- الإعلانات -

جمہوریت کو فوج سے کوئی خطرہ نہیں

ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جمہوریت کو فوج سے نہیں عوامی تقاضے پورے نہ ہونے سے خطرہ ہوگا ، میرا بیان ذاتی نہیں پوری فوج کا موقف ہوتا ہے ، اچھی سیکورٹی سے ہی معیشت اچھی ہوگی دنیا میں کوئی بھی ملک ایسا نہیں جہاں اداروں میں اختلاف رائے نہ ہو۔ فوج کوئی فیصلہ خود نہیں کرتی وزیراعظم کا اختیار چلتا ہے فیصلہ حاکم وقت کا ہوتا ہے فوج سویلین حکومت کے فیصلے پر عمل کرتی ہے، حکومت کے فیصلے کے بعد ہی آپریشن ردالفساد شروع کیا گیا، ٹیکنوکریٹ حکومت یا مارشل لا کا کوئی امکان نہیں آئین اور قانون سے بالاتر کچھ نہیں ہوگا، سویلین حکومت ہی آرمی چیف کا تقرر کرتی ہے، پنجاب میں رینجرز بھیجنے کا فیصلہ سویلین حکومت نے کیا، اس کے بعد رینجرز گئے سندھ حکومت ہر تین ماہ بعد رینجرز کے قیام میں توسیع کرتی ہے، رینجرز کے اختیارات میں اضافہ بھی صوبائی حکومت کرتی ہے، خیبر پی کے میں آپریشن راہ راست صوبائی حکومت کی منظوری کے بعد شروع کیا گیا، ہمیں جو کچھ کرنا ہے اپنے ملک کیلئے کرنا ہے۔ میں نے کبھی نہیں کہا کہ ملکی معیشت گر گئی ہے، میرے بیان پر وفاقی وزیر داخلہ کے بیان سے مجھے بطور سولجر اور پاکستانی مایوسی ہوئی ہے۔ دنیا میں ایسا کوئی ملک نہیں جس میں اداروں میں اختلاف رائے نہ ہوتا ہو، اظہار رائے ہر ایک کا حق ہے، جمہوریت کو پاک فوج سے کوئی خطرہ نہیں، ہماری طرف سے آرمی چیف کہہ چکے ہیں کہ جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں، جمہوریت کو خطرہ جمہوری تقاضے اور عوامی توقعات اور امنگیں پوری نہ ہونے سے ہوگا، اس وقت ہر چیر سویلین بالادستی میں چل رہی ہے۔ جب ملکی معیشت اچھی ہوگی تو سکیورٹی بھی اچھی ہوگی، کراچی میں اکانومی پر سیمینار اس لئے کرایا گیا تاکہ جس شہر میں طویل عرصہ بعد امن آیا ہے، ان کے صنعتکاروں اور تاجروں کو یہ اعتماد مل سکے کہ وہ محفوظ ماحول میں ہیں سیمینار میں سابق وزرائے خزانہ، سینیٹرز، تاجروں نے شرکت کی، آدھے بھرے اور آدھے خالی گلاس کی بات تو ٹھیک ہے لیکن کیا آدھا بھرا گلاس آدھا ہی رہنے دیں یایہ کوشش نہ ہو کہ اس میں کچھ اضافہ بھی ہو۔ مجھے وزیر داخلہ کے بیان پر میڈیا میں سیاسی جماعتوں کا ردعمل بھی آیا لیکن وزیر داخلہ کی جانب سے کہا گیا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے غیر ذمہ دارانہ بیان دیا۔ مضبوط ملک کیلئے سب کو ٹیکس ادا کرنا چاہئے۔ آرمی چیف نے سیمنار میں دو ٹوک کہا کہ سب کو اپنا ٹیکس ادا کرنا چاہئے، معیشت کے حوالے جو بات کی وہ کراچی میں سیمینار کا خلاصہ تھاسیمینار میں صرف چیلنجوں کی بات کی تھی ۔ افغان مہاجرین کا واپس جانا بہت ضروری ہے۔ امریکہ کے ساتھ سکیورٹی تعاون سے یہ مرحلہ بطریق احسن طے کیا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کے بیان کے 2 نکات پر بطور فوجی مایوس ہوا، میں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ صرف پاک فوج نے کام کیا۔ کوئی بھی ادارہ اکیلا کام نہیں کرسکتا، میں اپنے الفاظ پر قائم ہوں ، جو کچھ معیشت کے بارے میں کہا وہ سیمینار کا خلاصہ تھا۔ دنیا کا کوئی ملک ایسا نہیں جہاں اختلاف رائے نہ ہو، جب بھی بات پاکستان کی سکیورٹی کی ہو، ہم سب ایک ہیں۔ کاروباری برادری کے تحفظات دیکھنے ہوتے ہیں، ملکی معیشت قرضوں پر چلے گی تو ملکی سلامتی متاثر ہوگی۔ جمہوری نظام کے استحکام اور ہر قسم کے استحکام کے لئے حکومت کا چلنا ضروری ہے۔ پاکستان نے 8 سال میں سکیورٹی کیلئے بہتر اقدامات کئے اور ان اقدامات کے باعث اچھے نتائج بھی حاصل ہوئے۔ ملکی معیشت اچھی نہیں تو بری بھی نہیں کا مطلب ہے مزید بہتری کی ضرورت ہے۔ ریاست کے ادارے ہوتے ہیں، یہ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں۔ ہماری نظر میں درحقیقت جمہوری حکومت جمہور کے تقاضوں اور امنگوں کو پورا کرنے میں کماحقہ سرخرو نہیں ہوسکی جس سے زمام اقتدار پر براجماں اشرافیاں اور جمہوریت کے علمبرداروں کو ہر معاملے میں سازش کی بو آرہی ہے حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ آرمی چیف کی طرف سے واضح کردیا گیا ہے کہ فوج سے جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں، اب اس سازش کے ورد کو ختم ہو جانا چاہیے ، حکومت کا یہ فرض قرار پاتا ہے کہ وہ عوامی مسائل کی طرف توجہ دے اور معیشت کی بحالی کیلئے ٹھوس اقدامات کرے تاکہ بیرونی قرضوں پر انحصار نہ کرنا پڑے۔ ملک میں مہنگائی اور بیروزگاری کا خاتمہ حکومت کی ذمہ داری قرار پاتا ہے ، امن و امان قائم کرنا ، تعلیم و صحت کی سہولتیں بہم پہنچانا اور عوام کا معیار زندگی بلند کرنا بھی حکومت کا فرض ہے لیکن صد افسوس کہ آزادی کے سورج کو طلوع ہوئے 70 برس بیت گئے ابھی تک ہم مسائل کے گرداب سے نہیں نکل پائے اور نہ ہی علامہ اقبالؒ اور قائداعظمؒ کے خوابوں کی تعبیرہوپائی اور پاکستان جس نظریہ کے تحت معرض وجود میں آیا وہ نظریہ آج سوالیہ نشان بنا ہوا دکھائی دیتا ، اسلامی فلاحی ریاست کا قیام کب ہوگا یہ بھی سوالیہ نشان ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ خودانحصاری کی پالیسی پر گامزن ہو اور قدرتی وسائل کو استعمال میں لاتے ہوئے ایسی پالیسیاں مرتب کرے جس سے قرضوں سے چھٹکارا حاصل ہوسکے۔ اس وقت ملک کی گاڑی بیرونی قرضوں پر چلائی جارہی ہے جو لمحہ فکریہ ہے ۔ آرمی چیف کا سیمینار میں بیان دورس نتائج کا حامل ہے، حکومت کو سیخ پا ہونے کی بجائے اس پر سنجیدگی سے غوروفکر کرتے ہوئے معیشت میں بہتری لانے کے اقدامات کرنے چاہئیں۔اچھی معیشت سے ہی ملکی ترقی ممکن ہے کمزور معیشت سے مسائل کاادراک ممکن نہیں ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ معیشت کو مستحکم بنانے کیلئے ٹھوس اقدامات بروئے کارلائے تاکہ درپیش مسائل کاادراک ممکن ہو۔معاشی ترقی اسی وقت ممکن ہوگی جب ہماری معیشت مضبوط ہوگی معیشت پربیان بازی اورجواب الجواب کے بجائے سنجیدگی سے غوروفکرکرنے کی ضرورت ہے۔
لائن آف کنٹرول کی بھارتی خلاف ورزی
بھارتی فوج نے سیز فائر معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کرتے ہوئے نکیال سیکٹر کے گاؤں پر فائرنگ اور گولہ باری کی ، جس کے نتیجے میں 10سالہ بچی اور45سالہ شخص شدید زخمی ہوگئے۔ ایک تسلسل سے بھارتی فوج سرحدی قوانین کی خلاف ورزی کرتی چلی آرہی ہے پاکستان اس کیخلاف سراپا احتجاج ہے لیکن بھارت کی حکومت ٹس سے مس نہیں ہوپارہی اس بھارتی رویہ سے خطے میں تناؤ کی کیفیت پائی جاتی ہے، پاکستان صبروتحمل کا عملی مظاہرہ کرتا چلا آرہا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ پاک فوج بھارتی فوج سے مرعوب ہے۔ پاک فوج کسی بھی جارحیت کا دندان شکن جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ بھارت ایک طرف ’’را‘‘ کے ذریعے دہشت گردانہ کارروائیاں کروا کر پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے عزائم پر عمل پیرا ہے تو دوسری طرف مقبوضہ کشمیر میں نہتے شہریوں پر بربریت کے پہاڑ ڈھائے ہوئے ہے اور لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیاں بھی اس کا معمول بنتی جارہی ہیں۔ بھارت کوچاہیے کہ وہ پاکستان کی امن کاوشوں کو کمزوری نہ گردانے اور تمام متنازعہ مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالنے کی کوشش کرے ۔ بھارت مسئلہ کشمیر کو بھی سرد خانے میں ڈالے ہوئے ہے اور سلامتی کونسل کی منظور کردہ قراردادوں کو دیدہ دانستہ نظر انداز کررہا ہے جو عالمی برادری کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔ پاکستان آخر کب تک بھارتی دہشت گردانہ کارروائیوں پر صبرکا مظاہرہ کرتا رہے گا۔ خطے کے امن کیلئے ضروری ہے کہ بھارتی فوج لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی سے باز رہے ورنہ کسی بھی کشیدگی کی ذمہ دار بھارتی فوج ہی قرارپائے گی دنیا بھارتی عزائم کو بخوبی جانتی ہے، خطے کا پائیدار امن مسئلہ کشمیر کے حل سے ہی ممکن ہے۔