- الإعلانات -

’را‘ کی زیر سرپرستی آزاد بلوچستان مہم

بلوچستان کی جغرافیائی اہمیت کے لحاظ سے یہ علاقہ چونکہ انتہائی اہم نوعیت کا حامل ہے لہٰذا امریکی سی آئی اے، را اور موساد کا مشترکہ پلان طویل عرصہ سے اس علاقے کو ٹارگٹ کئے ہوئے ہے۔ افغانستان کے دارالحکومت کابل میں گرین زون کے ایریا میں بھارتی سفارتی مشن کی نگرانی میں بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کا منظم نیٹ ورک سرگرم عمل ہے جوکہ بلوچستان میں تخریبی کارروائیوں اور دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث عناصر کو بھاری اسلحہ اور سرمایہ کی فراہمی کے علاوہ بلوچستان کے علیحدگی پسند بلوچ نوجوانوں کو تربیت بھی دے رہا ہے۔ بھارت اور افغانستان میں تربیتی کیمپ جنکی سرپرستی بھارتی افواج کے افسران کر رہے ہیں۔ وہ بلوچ نوجوانوں کو بھارت اور برطانیہ کے علاوہ امریکہ کے دوروں میں بھی مکمل طور پر تمام طرح کی سہولتیں فراہم کر رہے ہیں۔اس امر کا انکشاف بھی ہوا کہ خفیہ ہاتھ بلوچستان میں مداخلت کر کے امن و امان کی صورت حال بگاڑنے اور بلوچ نوجوانوں کو پاکستان کے خلاف ابھارنے میں سرگرم ہیں۔ لیکن بلوچستان میں فوجی آپریشن کے بعد بلوچ نوجوانوں کا بیرون ملک جا کر پاکستان دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہو جانا ملک کی سلامتی کے لئے خطرے کا باعث بنتا جا رہا ہے۔ خاص طور پر برطانیہ میں مقیم بلوچ علیحدگی پسندوں کا ایک گروپ پاکستان دشمن پروپیگنڈے پر مبنی زہر آلود لٹریچر بھی تقسیم کر رہا ہے۔فری بلوچستان موومنٹ کے زیر اہتمام جرمنی کے شہر گٹنگن میں چین کے نشنل ڈے کے موقع پر احتجاجی ریلی نکالی گئی اور شہر کے ریلوے اسٹیشن کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ نابل گٹگن سے احتجاجی ریلی نکالی گئی جو شہر کے سڑکوں سے ہوتی ہوئی ریلوے اسٹیشن کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کی شکل اختیار کیا۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن میں بلوچستان پر پاکستانی مظالم اور نام نہاد پاکستان چین اکنامک کوریڈور کے خلاف نعرہ درج تھے۔ اس موقع پر ہزاروں کی تعداد میں پمفلٹ تقسیم کیے گئے۔ احتجاجی مظاہرے سے فری بلوچستان موومنٹ کے رہنما سمیر بلوچ۔فتح بلوچ کرد رہنما عاقی کرد جرمن ایکٹوسٹ ٹینا اسٹفن نے خطاب کرتے ہوئے ہوئے کہا کہ اس وقت بلوچستان میں پاکستان کا بدترین جبر و تشدد جاری ہے اور بلوچستان میں میڈیا مکمل بلیک آوٹ ہے جہاں روزانہ کی بنیاد پر آپریشن کیا جارہا ہے۔پاکستان بلوچ قومی تحریک آزادی کو کچلنے کے لیے بلوچستان میں بنگلہ دیش طرز کا آپریشن نسل کشی شروع کر رکھا ہے اور چین اس خونی آپریشن اور بلوچ قومی نسل کشی میں پاکستان کے ساتھ ساتھ ہے۔ گوادر پورٹ اکنامک کوریڈور کے نام نہاد منصوبہ کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے بلوچستان میں بلوچ آبادیوں پر بمبار منٹ اور بدترین فوجی آپریشن کیا جارہا ہے۔ جرمن عوام سے اپیل کی گئی وہ اپنے نمائندوں پر زور دیں کے وہ بلوچستان کے مسائل کو اپنے پارلیمنٹ اٹھائیں اور مہذب دنیا پاکستانی مظالم کا نوٹس لے۔ فری بلوچستان موومنٹ کے احتجاج میں جرمن ایکٹوسٹ اور بلوچ آزادی پسند تنظیموں بلوچ نشنل موومنٹ اور بلوچ ریپبلکن پارٹی کے کارکنوں نے شرکت کی۔ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد لندن زون نے 10 ڈوننگ اسٹریٹ پر برطانوی وزیر اعظم کے گھر کے سامنے احتجاجی مظاہرے کا انعقاد کیا۔ یہ احتجاجی مظاہرہ بلوچستان میں جاری فوجی آپریشنوں، جبری گمشدگیوں اور لاپتہ افراد کے مسخ شدہ لاشوں کے برآمدگی کے خلاف منعقد کیا گیا۔ گو کہ حکومت برطانیہ اور لندن انتظامیہ کی طرف سے اس مظاہرے کا کوئی خاص نوٹس نہیں لیا گیا مگر یہ پاکستان کی سالمیت اور یکجہتی کے خلاف بہت بڑی بھارتی سازش ہے۔ ایک طویل عرصے بعد یورپ کے مرکزی ممالک میں آزاد بلوچستان کی باتیں ہونے لگی ہیں۔ جس سے ظاہر ہے پاکستانی حکام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اس سلسلے کا آغاز سوئٹزرلینڈ سے ہوا جہاں آزاد بلوچستان کی تشہیری مہم شروع کی گئی ۔ سوئٹزرلینڈ کے مختلف شہروں میں آزاد بلوچستان کے بینر آویزاں کیے گئے جس میں بلوچستان میں ہونے والی نام نہاد انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو نمایاں کیا گیا ہے۔ یہ مہم اب برطانیہ اور لندن میں بھی دیکھی جا رہی ہے۔ لندن میں فری بلوچستان موومنٹ کے زیراہتمام مظاہرہ بھی کیا گیا۔جس میں ریاست کی جانب سے بلوچستان میں بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پہ شدید تنقید کی گئی۔ پاکستانی حکام نے اس تشہیری مہم پہ اظہارِتشویش کرتے ہوئے اسے پاکستان کی سالمیت پر حملہ قرار دیا۔ سوئٹرز لینڈ کے سفیر کو بلا کر سفارتی سطح پر احتجاج کیا گیا۔ ان سے مطالبہ کیا گیا کہ عوامی مقامات پہ آویزاں اس نوعیت کے بینرز فوری طور پر اتار لیے جائیں۔ یورپ میں اچانک برآمد ہونے والی آزاد بلوچستان کی تشہیری مہم پاکستان پہ ڈالے جانے والے عالمی دباؤ کا سلسلہ ہے۔جس کے ذریعے سے دہشت گرد تنظیموں، گروہوں اور افراد کے خلاف کارروائی کروانا مقصود ہے۔ سوئٹزرلینڈ میں آزاد بلوچستان سے متعلق مہم بھارتی خفیہ ادارے کی پشت پناہی پر ایک این جی او کی جانب سے چلائے جانے کا انکشاف ہوا ہے جبکہ براہمداغ بگٹی سمیت دیگر پاکستان مخالف لابیوں کو بھی مہم میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ بھارت میں ’’را ‘‘ کے تحت چلنے والے 3 چینلز 24 گھنٹے بلوچستان کیخلاف پروپیگنڈا کرنے میں مصروف ہیں ۔ بھارتی یو این سلامی کونسل میں آزاد بلوچستان کے حق میں قرار داد لانے کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ منظم سازش کے تحت اس دوران یو این کے باہر مظاہرے کرائے جا رہے ہیں اور یو این کے اندر اور باہر شوروغوغا کیا جا رہا ہے۔ بھارت نے یو این میں ایک قرار داد پیش کی جس میں بلوچستان میں انسانی حقوق کے حوالے سے پاکستان پر الزامات لگائے گئے ۔ یوں بلوچستان کی جلا وطن حکومت کا اعلان کیا جانے والا ہے۔ امریکہ اس منصوبے کو مالی معاونت فراہم کر رہا ہے لاکھوں ڈالر باغی بلوچ لیڈروں پر نچھاور کر رہا ہے۔پاکستان کے دشمن تو اپنی سازشوں میں مصروف ہیں لیکن اپنے فارن آفس کی نااہلی اور کارکردگی دیکھ کر خون کھول اٹھتا ہے۔ بھارت نے یو این میں قرار داد پیش کر دی لیکن فارن آفس سے ایک بیان تک نہ آیا کسی ٹی وی چینل نے اس پر بات تک نہ کی۔ جلاوطن حکومت کا اعلان اتنا آسان نہیں ہے اس کیلئے یو این کا مشن اسی مقام پر باقاعدہ جاتا ہے اور زمینی حقائق کا جائزہ لیتا ہے۔ اس حوالے سے ہماری خوش قسمتی ہے کہ بلوچستان میں ایسے حالات نہیں ہیں۔ باغی ٹولہ تو 2 ہزار بندے بھی اکٹھے نہیں کر سکتا۔ اس سے پاکستان کا کیس مضبوط ہوتا ہے تاہم ہمیں آنکھیں کھولنے کی ضرورت ہے۔ بھارت پاکستان کے خلاف دنیا میں پروپیگنڈا کر دیا ہے۔ بلوچستان کے خلاف سازشیں کرنے میں مصروف ہے۔ باہر ایک تنظیم فرینڈز آف بلوچستان کے نام سے قائم کی گئی ہے جو کھلے عام کام کر رہی ہے۔ پاکستانی ایجنسیوں کے خلاف پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ 1500 افراد کو مار کر لاشیں غائب کر دی گئیں۔ ہزاروں بلوچ بے گھر کر دیئے۔ اسی طرح کی کہانیاں باہر کے ممالک میں مشہور کی جا رہی ہیں اور ہمارا دفتر خارجہ بلی کو دیکھ کر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کئے بیٹھا ہے۔کچھ عرصہ سے کوشش جا رہی ہے کہ افغانستان ، ایران ، بلوچستان کے بارڈر پر چند مربع میل علاقہ حاصل کر کے آزاد بلوچستان کا نام دیا جائے جسے ناکام بنانے پر پاک فوج کو سلیوٹ پیش کرتا ہوں جس نے ایک انچ زمین بھی ان لوگوں کو حاصل نہیں کرنے دی۔ پاک فوج اور ایف سی صوبے میں امن و امان کے قیام اور استحکا م کیلئے اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کے کردار کو پوری دنیا سراہ رہی ہے۔پاک فوج سی پیک سمیت ترقی کے منصوبوں کی تکمیل اور انکی حفاظت کیلئے کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ بلوچ حب الوطن قوم ہے۔ آج پا کستان اس لئے بھی محفوظ ہے کیونکہ اسکے دفاع کیلئے فوج کے سا تھ ساتھ 20کروڑ عوام بھی متحد ہیں۔