حیران ہوتا ہوں کہ پاکستان دنیا بھر میں مہاجرین کو پناہ دینے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ ہم نے لاکھوں افغانیوں کو پناہ دے رکھی ہے، ان کے کھانے پینے ، رہنے اور پہننے کا انتظام کر رہے ہیں مگر وہ لاکھوں بنگالی، جنہوں نے 1971ءمیں اپنی پاکستانیت کا سودا نہ کیا اور بنگلہ دیش کو قبول کرنے سے انکار کر دیا، وہ آج بھی بنگلہ دیش میں موجود جنیوا کیمپوں میں دربدری کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ وہ بنگلہ دیشی اس لیے نہیں بن پائے کہ وہ بنگلہ دیشی بننا نہیں چاہتے اور وہ پاکستانی اس لیے نہیں رہے کہ ہم نے انہیں پاکستانی رہنے نہیں دیا۔صد حیف کہ ہم لاکھوں افغانیوں کو تو پناہ دے سکتے ہیں مگر اپنے ان محبت وطن بھائیوں کے لیے ہمارے پاس کوئی جگہ نہیں۔ تھر کے ویران صحرا میں ہی ایک نیا شہر بسا کر ان پاکستان کے جانثاروں کو وہاں لا کر آباد کر دیا جاتا، ان پاکستانیت تسلیم کر لی جاتی، اپنے روزوشب کا اہتمام وہ خود کر لیتے۔ مگر ان کے لیے شہر بسانے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے ہمارے دل میں ان کے لیے جگہ ہو، ان کی نسل در نسل قربانیوں کے صلے میں کم از کم ان کے لیے دل میں عزت ہی ہو۔ مگر یہاں ایسا کچھ نہیں ہے۔ میں کہنے پر مجبور ہوں کہ افغانیوں کو ہم نے اس لیے پناہ دے رکھی ہے کہ افغانیوں کو پناہ دینے پر پاکستان کے ناخداﺅں کو ڈالر ملتے ہیں مگر ان لٹے پٹے ”پاکستانیوں“ کو یہاں لانے، ان کی نسلوں کو دربدری سے بچانے اور ذلت سے نجات اور اپنی شناخت دلانے کے عوض ہمارے ان زرپرست رہنماﺅں کو کیا ملے گا؟ اسی کا سوال کا جواب ہی حقیقت ہے، باقی سب فسانہ۔