- الإعلانات -

ڈوبتی کشتی میں آخری چیخ و پکار

جسٹس(ر)جاوید اقبال کا نام بطور چیرمین نیب سامنے آیا تو لاپتہ افراد کا معاملہ ایک بار زیر بحث آنے لگا ہے۔یہ وہ معاملہ تھا جسے ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت بین الاقوامی ایشو بنانے کی کوشش کی گئی۔اس پلان کے فرنٹ مین ماما قدیر اور ان جیسیایک دو اور سماجی کارکن تھے جنہوں نے کمال ہوشیاری کے ساتھ پاکستان میں سب کو ماموں بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔اس کا صلہ ماما قدیر کو تو امریکہ وزٹ کی شکل میں ملا جہاں مودی کے ’’لے پالک ‘‘پہلے ہی پر تعیش زندگی گزار رہے ہیں۔جب بات کا بتنگڑ بننے لگا تو سپریم کورٹ کی طرف سے ایک کمیشن بنا دیا گیا جس کی سربراہی جسٹس (ر)جاوید اقبال کو سونپی گئی۔ اس کمیشن کے قیام کے بعد پیالی میں اٹھایا گیا طوفان جھاگ کی طرح بیٹھ گیا کیوں کہ جتنا شور مچایا گیا تھا حقائق اس کے برعکس نکلے۔اس کی گواہی گزشتہ روز لاپتہ افراد کمیشن کے سربراہ جسٹس (ر)جاوید اقبال نے ایک بار پھر دی ہے۔انکا کہنا ہے کہ بلوچستان میں لاپتہ افراد کے اعدادو شمار بڑھا چڑھا کر پیش کیے گئے اور اس حوالے سے ماما قدیر کی 25ہزار افراد کی فہرست جھوٹ پر مبنی ہے۔جسٹس (ر)جاوید اقبال نے یہ بات گزشتہ روز سینیٹر نسرین جلیل کی زیرصدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں کہی۔اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے چیئرمین نیب اور لاپتہ افراد کمیشن کے سربراہ جسٹس (ر)جاوید اقبال نے کہا کہ بلوچستان میں گمشدہ افراد کے اعدادوشمار کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کے علاوہ ماما قدیرکو بہت پروجیکٹ کیا جاتا ہے، میں ان سے خود ملا ہوں، ماما قدیر سے پوچھا کہ آپ نے 25ہزارافراد کا ذکر کیا ہے مجھے فہرست دے دیں مگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہا۔انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ کوئی ملکی ایجنسی نہیں جو کمیٹی میں پیش نہ ہوئی ہو،سب کو کھنگالا ہے۔بلوچستان میں غیر ریاستی عناصر اور غیر ملکی طاقتیں ملوث ہیں۔انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ لاپتہ افراد کے 218 کیسز اب بھی چل رہے ہیں جس میں بلوچستان کے صرف 15 کیسز کمیشن کے پاس ہیں۔کمیشن کے سربراہ نے گزشتہ برس دسمبر میں بھی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس قسم کے خیالات کا اظہار کیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ مسنگ پرسنز کی وجہ سے پوری دنیا میں پاکستان کا امیج متاثر ہوا ہے۔جرائم پیشہ افراد، عدالتی مفروروں، ملک چھوڑ کر باہر چلے جانے والے بعض قبائلی اور اپنی مرضی سے پاک افغان بارڈر پر قیام پذیر افراد کو بھی مسنگ پرسنز کی فہرست میں ڈال دیا گیا ہے، انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ بلوچستان میں ہزاروں افراد کے مسنگ کے دعوے تو ہیں لیکن جب ان افراد کا نام اور پتہ مانگا گیا تو وہ فراہم نہیں کیا گیا۔میں بلوچستان میں بہت عرصہ رہا ہوں وہاں سے 24000 افراد کو اٹھایا جانا آسان نہیں ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ مسنگ پرسن کے ایشو کو ’’رائی کا پہاڑ‘‘ بنانے میں بعض مہربانوں نے مودی کے بلوچستان بارے عزائم کی راہ ہموار کرنے میں اپنا اپنا حصہ بقدر جثہ ڈالا۔بلوچستان مودی کی خباثت کا اولین ٹارگٹ ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ بلوچستان اور نہیں تو کم از کم مقبوضہ کشمیر جیسی صورتحال ضرور اختیار کر جائے تاکہ پاکستان کو کشمیر سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا جا سکے۔اس ناکام کوشش کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کیلئے وہ ہر سال کروڑوں روپے پھونک رہا ہے۔کلبھوشن یادیو اس مشن کا سرغنہ تھا جو رنگے ہاتھوں پکڑاگیا۔بلوچستان پربھارت سہ جہتی حملے کررہا ہے۔ بیرون ملک سے براہمداخ بگٹی اور حربیار مری جیسے آلہ کاروں کے ذریعے حملے کروا رہا ہے تو اندرون ملک کبھی مسنگ پرسن کا معاملہ میڈیا کی بعض کالی بھیڑوں کے ذریعے بین الاقوامی ایشو بنوا کر پاکستان کی ساکھ خراب کرنے کی کوشش کرتا ہے جبکہ تیسری طرف سے سرحدوں کو غیر محفوظ بنانے کیلئے ایران سے الجھانے اور کبھی افغانستان سے مہم جوئی ہوتی ہے۔بلوچستان میں کچھ عرصہ قبل تک تو صورتحال خوفناک تھی مگر اب ایسا نہیں ہے۔اکا دکا واقعات ہو جاتے ہیں کیونکہ سازشوں کا سلسلہ ابھی ختم نہیں ہوا اور نہ ہی بھارت نے ہاتھ کھینچا ہے۔اسکی کچھ جھلکیاں حالیہ دنوں میں بیرون ملک دیکھی گئیں ہیں مگر اب ان کو وہ پذیرائی نہیں مل رہی خصوصاً میڈیا نے انہیں نظر انداز کرنا شروع کردیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ’’را‘‘ کے فنڈز سے چلنے والی کالعدم اور دہشت گرد تنظیم بی ایل اے نے میڈیا کو ایک بار پھر دھمکیاں دینا شروع کردی ہیں۔ابھی چند روز قبل 9اکتوبر کو بلوچستان لبریشن فرنٹ بی ایل اے نے ایک آن لائن اخبار اور سوشل میڈیا میں دھمکی آمیز پمفلٹ شائع کیا ہے جس میں میڈیا ہاؤسز اوراخبارات کو بیس دن کا الٹی میٹم دیا گیا ہے۔جس میں کہا گیا ہے کہ ہم دوسرے بلوچ مسلح تنظیموں کے ساتھ ملکر میڈیا ہاوسز کیخلاف ایک سخت پالیسی ترتیب دیں گے جس میں پہلی فرصت میں بلوچستان میں بھر میں اخبارات کی ترسیل روکنا اورالیکٹرک میڈیا کی بندش شامل ہیں۔پاکستانی فورسزکی آئے روزبربریت ، آپریشنز، گھروں میں گھس کر لوگوں کو اٹھا کر لاپتہ کرنا، سکول و عوامی مراکز پر چیک پوسٹیں بناکر عوام کو بلاوجہ تنگ کرنے کے باوجود میڈیا کی خاموشی پر ہم بلوچ عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اخبارات کا بائیکاٹ کرنے کے ساتھ ساتھ کیبل نیٹ ورک سمیت تمام الیکٹرونک و پرنٹ میڈیا کے بائیکاٹ کیلئے ذہنی طور پر تیار رہیں کیونکہ پاکستانی فوج و سول حکام کی طرح تمام میڈیا ہاوسز بلوچ نسل کشی اور بلوچستان میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے جرائم میں شامل ہو رہے ہیں۔یہی روش جاری رہی تو ہم سنگین قدم اٹھانے پر مجبور ہوں گے۔ تمام اخبارات، ہاکرز ،کیبل نیٹ ورک مالکان کو تنبیہ کی جاتی ہے کہ الٹی میٹم کے مکمل ہونے پر اپنی سروسز مکمل طور پربند کر کے بلوچ ہونے کا ثبوت دیں،بصورت دیگر وہ اپنے ہر طرح کی نقصان کے ذمہ دار ہونگے۔یہ دھمکی آمیز پمفلٹ بنیادی طور پر صحافت دشمنی اور بدترین بد معاشی کا کھلا ثبوت تو ہے ہی مگراس کا اصل رخ یہ ہے کہ ڈوبتی کشتی میں یہ آخری چیخ و پکار ہے۔ہمیں اپنے سکیورٹی اداروں سے قوی امید ہے کہ وہ اس کوشش کو بھی ناکام بنادیں گے۔