- الإعلانات -

چیف جسٹس کا و یمن ججز کانفرنس سے فکر انگیز خطاب

چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے ویمن ججز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئین جنسی امتیاز کے بغیرہر شہری کو مساوی حقوق کی ضمانت دیتا ہے ، ملک میں قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں، ماڈل عدالتوں کا قیام اچھا آئیڈیا ہے ، عدلیہ میں صنفی امتیاز کا خاتمہ بھی اچھا اقدام ہے ، بطور جج ہم ہر شہری کو فوری اور معیاری انصاف فراہم کرنے کے پابند ہیں۔ انصاف کی فراہمی میں عجلت انصاف کو دفن کرنے کے مترادف ہے، ہم خوش قسمت ہیں کہ ہمارے پاس تحریری شکل میں آئین موجود ہے، کوئی بھی جج فیصلہ کرتے وقت قانون کو مد نظر رکھنے کا پابند ہوتا ہے۔ ہم ملک میں قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں اور جج کے لئے بھی ضروری ہے کہ وہ قانون سے آگاہ ہوں اور کسی جج کو غلط طریقے چلا کر فیصلہ دینے کا اختیار نہیں ہے۔کوئی بھی جج قانونی تقاضے پورے کیے بغیر فیصلہ نہیں سناتا، ججز فیصلہ کرتے وقت قانون کو مدنظر رکھنے کے پابند ہیں۔ جج کیلئے ضروری ہے کہ وہ قانون سے آگاہ ہوں، جج کو مقدمے سے متعلق قانون پرمکمل عبور ہونا چاہیے۔بطور جج ہم ہر شہری کو فوری اور معیاری انصاف فراہم کرنے کے پابند ہیں، ہمارا ہر قدم قانون کی حکمرانی کے لیے ہونا چاہیے اور انصاف کا معیار قانون کے مطابق رکھنا ہوگا۔ بطور جج ہمیں سائل کی مشکلات کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے جب کہ آئین جنسی امتیاز کے بغیر ہر شہری کو مساوی حقوق کی ضمانت دیتا ہے اور ایسا نظام وضع کرنے کی ضرورت ہے جہاں خاتون آسانی سے اپنا مسئلہ بتا سکے۔ جج عدالتوں کے ماحول میں بہتری کے لیے کردار ادا کرتے رہیں۔ ہم ملک میں قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں۔چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ نے کہا کہ پنجاب کی عدالتوں میں 12 لاکھ کیسز زیر سماعت ہیں، 4 ماہ میں 5 ہزار سے زائد ریفرنس دائر کیے گئے،2 ہزارسے زائد ریفرنسزنمٹا دیے گئے اور کامیابی سے اہداف حاصل کررہے ہیں۔چیف جسٹس نے جس تناظر میں بات کی ہے وہ بے کم وکاست ہے، قانون کی نظر میں سب برابر ہیں،ادنیٰ و اعلیٰ کیلئے ایک ہی قانون ہے جب ملک میں قانون کی بالادستی ہوگی وہاں انصاف کا بول بالا ہوگا اور عوام کو فوری انصاف ملتا دکھائی دے گا۔ اس وقت قوم کی نگاہیں عدلیہ پر لگی ہوئی ہیں اور عدلیہ جو فیصلے کررہی ہے وہ آئین و قانون کے مطابق ہیں ان فیصلوں پر حرف گیری ہماری نظر میں درست نہیں ہے، عدالتیں قانون کے مطابق فیصلہ کرتی ہیں اور انصاف کی فراہمی میں ان کا کردار لائق تحسین اور داد بیداد قرار پارہاہے۔ انصاف کا معیار جہاں قانون کے مطابق ہونا چاہیے وہاں نظریات قانون کی حکمرانی پر غالب نہیں آنے چاہیے تاکہ انصاف کی راہ میں رکاوٹ حائل نہ ہو۔ تمام شہریوں کے حقوق مساوی ہیں، عدالتیں زیر التواء مقدمات کو جلد نمٹا کر انصاف کی فراہمی کو یقینی بناسکتی ہیں۔ چیف جسٹس کا خطاب دوررس نتائج کا حامل ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان جس انداز میں قانون کو مد نظر رکھ کر فیصلے دے رہی ہے وہ تاریخ کے سنہری اوراق میں رقم ہونگے۔چیف جسٹس کا خطاب بڑی اہمیت کا حامل ہے اور فکرانگیز ہے۔ ماتحت عدالتوں کو چیف جسٹس کے اس پراثر خطاب سے استفادہ کرتے ہوئے عدالتی نظام کے سقم کو دور کرنا چاہیے فوری انصاف ہی وقت کی ضرورت ہے اور عوام کی نظریں عدلیہ پر ہیں۔ قانون کی حکمرانی اور بالا دستی سے ہی انصاف اور داد رسی ممکن ہے ۔ چیف جسٹس کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ کسی جج کو غلط طریقے چلا کر فیصلہ دینے کا اختیار نہیں ہے۔ قانون کا مطالعہ انتہائی ضروری ہے اور کوئی بھی جج قانونی تقاضے کیے بغیر فیصلہ نہیں سناتا چیف جسٹس نے جس انداز میں قانونی زاویوں کو مد نظر رکھتے ہوئے بات کی ہے وہ عدالتی نظام کیلئے بڑی اہمیت رکھتی ہے انصاف کی فراہمی میں عجلت درحقیقت انصاف کو دفن کرنے کے مترادف قرار پاتی ہے ۔ چیف جسٹس کا یہ کہنا درست ہے آئین اورقانون کے مطابق فیصلے ہی تاریخی فیصلے قرار پاتے ہیں۔
کرم ایجنسی، بارودی سرنگ دھماکہ
کرم ایجنسی میں بارودی مواد کے دھماکے کے نتیجہ میں کیپٹن سمیت 4 سیکورٹی اہلکار شہید اور 3زخمی ہوگئے۔ یہ دل خراش اور جانکاہ واقعہ علاقے حرلاچی کے آپریشن کے دوران بارودی مواد کے پھٹنے سے پیش آیا ۔ جام شہادت نوش کرنے والے فوجی جواں عظمت کے نشان کرم ایجنسی سے کینیڈین خاندان کی بازیابی کے بعد وہاں اغواء کاروں کی تلاش کیلئے سرچ آپریشن ٹیم کا حصہ تھے ان میں کیپٹن حسنین، سپاہی سعید باز، سپاہی قادر اور سپاہی جمعہ گل جبکہ زخمیوں میں نائیک انور، سپاہی ظاہر اور لانس نائیک شیر افضل شامل ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ مادر وطن پر اپنی جانیں قربان کرنے والوں کو سلام جو امن کی فضا قائم کرنے کیلئے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے ملک و قوم پر قربان ہوگئے خداوند کریم ان شہداء کے درجات بلند کرے ۔ پاک فوج کا یہ طرہ امتیاز ہے کہ یہ ایک طرف دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن جنگ لڑ رہی ہے تو دوسری طرف سرحدوں پر بھی اس کی کڑی نظر ہے ۔ دہشت گردی کی کارروائیوں میں پڑوسی ملک بھارت کا عمل دخل ہے اور یہ ’’ را‘‘ کے ذریعے دہشت گردی کروا رہا ہے اور پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے اور وہ اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کیلئے کوشاں ہے لیکن یہ اس دہشت گرد ملک کی بھول ہے پاک فوج دہشت گردی سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے اور اس کی کامیابی کارروائیوں کے نتیجہ میں دہشت گردوں کی آماجگاہیں اور ٹھکانے تباہ کردئیے گئے ہیں اورکئی علاقے ان سے واگزار کروا لے گئے ہیں آپریشن ضرب عضب کے بعد ردالفساد اپنے اہداف پورے کررہا ہے اور دہشت گرد اس طرح کی بزدلانہ کارروائیاں کررہے ہیں ۔ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پاک فوج کا کردار نہ صرف لائق ستائش ہے بلکہ اقوام عالم کیلئے قابل تقلید بھی ہے ۔ پاکستان بھارتی دہشت گردانہ کارروائیوں پر مسلسل سراپا احتجاج ہے لیکن بھارت ٹس سے مس نہیں ہورہا اور نہ ہی عالمی برادری بھارت جیسے دہشت گرد ملک کے خلاف کوئی کارروائی کررہی ہے پاکستان پرامن ملک ہے اور پائیدار امن کا خواہاں ہے افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانے خطے کے امن کیلئے خطرہ ہیں افغانستان حکومت کو چاہیے کہ وہ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے موثر اقدامات کرے ۔ ہماری نظر میں دوطرفہ مشترکہ حکمت عملی دہشت گردی کی روک تھام میں موثرثابت ہوسکتی ہے۔ پاکستان افغانستان کو مستحکم دیکھنے کا خواہاں ہے لیکن اس کی زمین کا پاکستان کیخلاف استعمال ہونا لمحہ فکریہ ہے۔ افغانستان میں ’’را‘‘ کی دہشت گردانہ سرگرمیاں طشت ازبام ہوچکی ہیں اب وقت آگیا ہے کہ افغان حکومت دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے کیلئے موثر کارروائی کرے ۔ پاکستان کا دہشت گردی کے خلاف کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ پاکستان کو کمزور کرنے کیلئے بیرونی ہاتھ ملوث ہے۔ مکار دشمن افراتفری اور بدامنی پھیلا کر اپنے مشن کی تکمیل کرنا چاہتا ہے لیکن ایسا ممکن نہیں۔ کرم ایجنسی کا واقعہ پاک فوج کے عزم کو متزلزل نہیں کرسکتا پاک فوج دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ کر دم لے گی دہشت گردی کا خاتمہ ہی ملکی ترقی و خوشحالی کا باعث بنے گا۔ دہشت گرد ملک و قوم کے دشمن ہیں ان کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے پاک فوج کا کردار تاریخ کے سنہری اوراق میں لکھا جائے گا۔کرم ایجنسی کا حالیہ واقعہ پاک فوج کے عزم کو متزلزل نہیں کرسکتا پاک فوج دہشت گردی کوجڑ سے اکھاڑنے کیلئے آخری حد تک جائے گی۔