- الإعلانات -

بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی ایک بار پھر زیر عتاب!

بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی جس ابتلا و آزمایش سے گزررہی ہے وہ سب کے سامنے ہے ۔ عوامی لیگ خود دہشت گردانہ کارروائیاں کرکے، ان جرائم کا الزام جماعت اسلامی پر دھر رہی ہے۔ بنگلہ دیش میں فی الواقع جماعت اسلامی ہی وہ منظم قوت ہے، جو بھارت کی بڑھتی ہوئی دھونس اور مداخلت کو روکنے میں اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ بھارت نے بنگالی صحافیوں، سیاست دانوں، قلم کاروں کو خرید رکھا ہے، لیکن وہ جماعت اسلامی کو خریدنے میں ناکام رہا ہے۔چند روز قبل بنگلا دیش کی عدالت نے امیر جماعت اسلامی سمیت 9 اعلیٰ رہنماوں کو 10 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔
بنگلا دیش کے دارالحکومت ڈھاکا میں پولیس نے ایک مکان پر چھاپا مارکر تخریب کاری کی منصوبہ بندی کے الزام میں امیر جماعت اسلامی مقبول احمد سمیت 9 اعلیٰ رہنماؤں کو گرفتار کیا جن میں جماعت کے سیکرٹری جنرل شفیق الرحمان، نائب امیر اور سابق رکن پارلیمنٹ میاں غلام پرور، چٹاگانگ جماعت کے سربراہ شاہ جہاں، مقامی سیکرٹری جنرل نذر الاسلام اور ظفر صدیق شامل ہیں۔جماعت اسلامی کی قیادت کے خلاف ہندو تہوار درگا پوجا اور عاشورہ کے موقع پر انتشار پھیلانے اور حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کرنے کے الزامات میں دو مقدمات درج کیے گئے۔ پولیس کی درخواست پر عدالت نے جماعت اسلامی کے رہنماؤں کو 10 روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔جماعت اسلامی نے الزامات کی تردید کر تے ہوئے کہا کہ اس کی قیادت غیر رسمی ملاقات کررہی تھی کہ پولیس نے اچانک چھاپہ مار کر انہیں گرفتار کرلیا۔ جماعت کے رہنما مجیب الرحمن نے گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جنگی جرائم کے مقدمات میں اعلیٰ رہنماؤں کو پھانسیاں دینے کے بعد اب جماعت کو قیادت سے محروم کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔ حکومت محض اپنے اقتدار کو طول دینے کیلئے ہمارے بے گناہ رہنماؤں اور کارکنوں کو گرفتار کررہی ہے۔ حقیقت میں روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ رویے پراندرونی و بیرونی دباؤ کا شکار بنگلہ دیشی حکومت نے ملک کی سب سے بڑی اسلام پسند جماعت کے رہنماؤں کو گرفتار کیا ۔ جماعت اسلامی اور دیگر مذہبی جماعتیں روہنگیا مسلمانوں کی مدد میں بھی پیش پیش ہیں اور حکومتی رویے پر ڈھاکا کو شدید تنقید کا نشانہ بنارہی ہیں۔
یہ گرفتاریاں ایک ایسے موقع پر ہوئی ہیں جب روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ بنگلہ دیشی حکومت کے رویے پر اسے شدید تنقید کا سامنا ہے اور بظاہر ڈھاکا حکومت نے اپوزیشن جماعتوں کیخلاف کریک ڈاؤن شروع کردیا ہے۔ ایک مقامی عدالت نے حزب اختلاف کی مرکزی جماعت کی سربراہ خالدہ ضیاء کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کئے۔ یہ وارنٹ بم دھماکے سے متعلق ایک کیس میں پیش نہ ہونے پر جاری کئے گئے۔خالدہ ضیاء گزشتہ دو ماہ سے اپنے جلا وطن بیٹے سے ملنے کیلئے لندن میں ہیں اور رواں ماہ کے آخر میں ان کی واپسی متوقع ہے۔ جماعت اسلامی کے سربراہ مقبول احمد گزشتہ برس اکتوبر میں امارت پر فائز ہونے کے بعد سے کسی عوامی یا سیاسی تقریب میں منظر عام پر نہیں آئے تھے۔ انہیں سابق امیر مطیع الرحمٰن نظامی کو پھانسی دیے جانے کے بعد امیر منتخب کیا گیا تھا۔ مطیع الرحمٰن نظامی کو 1971 میں پاکستان کا ساتھ دینے کی پاداش میں شہید کردیا گیا تھا۔ غدار مجیب الرحمن کی بیٹی اسلام و پاکستان سے محبت رکھنے والوں کو چن چن کر سزائیں دلوا رہی ہے۔ بنگلہ دیش میں نظریہ پاکستان ایک بار پھر بیدار ہو رہا ہے اور مضبوط تحریک کھڑی ہو رہی ہے۔ اسی سے خوفزدہ ہو کر بھارتی اشاروں پرپھانسیوں کی سزائیں سنا ئی جارہی ہیں۔بنگلہ دیش میں جن قائدین کو پھانسیوں کی سزائیں سنائی جارہی ہیں ان کا جرم صرف یہ تھا کہ جب بھارت نے اگر تلہ سازش کے تحت مجیب الرحمن جیسے غداروں کو کھڑ اکیااور مشرقی پاکستان پر باقاعدہ فوج کشی کی تو ان بزرگوں نے دفاع پاکستان کیلئے پاک فوج کے ساتھ مل کر بھارتی فوج کا مقابلہ کیاتھا۔ آج بنگلہ دیش پر اسی مجیب الرحمن کی بیٹی کی حکومت ہے جو اپنے باپ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے پاکستان کا نام لینے والوں کو جیلوں میں ڈال رہی ہے اوربھارت کی ہمنوا بن کر انہیں پھانسیاں دی جارہی ہیں۔پہلے عبدالقادرملا کو پھانسی دی گئی‘ پھر مولانا غلام اعظم کو پھانسی کی سزا سنائی گئی جو جیل میں وفات پاگئے۔پھر مولانا مطیع الرحمن کو پھانسی کی سزا سنا دی گئی ۔ یہ انتہائی تکلیف دہ امر ہے‘ حکومت پاکستان کو اس مسئلہ پر ہر فورم پر آواز بلند کرنے کا فریضہ سرانجام دینا چاہیے وگرنہ اس سے مایوسیاں پھیلیں گی۔ بنگلہ دیش جماعت اسلامی درحقیقت اْس نام نہاد ’امن کی آشا‘ کے سامنے ایک آہنی چٹان ہے، جسے ڈھانے کے لیے برہمنوں ، سیکولرسٹوں اور علاقائی قوم پرستوں کے اتحادِ شرانگیز نے ہمہ پہلو کام کیا ہے۔ بھارتی کانگریس کے لیڈر سابق وزیراعظم من موہن سنگھ نے بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کو بے دست وپا کرنے، مولانا مودودی کی کتابوں پر پابندی عائد کرنے اور دو قومی نظریے کی حامی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کو دیوارسے لگانے کے لیے حسینہ واجد حکومت کی بھرپور سرپرستی کی۔ دوسری جانب خود بھارت میں مسلم نوجوانوں کو جیل خانوں اور عقوبت کدوں میں سالہا سال تک بغیر کسی جواز اور عدالتی کارروائی کے ڈال دینے کا ایک مکروہ دھندا جاری رکھا ہے۔ افسوس کہ پاکستانی اخبارات و ذرائع ابلاغ اس باب میں خاموش ہیں۔ عوامی لیگ، حسینہ واجد اور ان کے ساتھیوں کی حیثیت محض ایک بھارتی گماشتہ ٹولے کی سی ہے۔ جسے بنگلہ دیش کے مفادات سے زیادہ بھارتی حکومت کی فکرمندی کا احساس دامن گیر ہے۔ گذشتہ تین برسوں پر پھیلے ہوئے عوامی لیگی انتقام کو پاکستانی سیکولر طبقے 1971ء کے واقعات سے منسوب کرتے ہیں حالانکہ بدنیتی پر مبنی اس یلغار کا تعلق حالیہ بھارتی پالیسی سے ہے۔ وہ پالیسی کہ جس کے تحت بھارت اپنے ہمسایہ ممالک میں نوآبادیاتی فکر اور معاشی و سیاسی بالادستی کو مسلط کرنا چاہتا ہے۔ بنگلہ دیش کی حکومت یہ کام کھل کر ، کررہی ہے ۔