- الإعلانات -

بلوچستان پر یس کو بی ایل ایف کی دھمکی؟

بھارتی خفیہ ایجنسی’را’بلوچستان میں بہت بْری طرح سے اپنی پے درپے ناکامیوں سے دوچارہورہی ہے’جس پرفی زمانہ وہ بہت ‘تپی’ ہوئی ہے’گوافغان علاقوں سے اْس کے بھیجے ہوئے مسلح دہشت گردبلوچستان کے علاقوں میں کوئی نہ کوئی خونریزکارروائیاں ڈالنے میں اور اپنی مذموم انسانیت کش سرگرمیاں یقیناًکہیں کرگزرتے ضرور ہیں، لیکن اِس کا یہ مطلب ہرگزنہیں کہ پاکستانی لاء اینڈ فورسمنٹ ایجنسیاں چوکس نہیں’ اب صورتحال بالکل بہت بدل چکی ہے ‘را’ کی انسپانسرڈ دہشت گرد کھلے عام بلوچستان میں جہاں چاہیں خون کی ہولیاں کھیلتے رہیں کوئی اْنہیں روکنے ٹوکنے والا نہ ہو’ آج کل ایسا بالکل نہیں ہورہا ،کل سے زیادہ ہر گزرتے ہوئے دن کے ساتھ بلوچستان کافی پْرامن ہوتاجارہا ہے’ بلوچستان میں بہت تیزرفتاری کے ساتھ میگا ترقیاتی منصوبوں کی پایہِ تکمیل کو پہنچنے والی قابلِ رشک تعمیرات نے پاکستان کے عالمی دشمنوں کی نیندیں اْڑادی ہیں امریکااوربھارت کو’گوادر پورٹ فنکشنل ہونے پرسخت ہزیمت کا ‘ازخود’ ہی سامنا کرناپڑرہا ہے’جبکہ بلوچستان میں جاری ‘سی پیک’ منصوبہ کسی ملک کے خلاف نہیں ہے’بلکہ یہ عظیم الشان اقتصادی راہداری کا منصوبہ خاص کربلوچستان کے عوام اورپاکستان بھر کے عوام کیلئے اُن کے مستقبل کومحفوظ ومستحکم اورخوشحال بنانے کیلئے چین اور پاکستان نے باہم مل کرشروع کیا ہوا ہے’ پاکستان چین اقتصادی راہداری کے اِس عظم منصوبے میں اب تودیگر کئی ایشیائی ممالک کی شرکت کے بھی قوی امکانات سامنے آنے لگے ہیں’ جلد دنیا خود دیکھ لے گی کہ مستقبل قریب میں بلوچستان میں خاص کراور پورے ملکِ پاکستان میں ‘پاکستانی سماج ترقی یافتہ’ دورمیں داخل ہونے کے قابل ہونے لگا ہے افسوس! یہی ترقیاتی خوشگوار منظر پاکستان کے ازلی دشمنوں کو ہضم نہیں ہورہا ہے اب تک اِس میگا منصوبے کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرنے کیلئے بھارت اور امریکا نے جتنی دشمنی کی چالیں چلیں اْنہیں ناکامی کا ہی منہ دیکھنا پڑا،بلوچستان کو ہمہ وقت امن وامان کے بحران میں گھرا ہوا رکھنے کیلئے ‘را’ نے آخری حدوں کو چھولیا ’ کلبھوشن یادیو‘ ایک اعلیٰ افسر کی زندگی کو داؤپرلگادیا،آج وہ پاکستان کی جیل میں اپنی موت کی سزا کے آخری دن گن رہا ہے’ دنیا بھر کے جاسوسوں کی یہی سزامعروف ہے جو اْسے پاکستان کی ملٹری کورٹ نے باقاعدہ مقدمہ چلا کر اور اْسے اپنے جرائم کی صفائی کے ہر ممکنہ مواقع فراہم کرکے سنائی ہے کلبھوشن یادیو کے پکڑے جانے کے بعد اْس بچھایا ہوا جاسوسی کا نیٹ ورک پاکستانی سیکورٹی فورسنزنے زمین بوس کردیا جس کی وجہ سے بلوچستان اب بالکل بدل گیا اکادکا کبھی کبھی بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں افغانستان میں قائم بھارتی کونصل خانوں میں رکھے گئے دہشت گردوں کا کوئی ایک جتھہ کہیں پر اپنی کوئی انسانیت کش کارروائی کرگزرتاہے اِس کا یہ مطلب بالکل نہیں کہ بلوچستان میں اب دہشت گردوں کو کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے نہیں بالکل نہیں’ہمارے سیکورٹی ادارے چوکس اور اپنی جگہ پر ثابت قدم ہیں ‘را’ اور ‘سی آئی اے’ کی ملی بھگت سے اب اْس پیمانے پر یکے بعد دیگرے دہشت گردی کی کارروائیاں یقیناًنہیں ہورہیں ،جو کبھی ماضی میں دیکھی اور سنی جاتی تھیں لیکن پاکستانی سیکورٹی اداروں کے پاس غیر ممالک میں پناہ گزین بلوچی قوم پرستی کی آڑ میں عالمی سطح پر پاکستان اور افواجِ پاکستان کو بدنام کرنے اور بلوچستان میں عدم استحکام پیدا کرنے جیسے مذموم اقدامات کا کسی فورم پر جواب دینے کی وہ فوری سہولت حاصل نہیں جو کسی بھی جمہوری حکومت کے مقتدرزعماؤں کے پاس ہوتی ہے ملکی فوج کے سدرن کمانڈ نے بلوچستان کی صوبائی حکومتوں کے باہم اشتراک سے صوبہ بھرمیں بلوچی عوام کی فلاح وبہبوداوراْن کی بنیادی انسانی ضروریات کیلئے سینکڑوں منصوبے اپنے محدود وسائل کو بروئےِ کار لاکر اْنہیں پایہِ تکمیل تک پہنچایا جس کی ایک طویل فہرست یہاں گنوائی نہیں جاسکتی لیکن بلوچستان کے ‘فلاحی منصوبوں کے نیٹ ورک’ پر دیکھی ضرور جاسکتی ہیں اب جبکہ بلوچستان کے عوام اْن نام نہاد ‘بلوچ قوم پرست’ متشدد تنظیموں کی طرف سے بالکل لاتعلق ہوچکے تو اْنہوں نے (غیر ممالک میں بیٹھے ہوئے عیش پرست نام نہاد بلوچ قوم پرستوں) کو اور اُن کی لسانیت پر مبنی متعصبانہ اور انسانیت کش سرگرمیوں سے اپنے آپ کو علیحدہ کرکے پاکستان کی وحدت اور عظمتوں کا پرچم اُٹھالیا ہے لیکن پھر بھی وہ باز نہیں آرہے چند روز پیشتر بلوچ قوم پرست تنظیم بی ایل ایف نے 9 اکتوبر2017 کو ‘ ایک روزنامہ ‘ میں بلوچستان کے میڈیا کو اپنی دہشت ووہشت کا نشانہ بناکر ایک زہریلا اشتہار شائع کیا ہے جس کا بروقت نوٹس نہ صرف بلوچستان کی صوبائی حکومت کو فوراً لینا چاہیئے بلکہ وفاقی حکومت کا بھی پہلا فرض بنتا ہے، چونکہ اِس اشتہار میں بلوچستان کے الیکٹرونک میڈیا کو بھی 20 روز کی وارننگ دی گئی ہے، غیر ممالک میں بیٹھے ہوئے پاکستان کے اِن دشمنوں کو فوراً آڑھے ہاتھوں اگر نہ لیا گیا تو بعد میں بہت مشکلات پیش آسکتی ہیں، روزنامہ کی 9 اکتوبر2017 کے اِس زہر اگلتے اشتہار کے الفاظ سلگتے ہوئے انگارے ہیں، ذر �آپ ملاحظہ فرمائیں، پاکستان کے ایک صوبہ کے مقامی پریس کو کیسے خوف زدہ کیا جارہا ہے، کل تک بلوچی عوام کو ہڑتالوں اور پاکستان مخالف مظاہروں پراکسانے والے اب کتنے بے بس اور لاچار نظرآتے ہیں، نام نہاد بلوچستان لبریشن فرنٹ(بی ایل ایف) اب اِس سطح پر آگئی ہے کہ وہ بلوچی عوام سے درخواستوں اور اپیلیں کرنے پر آگئی ہے کہ بلوچی عوام پاکستانی میڈیا اور پاکستانی اخبارات کا بائیکاٹ کردیں؟ کیاہماری موجودہ صوبائی اوروفاقی حکومتیں ‘را’ اور’سی آئی اے’ کی انسپانسرڈ کالعدم متشدد تنظیم بی ایل ایف کی اِس دھمکی کے سامنے سینہ سپر ہوگی بھی یا نہیں؟ بلوچستان کے مقامی اخبارات اور الیکٹرونک میڈیا ہاؤسنز بی ایل ایف کی جانب سے آنے والی اِس خوفزدہ دھمکی پر کیا اپنے اپنے میڈیا ہاؤسنز کو تالا لگادیں؟ اب تک صوبائی اور وفاقی حکومتوں نے بلوچستان کے آزاد پریس کے تحفظ کیلئے کیا اقدامات اْٹھائے ہیں ؟ کیونکہ بقول اْس زہر آلود اشتہار کے وہ کہتے ہیں کہ ‘اگر بلوچستان کے مقامی میڈیا نے پاکستانی فوج’آئی ایس آئی’ اور خالص پاکستانی نکتہ نگاہ رکھنے والی خبریں دینے کی اپنی حب الوطنی کی روش کو بند نہ کیا تو پھر ہم سنگین سے سنگین قدم اْٹھانے پرمجبور ہوں گے، بلوچستان بھرمیں تمام اخبارات ‘ ڈسٹربیوٹرز’سرکولیشن ذمہ داران،ہاکرز،کیبل نیٹ ورک مالکان اور ٹرانسپورٹرز کومتنبہ کیا جاتا ہے کہ 20 روزہ الٹی میٹم کے مکمل ہونے پراپنی سروسز مکمل طور پربند کر کے’’ بلوچ‘‘ ہونے کا ثبوت دیں؟بصورت دیگر وہ اپنے ہر طرح کے نقصان کے خود ذمہ دار ہونگے، کیا اب یہ سمجھ لیا جائے کہ پاکستان کی صوبائی اور وفاقی حکومت بی ایل ایف کے سامنے ہتھیار ڈال دے گی؟کسی بھی مستحکم جمہوری معاشرے میں ذرائعِ ابلاغ کے میڈیمزکو کسی بھی شدت پسند گروہ یا تنظیم کی جانب سے جب کبھی کوئی دھمکی دی جاتی ہے تو اِسے قابل تعزیر جرم گردانا جاتا ہے، پاکستان میں ایک جمہوری حکومت قائم ہے لہٰذاء بلوچستان کے مقامی آزاد پریس کا تحفظ کرنا اور بلوچی صحافیوں کو لاحق دہشت گردی کے خطرات سے محفوظ بنانے میں صوبائی اور وفاقی حکومتوں کو فوراً اپنا آئینی کردار ادا کرنے کیلئے میدانِ عمل میں آنا پڑے گا۔ہم امید کرتے ہیں کہ بلوچستان کے آزاد پریس کا تحفظ ہر صورت ممکن بنانے کیلئے فوری اقدامات اُٹھائے جائیں گے۔