- الإعلانات -

صرف بیان کافی نہیں

ختم نبوت ؐ کامسئلہ اس قدر اہم ہے کہ جس پرسمجھوتہ تودور کی بات ہے کوئی مسلمان کسی خبیث کااشارہ بھی برداشت نہیں کرسکتا۔اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ حضرت ابوبکرصدیقؓ کے عہد خلافت میںیمامہ کے میدان میں بارہ سو صحابہؓ کرام نے جام شہادت نوش فرمایا۔یہ ہمارے جیسے عام مسلمان نہ تھے ۔اعلیٰ شان والے وہ صحابہؓ کرام جنہیں رسول اللہ ﷺ کی آغوش نبوت ؐ حاصل رہی۔ جن کی خاص تربیت میرے پیارے آقاکریم ﷺ نے خود فرمائی۔ جن کے سینے ایمان کی روشنی سے چمک رہے تھے ۔جن کے دلوں میں قرآن رسول اللہ ﷺ نے اتارا تھا۔ جن کودنیامیں ہی رب رحمان نے جنت کی بشارتیں سنائی، ان میں سے سات سو حافظ قرآن ہیں۔ ستر بدری صحابہؓ ہیں جو کفرواسلام کے پہلے معرکہ ’’غزوۂ بدر‘‘ میں اپنی جانیں ہتھیلیوں پر لے کر رسول اللہ ﷺ کے پرچم تلے میدان بدر میں اترے ۔سرکاردوعالم ﷺ کے اعلان نبوت سے ظاہری پردہ فرمانے تک جتنے غزوات ہوئے ان تمام میں کے اندر شہید ہونے والے صحابہؓ کرام کی تعداد259ہے یعنی پورے دور نبوی ﷺمیں جو صحابہؓ کرام شہید ہوئے ان کی تعداد259 اور صرف تحفظ ختم نبوت کے لیے جو صحابہؓ کرام شہید ہوئے ان کی تعداد 1200 ہے۔جس وقت مسیلمہ کذاب نے نبوت کاجھوٹادعویٰ کیااس کے پاس چالیس ہزار جنگجوؤں کا لشکر تھا۔ مال و دولت بھی مسلمانوں سے زیادہ تھا۔ دوسری طرف مسلمان آپ سرکار ﷺ کے ظاہری پردہ فرمانے کے بعد غم سے نڈھال تھے۔ مدینہ منورہ کی نوزائیدہ ریاست کو ہر طرف سے خطرہ تھا۔قربان جاؤں ایسے مشکل حالات کے باوجود حضرت ابوبکر صدیقؓ نے تخت ختم نبوت اور تاج ختم نبوت ﷺپر ڈاکہ زنی کو برداشت نہ کیا اورنبوت کے جھوٹے دعویدارکیخلاف جنگ لڑی۔آج ایٹمی طاقت رکھنے والے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے حکمران ختم نبوت ؐ کے مسئلے پرانتہائی کمزوربیانات دے کر سچے ہونے کی کوشش کررہے ہیں۔حکومتی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن)کے بااختیارصدر سابق وزیر اعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ ختم نبوتؐ ہمارے آئین کا اٹوٹ حصہ بن چکا ہے۔ معاملے کو سیاسی الائشوں سے پاک رہنے دیا جائے، انتخابی بل میں غلطی، کوتاہی یا لغزش کا فوری ازالہ کر دیا گیا معاملے پر تمام پارلیمانی جماعتوں کا شکر گزار ہوں، ختم نبوت ؐ کے معاملے پرمنفی اظہارخیال مسلم لیگ (ن) کے نظرئیے اور پالیسی سے تعلق نہیں رکھتا۔ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ میں اس امر کا دو ٹوک اور غیر مبہم اعلان ضروری خیال کرتا ہوں کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین اور مسلمہ اسلامی تعلیمات کے مطابق تمام اقلیتوں کو جان و مال سمیت بنیادی حقوق کا مکمل تحفظ حاصل ہے۔ نوازشریف نے کہا کہ مجھے پاکستان کے عوام نے تین بار ملک کا وزیراعظم منتخب کیا۔تینوں بار میں نے ذاتی طور پر اور مسلم لیگ (ن )کی حکومت نے زبان ، رنگ ، نسل ، مذہب ، عقیدے یا کسی بھی دوسری تمیز و تفریق کے بغیر پاکستان کے عوام کی خدمت کی اور اقلیتوں کے حقوق کو یقینی بنایا۔پاکستان مسلم لیگ ( ن ) کو بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی جماعت ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ بابائے قوم نے پاکستان کے تمام طبقوں خصوصاً اقلیتوں کو جس کامل مذہبی اور سماجی آزادی کی ضمانت دی تھی، اسے یقینی بنانا اب ایک آئینی تقاضا ہے جس سے انحراف کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ نواز شریف نے کہا کہ میں اس امر کا واضح اظہار بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ محسن انسانیت حضرت محمدﷺ کی ختم نبوت پر مکمل اور غیر متزلزل ایمان جزو اسلام ہے۔ یہ معاملہ اب ہمیشہ کیلئے طے ہوچکا‘‘قوم نے دیکھاکہ حکمران جماعت کے بااختیارصدر اور سابق وزیراعظم میاں نوازشریف نے ختم نبوت ؐ کے معاملے پرکئی دنوں بعد تفصیلی بیان جاری کیااور اُس میں بھی ختم نبوت ؐ کو آئین کاحصہ کہہ کراقلیتوں کے حقوق پرایک لمباچوڑابھاشن دے کریہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ جیسے ختم نبوتؐ کے معاملے پراحتجاج کرنے والے اقلیتوں کے حقوق کے مخالف ہیں۔میاں صاحب کایہ فرماناکہ ’’ختم نبوت ؐ کے معاملے پرمنفی اظہارخیال مسلم لیگ (ن) کے نظرئیے اور پالیسی سے تعلق نہیں رکھتا‘‘درست ہے تومجھے یقین ہے کہ وہ میرے سوال کاجواب ضروردیں گے ۔سوال یہ ہے کہ جن لوگوں کا نظریہ ن لیگ کے نظریے کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتااور وہ لوگ ن لیگ کی پالیسی کے بھی پابند نہیں توپھرایسے لوگ ن لیگ میں شامل کیوں ہیں؟سچے ہیں توپھرختم نبوت ؐ کے حلف نامے کواقرارنامے میں تبدیل کرنے والوں کوسزادے دیتے یاکم ازکم پارٹی نظریات اورپالیسی کی خلاف وزری کاہی نوٹس لے لیتے؟ میاں نوازشریف نے کہا کہ ختم نبوتؐ ہمارے آئین کا اٹوٹ حصہ بن چکا ہے۔میاں صاحب کی شان میں جان بوجھ کر گستاخی کررہاہوں کہ جناب آئین پاکستان بننے سے قبل یہاں تک کے قیام پاکستان سے بھی پہلے سے الحمدللہ ختم نبوتؐ پرمکمل یقین مسلمانوں کے ایمان کالازم حصہ ہے جس پرکسی قسم کاسمجھوتہ ممکن نہیں۔اب یہ بات نہ صرف پاکستانی حکمرانوں،اپوزیشن بلکہ پوری دنیاپرواضح ہوجانی چاہئے کہ ناموس رسالت مآب ﷺ اور ختم نبوتؐ کے معاملے پرمسلمان سمجھوتہ نہیں کرسکتے ۔جہاں تک پاکستان میں بسنے والی اقلیتوں کی بات ہے تووہ پاکستانی ہیں اور تمام بنیادی انسانی حقوق پراکثریت جیساہی حق رکھتے ہیں ۔مسلمانوں کونہ کسی کے مذہب سے کوئی تکلیف ہے نہ کسی کے فرقے سے پریشانی فقط ہمارامسئلہ گستاخان رسول اللہ ﷺ اور ختم نبوت ؐ کے منکروں کے ساتھ ہے۔اقلیتوں میں فقط قادیانی بد بخت ہیں جوختم نبوت ؐ کانہ صرف انکار کرتے ہیں بلکہ انتہائی خطرناک ارادے رکھتے ہیں۔ایک بااختیارشخص کا ختم نبوت ؐ کے معاملے پراس قدر کمزوربیان اور وہ بھی بڑی دیرکے بعداورصرف بیان قابل قبول نہیں ۔عام آدمی کی بات کی جائے تویہ بیان بہت ہے جبکہ تین بار وزریراعظم رہنے والے موجودہ حکمران جماعت کے بااختیارصدرمیاں نوازشریف کی طرف سے یہ بیان ناکافی ہے ۔مسلمان ختم نبوت ؐ کے مسئلے پرجانوں کے نذرانے پیش کرتے آئے ہیں اور اب بھی تیار ہے۔جنگ یمامہ کے اندرصحابہؓ کرام یامحمد ﷺ کانعرہ بلند کیااورآج لبیک یارسول اللہ ﷺ کا نعرہ لگانے والے مسلمان تحفظ ختم نبوت ؐ اورتحفظ ناموس رسالت مآب ؐ کی خاطرمیدان عمل میں ہرمنکربدبخت کامقابلہ کرنے کیلئے تیارہیں ۔