- الإعلانات -

زرعی ترقیاتی بنک اور اس کے ملازمین

پاکستان بنیادی طور ایک زرعی ملک ہے جس کی آبادی کی اکثریت دیہاتوں میں رہتی ہے اور پیشہ زراعت سے منسلک ہے جہاں ایک عدد زراعت کی وزارت بھی ہے ہے جو اس کا انتظام و انصرام دیکھتی ہے وقت کے ساتھ ساتھ زراعت بیلوں سے نکل کر ٹریکٹرز تک آ گئی وقت کے ساتھ نئی مشینیں اور زرعی آلات بھی متعارف ہوئے جس سے زرعی طریقوں میں جدت آئی نئی اور نقد آور فصلیں متعارف ہوئیں اجناس میں بہتری پیدا ہوئی اور پیداوار میں اضافہ ہوا لیکن یہ سب کچھ بیٹھے بٹھائے نہیں ہوا اس میں بڑا کردار ان فیلڈ میں جاکر مشاورت فراہم کرنے والوں کا ہے جنہوں نے گری اور سردی کی شدت برسات کے موسم میں بھی کسانوں کی مدد کو پہنچے کسانوں کی بہتری کے لئے بورڈ قائم کئے گئے تو اس کے ا عمال کسان تک پہنچے اورانہیں براہ راست مشاورت فراہم کی امداد باہمی کی انجمنیں بنائی گئیں تاکہ کسان باہمی مشاورت اور اور باہمی تعاون کر سکیں اس غرض سے کچھ ادارے قائم کئے گئے جس میں زرعی تجارتی کارپوریشن قائم کی گئی ساتھ ہی زرعی جامعات قائم کی گئیں زرعی تحقیق کے ادارے قائم کئے گئے 54.6 ارب روپے کے خطیر سرمائے سے زرعی ترقیاتی بنک قائم کیا گیا جو خوش آئند امر تھا اس بنک کے قیام کا مقصد چھوٹے کسانوں کو زرعی قرضے اور تکنیکی مشاورت فراہم کرنا تھا ابتدا میں یہ بنک کسانوں کے لئے نہایت مفید ثابت ہوا موبائل کریڈٹ آفیسر مقرر کئے گئے جو موقع پر جا کر کسانوں کو مالی معاونت اور مشاورت فراہم کرتے انہیں چھوٹے قرضے دئے جاتے اور ساتھ ہی جدید زرعی طریقوں سے آگاہی دی جاتی اس کے لئے کسان سپورٹ سروسز کے نام سے ادارہ قائم کیا گیا جو زرعی ترقیاتی بنک کا ذیلی ادارہ تھا جس میں ماہرین بھرتی کئے گئے جو کسانوں کو مشاورت اور سپورٹ فراہم کرتے اور یہ سلسلہ چل نکلا ادویہ ادارہ کسان کے لئے رہنمائی اور سہولت کا باعث بنا جن سے کسان نہ صرف خوش تھے بلکہ ان کی مشاورت اور رہنمائی سے مستفید ہوئے لیکن بھلا ہو ہماری سیاست کا کہ یہ ہر جگہ دخیل ہوتی ہے سو بنک کے امور میں بھی سیاست داخل ہوئی سیاسی اثر رسوخ کی بنا پر قرضے سیاسی اور غیر مستحق لوگوں کو فراہم کئے گئے جن کا مقصد ہی قرضہ لینا تھا اور ہڑپ کر جانا تھا اس طرح سے قرضوں کا بڑا حصہ ہڑپ کر لیا گیا زرعی بنک کو قرضے واپس نہ ملنے کے سبب خسارہ بڑھتا گیا کچھ قرضداروں کے معاملات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں ان مقدمات کا مقصد معاملات کو طول دینا ہوتا ہے تاکہ کچھ سالوں بعد نہ مدعی رہے نہ مدعا اور اس بیچ اگر کوئی سپورٹ کرنے والی سیاسی حکومت آگئی تو ستے خیراں چونکہ زرعی بنک بھی اسٹیٹ بنک کے سرمائے سے چلتا تھا جب یہ بنک قائم ہوا کل ملا کر 54.6 ارب روپے کا سرمایہ بنک کو فراہم کیا گیا اسٹیٹ بنک کے مارک اپ اور قرضیڈوبنے کی وجہ سے اب 90 ارب روپیہ زرعی بنک کی جانب سے اسٹیٹ بنک کو واپس کرنا ہیں بد عنوانی اور کرپشن کی وجہ سے بنک مکمل خسارے میں چلا گیا با اثر افراد کے اربوں روپے معاف کردئے گئے گئے اور اس کے انتظامی سربراہ بھی بطور سیاسی رشوت لگا ئے گئے سب سے زیادہ قرضے بنک کے صدر ذکا اشرف کے دور میں معاف کئے گئے اور ایک تخمینے کے مطابق 15 ارب روپے کے قرضے سیاسی بنیادوں پرمعاف کئے تھے جبکہ چھوٹے قرضداروں کے قرضے کی واپسی میں تاخیر پر انہیں جیل کی ہوا کھلائی جاتی رہی ہے آج بینک کی حالت بہت پتلی ہے موجودہ حکومت اس بینک کی ری اسٹرکچرنگ کرنا چاہتی ہے جو ان کو 2013 میں اقتدار سنبھالتے ہی کر دینی چاہئے تھی اس کے واجب الادا سرمائے کو ایکوئیٹی میں تبدیل کردیا جائے گا اور بینک اب بھی سیاسی اثر سے آزاد نہیں موجودہ چیئرمین بھی حکومتی خاندان کے قریب سمجھے جاتے ہیں اور آئندہ بھی وہی ہوگا جو اہل سیاست چاہیں گے اب اس بینک کی ڈاؤن سائزنگ کی بات کی جارہی ہے جس کا لا محالہ اثر چھوٹے ملازمین پر پڑے گا خاص طور پر اس کے ذیلی اداروں کے غیر مستقل ملازمین پر چھانٹی کی تلوار چلے گی جن میں سے کئی ملازمین کو ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصہ گزر چکا ہے انہیں نہ مستقل کیا گیا اور نہ انہیں کسی ترقی سے نوازا گیا ہے آج ان کے سروں پر برطرفی کی تلوار لٹک رہی ہے جو بہت سے خاندانوں کے معاشی قتل کے مترادف ہوگا ہماری حکومت پاکستان سے گزارش ہے کہ لوگوں کو بے روزگار کرنے کے بجائے اس بنک میں مناسب اصلاحی اقدامات اٹھا کر اسے منافع بخش بنایا جا سکتا ہے اور ان تجربہ کار ملازمین کی خدمات اور ان کے تجربے سے فائدہ اٹھا کر بنک کو منافع بخش ادارہ بنایا جا سکتا ہے چھوٹے ملازمین کو برطرف کرنے کی بجائے بڑے افسروں کی فوج کم کی جائے جن کی اکثریت کا میرٹ سفارش ہی رہا ہے ان کے مشاہرے اور دیگر مراعات پر جو اخراجات آتے ہیں اس سے کئی چھوٹے ملازمین کے گھروں کے چولھے چل سکتے ہیں یہی لوگ فیلڈ میں جاکر اصل خدمت کرنے والے لوگ ہیں اور جو اپنے کام میں بڑا تجربہ رکھتے ہیں چھوٹے اور غیر مستقل ملازمین کو نکالنا ایسا ہی ہے جیسے مسئلہ جڑ میں ہے اور آپ کونپلیں تراش رہے ہوں ہمیں امید ہے حکومتی پالیسی ساز اس انتظامی اور انسانی مسئلے پر ہمدردانہ غور فرمائیں گے تاکہ لوگوں کے چولھے نہ بجھیں اللہ ہم سب کو بہترین اور حق پر مبنی فیصلے کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔