- الإعلانات -

صدر محترم کچھ گنجائش نکالیں

  Asif-Mehmood

وزیر اعظم نے لبرلزم کا جو مطلع کہا تھا، جنابِ صدر نے اس پر ’ سود کی حلت ‘ کا مقطع کہہ دیا ہے۔معلوم نہیں غزل مکمل ہونے تک کتنے پیمانے چھلک جائیں۔
آنجناب ، عزت مآب صدرِ پاکستان قبلہ ممنون حسین صاحب بھی کمال کرتے ہیں۔آ پ کا صاحبِ کمال ہونا ایک مسلمہ امر ہے اور اس میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس پر مرزا اسد اللہ خان غالب کی گواہی موجود ہے :” جو لوگ کچھ نہیں کرتے کمال کرتے ہیں“۔۔۔ایوان صدر کی وسیع و عریض عمارت میں ’کمال ‘ کر کر کے اب لگتا ہے صاحب اکتا گئے ہیں اوراب عالی مرتبت نے کمال کی حدوں سے کچھ آگے بڑھ کر عزیز ہم وطنوں کو با قاعدہ گُد گُدانا شروع کر دیا ہے۔
ایک روز صاحب ذی وقار ایوان ِ صدر سے نکلے اور میٹرو پر سوار ہو گئے۔یہ تو معلوم نہیں ہو سکا کہ انہوں نے بوہڑ بازار میں ربڑی دودھ کے تاجروں سے باہمی دل چسپی کے امور پر تبادلہِ خیال بھی کیا یا ایسے ہی ” جھوٹا“ لے کر واپس آ گئے لیکن اگلے روز اخبارات میں اس ’ اچانک‘ ، ’نجی‘ اور ’ خفیہ‘ دورے کی باتصویر رپورٹنگ اتنے اہتمام سے شائع ہوئی کہ اچھے ضاصے غیر مقلد بھی آنجناب کے روحانی کمالات کے قائل ہو گئے۔ایک روز کراچی میں ایک پروفیسر قتل ہو گئے، تو صدر صاحب نے، غالبا یہ سوچ کر کہ وہ نواز شریف اور شہباز شریف سے پیچھے کیوں رہیں، ایک عدد ’ نوٹس‘ لے لیا۔میرے جیسا سادہ لوح گھنٹوں قانون کی کتابوں سے سر پٹختا رہا کہ ریاست کے سربراہ نے کس قانون کے تحت نوٹس لیا ہے۔ایک قتل ہوا، اب صدر صاحب نوٹس نہ بھی لیتے تب بھی تعزیرات ِ پاکستان کے تحت پولیس پابند تھی کہ حرکت میں آئے۔لیکن ہم جیسے عامیوں کو شاید اس راز سے آگہی نہیں کہ امورِ ریاست میں بسا اوقات کارروائی ڈالنا کتنا اہم ہوتا ہے۔چند ہفتے قبل جب جناب ِ صدر کمال کر کر کے بہت ہی اکتا گئے تو انہوں نے فرمایا:” میں کرپشن کے خلاف جہاد کر رہا ہوں قوم میرا ساتھ دے“۔آپ یقین کریں یہ اعلان ِ جہاد سن کر میرا ایمان تازہ ہو گیا اور میں نے ایوان صدر کوئی درجن بھر فون کیے لیکن کوئی مجھے سادہ سے دو سوالات کا جواب نہ دے سکا کہ صدر صاحب کرپشن کے خلاف جہاد کہاں کر رہے ہیںِ؟ان کا ساتھ کیسے دیا جا سکتا ہے؟خاصی تگ و دو کے بعد معلوم ہوا کہ نیب نے کرپشن کے خلاف شعور بیدار کرنے کے لیے ایوان ِ صدر میں ایک واک کا اہتمام کیا تھا۔جس میں سرکاری ملازمین کی بھاری تعداد شریک ہوئی۔اب یہ معلوم نہیں ہو رہا کہ نیب والے ایوانِ صدر میں واک کر کے کرپشن کے خلاف کس کا شعور بیدار کرنا چاہتے تھے۔مسلم لیگ ن اسلام آباد کے سیکرٹری جنرل ملک شجاع الرحمن اور وزیر اعظم لیگل ریفارمز سیل کے چیر مین اشرف گجر اپنے ہی ایک ایم این اے پر برس پڑے کہ وہ لینڈ مافیا ہے اور اس نے جرائم پیشہ افغانوں پر مشتمل ایک نجی فورس بنا رکھی ہے۔ابھی اس پریس کانفرنس کی بازگشت ختم نہیں ہوئی تھی کہ ایم این اے صاحب نے وزارت کا حلف اٹھا لیا۔جس روز انہوں نے حلف اٹھایا میرے جیسے لوگ اسلام آباد کی سڑکوں پر گھوم گھوم کر تھک گئے کہ کہیں صدر صاحب جہاد کرتے نظر آ جائیںتو ان کے ہاتھ ہی چوم لیے جائیں۔اب کہیں ملے تو عرض کروں گا: یہ جو کرپشن کے ساتھ آپ سب کر رہے ہیںکیا یہ جہاد ہوتا ہے۔
تازہ ترین ارشاد بھی پڑھ لیجیے۔اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئینی سربراہ نے علمائے کرام سے کہا ہے کہ وہ ہاﺅس بلڈنگ کے قرضے پر سود کی گنجائش پیدا کریں۔ان کا مطالبہ تھا: ” ہاﺅس بلڈنگ کے لیے سود کی ادائیگی کو جائز قرار دیا جائے“۔یہ خبر نہیں مل سکی کہ اس محفل میں علمائے کرام بھی موجود تھے یا نہیں اور اگر موجود تھے تو خاموش کیوں رہے؟ کیا سارے ہی پی ٹی وی سے آئے ہوئے تھے؟پی ٹی وی کے بارے میں ایک قصہ مشہور ہے کہ ایک زمانے میں جب یہاں ’‘ فرمانِ الہی‘ پروگرام ہوتا تھا ایک ’ عالم کرام‘ کو گفتگو کے لیے مدعو کیا گیا۔جب وہ چائے پی کر سٹوڈیو کی جانب چلے تو پروڈیوسر نے انہیں بتایا ” حضرت آج کا موضوع ہے سود اور قرآن“۔مولوی صاحب نے آدھے سٹوڈیو پر پھیلی توند پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا:” یہ بتائیے سود کے حق میں بولنا ہے یا مخالفت میں“۔اہلِ اقتدار کی چونکہ زیادہ راہ و رسم ایسے ہی ’ علمائے حق“ سے ہوتی ہے اسی لیے دین کے معاملے میں ان کی بے باکیاں بڑھتی جا رہی ہیں۔کبھی اعلان ہوتا ہے،” ہم دین کو مولوی پر نہیں چھوڑ سکتے آئندہ ہم قرآن کے چالیس کے چالیس پارے خود پڑھائیں گے“۔کبھی کہا جاتا ہے:” ملک کا مستقبل لبرلزم میں ہے“ تو کبھی اسلامی ریاست کا سربراہ علماءکو دین میں تحریف کا مشورہ سرِ عام دیتا ہے۔
جناب صدر ریاست کے سربراہ ہیں۔کیا انہیں خود معلوم ہے کہ ان کے اس مشورے کی حیثیت کیا ہے؟کیا ایوانِ صدر میں کوئی ایک بھی صاحب ِ علم نہ تھا کہ بات کرنے سے پہلے اس سے مشورہ ہی کر لیا جاتا؟یا کہیں سے حکم آیا تھا کہ مطلع پر مقطع ضرور کہا جائے؟صدر ریاست کا سربراہ اور آئین کا نگہبان ہوتا ہے۔ہمارا آئین اسلامی ہے۔صدر صاحب کو وقت ملے تو اس کے دیباچے اور آرٹیکل2(a) کا مطالعہ ضرور کر لیں۔دستور پاکستان ریاست کو پابند کرتا ہے کہ جلد از جلد سود ختم کرے۔قرآن میں اسے اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ سے کھلی جنگ قرار دیا گیا ہے۔ ابنِ ماجہ میں ایک صحیح حدیث کا مفہوم ہے کہ :” سود کا معمولی سے معمولی گناہ ایسے ہی ہے جیسے ماں سے زنا“۔اب اگر آپ ان احکامات سے بے نیاز ہونے کے اتنے ہی آرزومند ہیں تو علماءکی عاقبت کیوں خراب کرتے ہیں ایک صدارتی آرڈی ننس جاری کرلیں کہ میں صدرِ پاکستان سود کے اسلامی احکامات کو منسوخ کرتا ہوں۔( نعوذ باللہ)۔صدرِ ریاست کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ علماءکے پاس دین کی نصوص میں ترمیم کا کوئی اختیار نہیں۔صدر صاحب کو یہ غلط فہمی کب سے ہو گئی کہ علماءکو قرآن میں تحریف کا اختیار ہے۔اگر وہ اسے اجتہاد سمجھتے ہیں تو انہیں اجتہاد کے بارے میں مزید مطالعے کی ضرورت ہے۔اجتہاد کی کچھ شرائط اور حدودو قیود ہیں۔اسلام کا تو حسن ہی یہی ہے کہ یہ کسی عالم کی تشریح کا یرغمال نہیںہو سکتا۔اگر کوئی عالم غلط بات کرتا ہے تو اسے قرآن و سنت کی روشنی میں رد کیا جا سکتا ہے۔یہ اختیار یورپ میں کلیسا کو تو تھا کہ دین کی جو مرضی تعبیر کر دے چنانچہ دین کے نام پر کلیسا نے وہ کچھ متعارف کرا دیا کہ رد عمل میں معاشرہ سیکولر ہو گیا۔ہمارا تو مقدمہ ہی یہی ہے کہ اہلِ مذہب کی غلطی دین نہیں قرار دی جا سکتی۔وہ غلط بات کریں تو قرآن و سنت کی روشنی میں اس غلط بات کو ٹھکرا دیا جائے۔اس وقت بھی پاکستان کو ایک بڑا چیلنج ایسی ہی کچھ تعبیرات کا ہے۔لیکن اگر صدرِ محترم کا یہ اصول تسلیم کر لیا جائے کہ علمائے کرام حرام کا حلال قرار دے سکتے ہیں تو پھر تو یہ ایک نیا دین ایجاد کرنے والی بات ہے۔
ایسے مشورے دینے سے تو بہتر ہے صدر صاحب ایوانِ صدر میں مرزا غالب والا’ کمال‘ ہی کرتے رہیں۔۔سود کی گنجائش تو نکلنے سے رہی،آپ بہت فیاض ہوتے جا رہے ہیں،قومی خزانے سے اکسٹھ ہزار ڈالر آپ نے بیرونی دوروں پر بیروں تو ٹپ میں دے دیے۔آپ کی اہلیہ محترمہ نے دفترِ خارجہ کے بابوﺅں کی بیگمات کے لیے بنائے جانے والے کلب کو دس لاکھ روپے عنایت فرما دیے۔یہ غریب قوم ہے ،
جنابِ صدر آپ ہی رحم فرمائیں ، کچھ گنجائش نکالیں۔