- الإعلانات -

پاکستان کے گرد منڈلاتے خطرات

پاکستانی فوج کے سپہ سالارجنرل قمرجاوید باجوہ نے دنیا کوصاف صاف بتادیا ہے کہ پاکستان کادشمن چھوٹاہویاوہ بڑاکسی قسم کی سنگین جارحیت پرا سے ناقابلِ تلافی نقصان اٹھانا پڑے گا یہ ہے اصل میں خاموشی کی زبان کا وہ بامعنی خلاصہ جس کی تفصیلات بیان کرنے کی پاکستان جیسے اہم ایشیائی اسٹرٹیجک ملک کواب کوئی ضرورت نہیں رہی، آئی ایس پی آرپاکستانی فوج کے ترجمان ادارے نے جتنا کہنا تھا کہہ دیا ان سمجھ داروں کیلئے پاکستانی فوج کے سربراہ کے موثر اور ٹھوس متنبہ بیان میں پاکستان کے دشمنوں کے سمجھنے کے لئے اور ان کے اپنے مفاد کے لئے بڑا خاصہ مواد موجودہے اگروہ ہوش مند ہونگے تو فائدہ بھی ان ہی کا ہوگا ملکی آرمی چیف کا یہمہذب طرزِ عمل خطہ میں مستقلاً امن کی ضمانت بن سکتا ہے پاکستان کی قومی اقتصادی حکمتِ عملیاں اور قومی سلامتی جیسے اہم اور حساس ایشوز باہم مشترک مسائل کو علیحدہ علیحدہ کرکے سمجھنے والے تاحال سنجیدگی سے سمجھنا نہیں چاہ رہے یا وہ جان بوجھ کر خود کو لاعلم رکھنا چاہتے ہیں اور یا وہ پاکستان کے گرد منڈلاتے خطرات سے صرفِ نظر پر اکتفا کرنے کے موڈ میں ہیں مگر ہمیں علم ہے کہ ایسوں کی تعداد ہمارے ملک میں بہت محدود ہے چاہے وہ ملکی عناصرہوں یاغیرملکی ہوں ملکی آرمی چیف نے بہرحال بہت ہی مہذبانہ اندازمیں مختصر ہی سہی مگرملکی سلامتی کے پیش نظر مدلل جزوئیات کویکجا کرکے خاص طور پر بھارت کی بگڑی ہوئی عسکری قیادت پرنام نہادسرجیکل سٹرائیک کے چڑھے ہوئے بخارکی تپش کوبرف کی مانند تقریبا ٹھنڈا ٹھارکردیا ہے ایک جانب امریکا دوسری طرف بھارت جوپاکستان جیسے اہم ملک کو مالدیپ یا بھوٹان جیسا کوئی نوآبادی ملک سمجھ کر دھمکیاں اور خوف زدہ کرنے کی اپنی پرانی اور گھسی پٹی فرسودہ دہشت پسندی کی عادات کو اب تک نجانے چھوڑنے پر آمادہ ہوتے کیوں نہیں دکھائی دیتے؟ مگر اس کی ایک وجہ ہماری جو سمجھ میں آتی ہے کہ پاکستان کی جانب سے ماضی میں کبھی بھارت کو اور اب تو امریکا کو بھی کسی اور قومی وآئینی سیاسی ادارے نے مسکت اور بروقت تسلی بخش جواب نہیں دیا اگر کبھی کوئی جراتمندانہ جواب دیا بھی گیا تووہ پاکستانی فوج کے سربراہ کی جانب سے ہی دیا گیا ہے جنرل قمرجاوید باجوہ کے انتہائی مسکت شافی ووافی حالیہ جواب سے یقیناًبھارت سمیت دنیا بھرکے ان حلقوں تک بھی پاکستانی عوام کی ترجمانی پر مبنی یہ پیغام برابر پہنچ چکا ہو گا کہ کل بھی بھارت کا یہ دعوی ایک دعوی ہی ثابت ہوا تھا، جس میں نئی دہلی نے پاکستان پرسرجیکل اسٹرائیک کرنے جیسی بچگانہ اور احمقانہ باتیں کرکے دنیاکو دھوکہ دینے اور خود کو علاقائی پہلوان ثابت کرنے کا بڑا ہی بے ہو دہ قسم کا پروپیگنڈا کیا تھا، گزشتہ ماہ ستمبر کی 29 تاریخ کو اپنے ایک برس قبل کے اسی جھوٹے اورمن گھڑت سرجیکل اسٹرائیک کے دعوی کی بھارت نے پہلی سالگرہ منائی؟ ماروں گھٹنا اور پھوٹے آنکھ کے مصداق جو بے بی کبھی پیدا ہواہی نہیں ہے اس کی سالگرہ مناتے ہوئے نئی دہلی کو کوئی حیا نہیں کوئی شرم مگر نہیں آئی، نئی دہلی کو سچ کا آئینہ دکھانے کیلئے ہم یہاں چند اعلی بھارتی عسکری ریٹائرڈ شخصیات جن میں لیفٹیننٹ جنرل(ر) ونود بٹیا، لیفٹیننٹ جنرل محمد مسعود اسلم، سابق سفارت کار زاہد حسین، انکت پانڈا، لیفٹیننٹ جنرل سید عطا حسنی (ریٹائرڈ)، لیفٹیننٹ جنرل(ر)ایچ ایس پینگ جوکہ شمالی کمانڈ اورجی اوسی کے مرکزی کمانڈررہ چکے ہیں جنہیں ان کی مرضی کے خلاف ریٹائرڈ کردیا گیا ہے۔ متذکرہ بالا عسکری وسفارتی شخصیات کے علاوہ دفاعی امور کی رپورٹنگ میں دسترس رکھنے والے بہت سے نامی گرامی بھارتی صحافیوں اور تجزیہ کاروں نے گزشتہ برس29 اور30 ستمبرکی درمیانی شب کو بھارتی فوج ہیڈکواٹرز کی طرف سے ملکی میڈیا کے چند منتخب صحافیوں کو مدعوکرکے انہیں جب یہ اطلاع دی گئی کہ بھارتی فوج نے لائن آف کنٹرول کراس کرکے پاکستانی سرزمین میں گھس کرکشمیری جنگجووں کے کیمپوں پرحملہ کرکے انہیں تباہ کردیا ہے؟ بین السطور جیسا بیان ہوا کہ یہی وہ اہم اور سلگتے سوالات ہیں جو اِن ریٹائرڈ عسکری سفارتی اورورکنگ صحافتی شعبہ کی شخصیات نے گزشتہ ماہ 29 ستمبرکوجب نئی دہلی حکومت نے اپنی نام نہاد سرجیکل اسٹرائیک کی پہلی سالگرہ منائی انہوں نے موجودہ بھارتی اعلی عسکری قیادت کے سامنے یہ تپتے سوالات اٹھائے تو اس تقریب میں موجود کسی بھی اعلی بھارتی فوجی حکام کے پاس اِن کے سوالات کا کوئی ایک تسلی بخش جواب نہیں تھا عسکری دنیا میں نمودونمائش اوراپنے آپ کودنیا کالاجواب اوربے مثال حرکتی طاقت کامنبع منوانے کیلئے سرجیکل سٹرائیک جیسا انتہائی اقدام واقعی ایک لائق تحسین اور جرات مندی کا مظہر قراردیا جاتا ہے ۔بھارتی فوج جو کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے ہاتھوں پر ہاتھ رکھے اپنی بیرکوں میں بیٹھی ہوئی ہے کئی برس گزر گئے بھارتی فوج کا دنیا کی کسی پیشہ ورلڑاکا فوج سے کبھی کوئی مقابلہ نہیں ہوا ،وہ کیسے اور کیوں کر پیشہ ورانہ حرکتی عسکری ہنرمندی کی ایسی کوئی جرات کرسکتی ہے؟ اور وہ بھی پاکستانی فوج کو للکارنے کیلئے جو فوج گزشتہ15-10 برس سے لگاتار اپنی مغربی بارڈر پر عالمی تربیتِ یافتہ خطرناک دہشت گردوں سے دوبدو مسلسل ایک جنگ میں مصروفِ عمل ہے اور جس جنگ میں پاکستانی فوج کے بہادر اور جانثار جوان اور اعلی افسران اپنی قیمتی جانوں کے نذرانوں پر نذرانے پیش کررہے ہیں یہ آسانی سے ہضم ہونے والی بات نہیں ہے بلکہ یہ بھارتی پروپیگنڈا مہم کا ایک حصہ تھا جسے نریندرامودی نے دیش کے عوام کو تسلی دینے کیلئے بطور ایک ڈرامہ کے عالمی اور دیش کے میڈیا پر پیش کیا تھا مودی کیا سمجھے گا کہ سرجیکل سٹرائیک کسی بھی ملک کی جغرافیائی سلامتی کیلئے ایک اہم حیثیت رکھتی ہیں جنابِ والہ! نام نہاد سرجیکل سٹرائیکس کے جھوٹے دعوی سے چند روز پیشتر پٹھان کوٹ ائیر بیس کا ڈرامہ ہوتا ہے چند دِنوں بعد اڑی حملہ کیس سامنے آجاتا ہے، پاکستان کی مشرقی بارڈرلائن آف کنٹرو ل مسلسل دشمن کی بلا اشتعال فائرنگ کی زد میں ہیں ایسے میں عقلیں یہ کیسے تسلیم کرلیں کہ پاکستانی فوج کسی اعتبار سے اِتنی گئی گزری ہونگی کہ وہ بھارتی فوج کی جانب سے ایسے انتہائی ناگفتہ بہ حالات میں اپنی آنکھیں بند کرلیں؟ 29 اور30 ستمبر کی بھارتی سرجیکل اسٹرائیک کی گہرائیوں کی جزوئیات کو سچ اور حقیقت کے قریب دیکھنے والے یہ سب کچھ ماننے پر بالکل تیار نہیں ہیں جن اعلی ریٹائرڈ بھارتی عسکری شخصیات کا اوپر تذکرہ کیا گیا ہے، ہمارا یہ زیر نظر تبصرہ ان ہی کے لکھے گئے عسکری مضامین کے مواد سے اخذ شدہ ہے لہٰذا اب چونکہ امریکا نے بھی براہِ راست بھارتی خوشنودی میں پاکستان کی قومی سلامتی اندرونی امن وامان کی صورتحال اور اقتصادی میدان میں بھی کو پاکستان کے لئے کئی نوع کے چیلنجز کھڑے کردئیے ہیں اِس کا مطلب یہ تو نہیں کہ پاکستان علاقے میں خاموش تماشائی بنا رہے ؟ مگر پاکستان پرپھربھی کوئی اثرنہیں پڑے گاپاکستان فوج بخوبی سمجھتی ہے کہ خطہ کو پرامن رکھنے کیلئے ہمہ وقت پاکستانی قوم اور فوج کو چوکس اور بیدار رہنا ہے دہشتگردوں کو جہاں سر اٹھانے نہیں دینا وہاں پاکستان کے چہارسو امڈتے ہوئے خطرات کا مقابلہ کرنے کیلئے طویل المدت عسکری حکمت عملیاں اپنانے کی حساس ضرورت سے یقیناًپاکستان فوج غافل نہیں پاکستانی فوج اپنے عوام کے دلی احساسات وجذبات کی دھڑکنوں سے بخوبی واقف ہے پاکستانی فوج کو اپنے دشمنوں کی اختیار کردہ حکمت عملیوں کو کیسے زائل کرنا ہے اور ملکی فوج کو برابر علم ہے اور سفارتکاری بھی عسکری حکمتِ عملی کا ایک اہم جزوکل بھی تھا اور آج بھی ہے، جس کا اندازہ لگانے والوں نے خود ہی اندازہ لگا لیا ہوگا کہ پاکستانی فوج کیلئے ملک کی سلامتی کو قائم دائم رکھنے کیلئے ایسے وہ کون سے بہت ہی خصوصی اقدامات ہیں جنہیں اٹھانے کا اب وقت آچکا ہے۔