- الإعلانات -

میانمر مسلم خونریز فسادات کے پس منظر میں۔’’را‘‘ ملوث

ماضی کا’برما’ آج کے’میانمر’کا کبھی شہرہ ہواکرتا تھا تاریخی اعتبار سے یہی ہے وہ ریاست ‘جس کے د ارلحکومت رنگون میں تاجدارِ ہند کے آخری فرمانروا بہادرشاہ ظفر کو انگریزوں نے قید کردیا تھا’جہاں قید کے زمانے میں نہایت ہی کسمپرسی کی حالت میں اْن کی وفات ہوئی’ بہادر شاہ ظفرمرحوم کامقبرہ رنگون میں ہی ہے’دنیا بھرکے سیاحوں کی ٹولیاں میانمرکے دل کش اورقدرتی مناظرکواپنی آنکھوں سے دیکھنے کی خاطربڑی تعداد میں یہاں آتے ہیں میانمرجنوب مشرقی ایشیا کی سرحد پرواقع ایک آزاد اورخود مختار ریاست ہے جس کی سرحدیں بنگلہ دیش’ بھارت ‘چین’لاؤس اورتھائی لینڈ سے ملتی ہیں ایک ہزارنوسوتیس کلومیٹرجوکہ ایک ہزار200 میل کے قریب رقبہ بنتا ہے یہ میانمر کا جغرافیائی حدوداربع ہے خلیجِ بنگال اوربحیرہِ انڈیمان کے ساحلوں پر صدیوں سے آباد یہ چھوٹی سی ریاست امن وامان کا گہوارہ تصورکی جاتی تھی یہاں بدھ مت مذہب کے مانے والوں کی اکثریت ہے جو گوتم بدھا کو اپنا روحانی پیشوا تسلیم کرتے ہیں اْن کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوکر اپنے مذہب کی اخلاقیات کو ثابت کرنے میں بہت شہرت رکھتے ہیں کسی لحاظ سے یہ صحیح بھی ہے بدھ مذہب کی کتابیں دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ گوتم نے کبھی بھی اپنے آپ کو’کوئی ماورائی شخصیت’ نہیں سمجھا یعنی ایک بانی مذہب کی طرح نہیں تھے وہ’بلکہ ایک مصلح یا فلسفی کی حثیت سے گوتم نے اپنی تعلیمات کا سارا زوراخلاق و اعمال پرپیش کیا گیا ہے گوتم نے اپنے فرمودات میں والدین، اولاد، اساتذہ اورطالب علم ‘خادم وآقا اور شوہر وبیوی کے فرائض’ اْن کے بنیادی حقوق اورذمہ داریاں بتائیں ہیں’انہوں نے والدین کوحکم دیا ہے کہ وہ بچوں کی تعلیم کی طرف توجہ دیں اورانہیں برائی سے بچائیں’ان کے لیے ترکے وراثت کی شکل میں بہترمعاش مہیا کریں۔ اولاد کوحکم دیا کہ وہ والدین کی اطاعت اور احترام کریں’اس طرح دوسرے لوگوں کوشفق ت’محبت’ ہمدردی’ حترام’وفادار ی’ ہنر مندی’ مساوات’حسن سلوک’ادب اورانسانی تعظیم کی ہدایت کی ہے۔ گویا گوتمنے ایک فلسفی کی موجودات کے اجزاء ترکیبی پر اپنی تعلیمات کی بنیادیں رکھیں، پھرانسان کی خصوصیات اورصفات وروپ پرایک تفصیلی بحث بھی کی ہے دنیا بھر کیبدھ مت کے پیروکاروں کے لئے لمحہِ موجود یقینا’لمحہِ فکریہ’ ہوگا کہ آج کل جوکچھ بھی عالمی میڈیا کے توسط سے میانمر میں دودناک اور بہیمانہ انسانیت کشی کی خبریں سننے میں آرہی ہیں جس طرح ہزاروں کی تعداد میں میانمر راکھان اور اْس سے ملحق میانمر کے علاقوں کے روہنگیا مسلمانوں پر چند سیاسی بدھ مت کے راہبوں نے سیاسی مفادات سے مغلوب ہوکر روہنگیائی مسلمانوں کا اب تک جس طرح ریاستی فوج کے سہارے قتلِ عام کروایا اور اْن پر میانمر کی زمین تنگ کی جارہی ہے کیا گوتم کی تعلیمات یہی ہیں؟ جنہیں دنیا امن کا ‘پیامبر’سمجھتی چلی آرہی ہے یہی مقام اہلِ بدھ مت کے لئے غوروفکر کا مقام ہے جس سے وہ راہِ فرار حاصل کرنا چاہئیں بھی تو نہیں کرسکتے دنیا کو جواب دینا ہوگا روہنگیا نسل کے مسلمان کیا انسان نہیں ہیں؟ ہاں مگر اْن کا ایک جرم ہے کہ وہ’مسلمان’ ہیں 11/9 کے بعد سے اب تک مسلمانوں کے خلاف جس پلاننگ اور منصوبہ بندی سے مجرمانہ سازشیں یک بعد دیگرے کی جارہی ہیں روہنگیائی مسلمانوں کے ساتھ آجکل جو غیر انسانی برتاؤ میانمر میں ہورہا ہے اْس کے پیچھے بھی وقت کے ساتھ چھپے باطل پرست نادیدہ ہاتھ اب نمایاں ہونا شروع ہوگئے ہیں آرایس ایس نے بدھ مت کو’ہندوتوائی مہذب’ کاحصہ بنانے کا عمل کئی برس قبل کانپور میں اْسی وقت شروع ہوگیا تھا جب آر ایس ایس کی بنیاد رکھی جارہی تھیں جیسے سکھ مذہب کو تسلیم نہیں گیا تھا گزشتہ دِنوں عالمی میڈیا کے توسط سے پتہ چلا کہ ‘چونکہ روہنگیا ئی نسل کے مسلمان بھی دیگر عالمِ اسلام کا حصہ ہونے کے ناطے حج بھی کرنے جاتے ہیں نمازیں پڑھتے ہیں روزہ رکھتے ہیں ایک قرآنِ حکیم اورایک آخری نبی صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم پر ایمان رکھتے ہیں اور توحیدِ الہیٰ اُن کے پختہ ایمان کی سانسوں کا حصہ ہے تو وہ حلال جانوروں کی قربانی بھی کرتے ہیں بھارت میں جب آر ایس ایس کی سیاسی ذیلی شاخ بی جے پی نے نئی دہلی کا اقتدار سنبھالا ہے گجرات کے قصاب نما فرد نریندرامودی نئی دہلی کے اقتدارپر براجمان ہوا وہ دن ہے اور آج کے یہ انتہائی افسوس ناک اور لائق شرم مقام کہ بھارت کی مختلف ریاستوں میں ‘گورکھشا’ تنظیمیں بن گئیں اور بھارت کو مسلمانوں کی قتل گاہ میں بدل دیا گیا بالکل ایسا ہی اور اِن ہی خطوط پر پہلے پڑوسی کمزور ریاستوں کاانتخاب کیا گیا جس میں میانمرپہلے نمبر اْن کا ٹارگٹ بنا ‘ایک پنتھ کئی کاج’ ایک تیر سے کئی شکار’مطلب یہ کہ روہنگیائی نسل کے مسلمانوں کا قتلِ عام کھل کر کرو اور جوکوئی اِن بے بس ولاچار مسلمانوں کے لئے اپنی آواز بلند کرئے اْسے پاکستان کا ایجنٹ قرار دیدو’ یہ بھارتی خفیہ ایجنسی ‘را’ کی پرانی آزمودہ کاروائی ہے آجکل میانمر میں دہرائی جارہی ہے ‘میانمر میں مسلمان وہاں کی اکثریتی آبادی کے خلاف کوئی جہاد کررہے ہیں؟ یہ کیسی احمقانہ سوچ ہے جس پاکستان پر الزام عائد کرکے دنیا کو گمراہ کرنے کی نئی سازش بنی جارہی ہے’را’ کا یہ کتنا گمراہ کن اور بے سروپا پروپیگنڈا ہے اِس میں کوئی شک نہیں کراچی میں میانمرکے مسلمانوں کی ایک اہم تعدادقیامِ پاکستان سے قبل وہاں ہوٹلوں کا کاروبارکررہی تھی یہ ایک نام باربار بھارتی میڈیا کی زبان پر چڑھا ہوا ہے ‘عمار جنجونی’ یقیناًکراچی میں پیدا ہوا ہوگا لیکن اِس میں کوئی رتی برابر صداقت بالکل نہیں ہے کہ ‘عمارجنجونی’نامی شخص کی پشت پناہی کوئی ملک کرسکتا ہے بھارتی جھوٹ کی پہلی دلیل یہ ہے کہ میانمر میں مسلمان نہایت ہی قلیل تعداد میں کھیتی باڑی کرکے صدیوں سے اپنا گزربسرکرتے چلے آرہے ہیں وہ کیسے اور کیونکر کسی ریاست کے خلاف مسلح ہوسکتے ہیں اب تک سوشل میڈیا پر آنے والی اْن کی بے رونق چہروں سے یہ اندازہ نہیں لگایا جاسکتا کہ وہ لڑنا تو درکناراپنے اوپر ہونے والے انسانیت سوز مظالم کے خلاف چیخ پکار تک نہیں کرسکتے بھارتی وزیراعظم مودی اتفاقیہ مثالوں پر بڑا تکیہ کرنے والا لگتاہے امریکی صدر ٹرمپ نے شمالی کوریا کی جانب ایٹمی حملے کی دھمکی کیا دی وہ سمجھ رہا ہے کہ شائد اب ٹرمپ پاکستان کو بھی کوئی ایسا ہی ‘لاسٹ وارنگ’وغیرہ دینے والا ہے مودی کو ٹرمپ کے لفاظیوں کے شاندار نمونوں سے مرعوب ہونے کی بجائے بھارت میں بھڑتی ہوئی نسلی افراتفری کی فکر کرنی چاہیئے یہ اْس کے اپنے مفاد کی بات ہے اور ہاں! یہ نکتہ بھارت اپنے ذہن میں رکھے کہ پاکستان کسی قسم کے جھوٹے‘ بے سروپا‘ من گھڑت اور لغو الزامات کے دباؤ میں آنے والا ملک نہیں ہے۔