- الإعلانات -

احتساب عدالت۔۔۔سابق وزیراعظم پر فرد جرم عائد

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نیب ریفرنسز میں سابق وزیراعظم محمد نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن(ر) صفدر پر فرد جرم عائد کردی تاہم ملزمان نے صحت جرم سے انکارکردیا جس پر عدالت نے 26اکتوبر کو گواہ طلب کرلئے۔ عدالت نے ٹرائل روکنے اور ریفرنس یکجاں کرنے کی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے فردجرم پڑھ کر سنائی۔سابق وزیراعظم نواز شریف عدالت میں موجود نہیں تھے ان کی جانب سے ظافر خان نامی شخص عدالت میں پیش ہوا۔ سابق وزیراعظم کی طرف سے خواجہ حارث ایڈووکیٹ کی جگہ امجد پرویز ایڈووکیٹ اور عائشہ حامد ایڈووکیٹ پیش ہوئیں۔ عدالت نے فرد جرم عائد کئے جانے سے متعلق کارروائی کا آغاز کرنا شروع کیا تو سابق وزیراعظم کے وکیل امجد پرویز ایڈووکیٹ نے عدالت سے استدعا کی کہ اس کیس میں فرد جرم عائد کرنے سے روکنے کے لئے سپریم کورٹ آف پاکستان میں درخواست دائر کررکھی ہے جب تک سپریم کورٹ کا فیصلہ نہیں آتا اس وقت تک فرد جرم کی کارروائی روکی جائے ۔عائشہ حامد ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ نواز شریف کی جانب سے عدالت میں 2 متفرق درخواستیں جمع کرائی گئیں۔ تمام ریفرنسز کا انحصار ایک ہی جے آئی ٹی رپورٹ پر ہے، تمام ریفرنسز ایک جیسے ہیں جن میں بعض گواہان مشترک ہیں اور یہ عبوری ریفرنسز ہیں۔نواز شریف کی وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ سے نظرثانی درخواست کے تفصیلی فیصلے کا بھی انتظارہے جب کہ ریفرنسز یکجا کرنے کے لیے بھی سپریم کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے۔اس موقع پر نیب پراسیکیوٹر نے دلائل میں کہا کہ سپریم کورٹ نے حتمی فیصلے میں ریفرنس نہیں ریفرنسز دائر کرنے کا حکم دیا جب کہ یہ تمام گزارشات سپریم کورٹ کے سامنے رکھی جا چکی ہیں اور کسی قانون کے تحت فوجداری کارروائی کو نہیں روکا جاسکتا۔نیب پراسیکیوٹر نے موقف اختیار کیا کہ فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواست پہلے ہی مسترد کی جا چکی ہے اور سپریم کورٹ نے ریفرنسز یکجا کرنے کی درخواست پر حکم امتناع ابھی نہیں دیا اس لئے کارروائی روکنے کی درخواست مسترد کر کے نواز شریف اور دیگر ملزمان پر فرد جرم عائد کی جائے۔امجد پرویز ایڈووکیٹ نے کہا کہ ابھی تک ہمیں کیس سے متعلق مکمل ریکارڈ نہیں دیا گیا جاوید کیانی سمیت کئی گواہوں کے جے آئی ٹی کو ریکارڈ کردہ ریکارڈ کی نقول فراہم نہیں کی گئی‘ والیم ٹین بھی نہیں دیا گیا۔ عبوری ریفرنسز ہیں اور عبوری ریفرنسز میں کبھی بھی فرد جرم عائد نہیں کی جاتی جب تک ریفرنسز حتمی نہیں ہوجاتے اس وقت تک فرد جرم عائد نہ کی جائے۔ جس پر نیب کے پراسیکیوٹر نے کہا کہ جاوید کیانی کو اس کیس کا گواہ نہیں بنایا گیا اس لئے جے آئی ٹی نے جو بیان ریکارڈ کیا ہے اس کی نقل دینا ضروری نہیں۔ 2006 کی ٹرسٹ ڈیڈ جعلی ہے اور سپریم کورٹ میں جعلی دستاویزات جمع کرائی گئیں۔اس موقع پر ملزمان نے صحت جرم سے انکار کردیا جب کہ نواز شریف پر فرد جرم ان کے نمائندے ظافر خان کے ذریعے عائد کی گئی۔احتساب عدالت نے فرد جرم کی کارروائی کے بعد استغاثہ سے شہادتیں طلب کرتے ہوئے ایونٹ فیلڈ اپارٹمنٹ کی سماعت 26 اکتوبر تک کے لئے ملتوی کردی۔فرد جرم عائد ہونے کے بعد اب نواز شریف اور دیگر کیخلاف کیس کی سماعت ہوگی، سابق وزیراعظم کو چاہیے کہ وہ اپنے خلاف ریفرنس کابھرپور دفاع کریں اور رائے فرار اختیار کرنے سے انکا سیاسی قد کاٹھ متاثر ہوگا۔ قانونی چارہ جوئی ان کا حق ہے بہتر ہے کہ وہ عدالتوں پر کھلے عام تنقید کی بجائے ان کا سامنا کریں اور اپنی بے گناہی کو ثابت کریں۔ عدالتوں سے محاذ آرائی کسی لحاظ سے بھی درست قرار نہیں پاسکتی۔
ملکی مفاد کیلئے اداروں پر اعتماد ناگزیر
سپریم کورٹ نے عمرا ن خان اور جہانگیر ترین کی عوامی عہدہ کیلئے نا اہلیت سے متعلق مقدمہ کی سماعت کے دوران سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن ایکٹ 1969ء کی شق 15 اے اور بی کے حوالے سے عدالت کی معاونت کے لئے ا ٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مزید سماعت 22اکتوبر تک ملتوی کردی جبکہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ایک بار پھر تنبیہ کرتے ہوئے ریمارکس دئیے ہیں کہ یہ ملک اور اس کے ادارے ہم سب کیلئے ہیں ان کا وقار اور ان پر اعتماد قومی فریضہ ہے۔ ہم نے ہی اداروں کو مضبوط کرنا ہے، انتہائی احتیاط اور محتاط انداز سے کارروائی کو چلا رہے ہیں، دیکھنا ہو گا کہ ارکان اسمبلی کی نا اہلی کیلئے بے ایمانی کی نوعیت کیا ہو گی، بے ایمانی کی ایک صورت کرپشن بھی ہے، آرٹیکل 62ون ایف کا جائزہ کیس ٹو کیس لیا جا سکتا ہے، جہانگیر ترین کے وکیل سکندر بشیر نے کہا کہ غیر آئینی طور پر نا اہلی نہیں ہو سکتی، آرٹیکل 62ان کا راستہ روکتا ہے جو صادق اور امین نہ ہوں۔جہانگیر ترین نا اہلی کیس کی سماعت سپریم کورٹ میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 3رکنی بینچ نے کی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ایسی آبزرویشن نہیں دی جو گزشتہ روز ہائی لائٹ کی گئی، ہماری آبزرویشن کا مطلب فیصلہ نہیں ہوتا، عدالتی آبزرویشن چیزوں کو سمجھنے کیلئے ہوتی ہے، انتہائی احتیاط اور محتاط انداز سے کارروائی کو چلا رہے ہیں۔ اس پر وکیل سکندر بشیر نے کہا کہ عدالتی سوالات میرے لئے بہت معاون ثابت ہوتے ہیں، جب سے کیس شروع ہوا ہے اخبار پڑھنا بند کر دیا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم سوال تب پوچھتے ہیں جب کچھ سمجھ نہ آئے۔ وکیل سکندر بشیر نے کہا کہ آرٹیکل 62ان کا راستہ روکتا ہے جو صادق اور امین نہ ہوں، ایس ای سی پی کا سیکشن 15اے اور بی آئین سے متصادم ہے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ قانون کے سیکشن کو چیلنج کرنے پر اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرنا پڑے گا۔ وکیل سکندر بشیر نے کہا کہ اٹارنی جنرل کو معاونت کیلئے پہلے ہی نوٹس جاری ہو چکا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ قانون کے سیکشنز پر الگ سے ایک نوٹس جاری کرنا پڑے گا۔ وکیل سکندر بشیر نے کہا کہ جہانگیر ترین نے ایس ای سی پی کے کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی، غیر آئینی طور پر نا اہلی نہیں ہو سکتی۔ چیف جسٹس نے سوال کیا کہ اگر قانون غیر آئینی نہ ہوا تو پھر آپ کا موقف کیا ہو گا؟وکیل نے جواب دیا کہ میرا موقف ہو گا کہ جہانگیر ترین کے کاغذات نامزدگی چیلنج نہیں کئے گئے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بے ایمانی کی ایک صورت کرپشن بھی ہے، آرٹیکل 62ون ایف کے ایک ایک لفظ کا جائزہ لینا ہو گا، یقین ہے کہ وکلاء آرٹیکل 62ون ایف پر معاونت کریں گے۔ وکیل سکندر بشیر نے کہا کہ آرٹیکل 62ون ایف کا اطلاق صرف کرپشن پر نہیں ہوتا، عدالت نے جعلی ڈگری پر آرٹیکل 62ون ایف پر نا اہل کیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آئے روز نئی چیزیں عدالت کے سامنے آ رہی ہیں، ہم کوئی سخت قواعد و ضوابط نہیں بنا سکتے، عدالت میں بیٹھے چند دوستوں کے پاس میرا موبائل نمبر ہے، دوست مجھے مقدمات سے متعلق چیزیں واٹس ایپ کرتے ہیں، ایسی چیزیں بھیجتے ہیں جو ان کے موقف کی تائید کرتی ہیں، آرٹیکل 62ون ایف کا جائزہ کیس ٹو کیس لیا جا سکتا ہے، مجھے دیکھنا ہے کہ ملک اور ادارے کے مفاد میں کیا ہے، تنقید کرنے والے یہ بھی دیکھیں کہ یہ ان کا بھی ادارہ ہے، میں جذباتی ہو کر کام نہیں کرتا، عدالت نے ایس ای سی پی قانون کے معاملے پر اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کردیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ دیکھنا ہو گا کہ ارکان اسمبلی کی نا اہلی کیلئے بے ایمانی کی نوعیت کیا ہو گی، بچے سے یہ کہلوانا کہ ابو گھر پر نہیں بے ایمانی ہے، کیس کی مزید سماعت آئندہ پیر تک ملتوی کر دی گئی۔