- الإعلانات -

ہسپتال ،ڈیم ،روز گار ،تعلیم کے نام پر لیا گیا قرضہ کہاں گیا؟

اقتصادی ترقی کے دعوؤں کے برعکس اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق بیرونی قرضے 72 ارب 93 کروڑ ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ 2013 میں بیرونی قرضہ 60 ارب 90 کروڑ ڈالر تھا جس میں تقریبا 12 ارب ڈالر اضافہ ہو چکا ہے۔ یعنی تین سال میں بیرونی قرضوں میں تقریبا بارہ ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔ بیرونی قرضوں میں آئی ایم ایف کے 6 ارب ڈالر اور عالمی بانڈز کے اجراء سے حاصل کردہ ساڑھے چار ارب ڈالر بھی شامل ہیں۔ اقتصادی ماہرین اس صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دے رہے ہیں۔بیرونی قرضوں میں بے انتہا اضافے سے جہاں عوام پریشان ہے وہاں صدر مملکت ممنون حسین بھی تشویش میں مبتلا ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ 1970کے بعد ملک کے حالات خراب سے خراب ہوتے گئے۔ کرپشن نے ملک کا بیڑہ غرق کر دیا اس وقت کرپشن ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ سال 2008 میں پاکستان کے ذمے 7ہزار ارب روپے قرضہ تھا۔ سال2013 کے انتخابات کے بعد یعنی 4سال کے دوران 14ہزار آٹھ سو ارب روپے قرضہ لیا۔ عوام کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ جان سکیں کہ ہسپتال ،ڈیم ،روز گار ،تعلیم کے نام پر لیا گیا قرضہ کہاں گیا۔ کیونکہ نہ تو اب تک ملک میں ڈیم بنائے گئے ہیں نہ ہسپتال۔ آخر یہ پیسہ کہاں گیا ۔جھوٹ ،مکر ،فریب اور مداری کی سیاست نے ملک کو بہت زیادہ نقصان پہنچا یا ہے لیکن یا د رہے جس نے جتنا اس ملک کو لوٹا ہے نقصان پہنچا یا ہے اس کا بدلہ بھی اللہ اس سے لے گا۔حال تو یہ ہے کہ ناقص حکومتی پالیسیوں کے باعث پاکستانی عوام پر قرضوں کا بوجھ بڑھ گیا ہے اور نئے سال میں ہر پاکستانی اوسطا 1 لاکھ 15 ہزار 911 روپے کا مقروض ہو چکا ہے۔ پاکستان کے قرضوں اور واجبات میں سال 2016-17 کے دوران 26 کھرب روپے کا اضافہ ہوا۔اسٹیٹ بینک کے مطابق، پاکستان کے واجب الادا قرضوں اور واجبات کا مجموعی حجم 233 کھرب 89 ارب 60 کروڑ روپے ہوگیا۔بیرونی قرضے اور واجبات 78 کھرب 14 ارب 20 کروڑ روپے ہیں۔گزشتہ سال کے دوران صرف وفاقی حکومت کے اندرونی قرضے 14 کھرب 31 ارب 40 کروڑٰ روپے کے اضافے سے 140 کھرب 89 ارب روپے کی سطح تک پہنچ گئے جبکہ آئی ایم ایف کا قرض شامل کرکے بیرونی قرضوں کا حجم 6 کھرب روپے کے اضافے سے 62 کھرب 20 کروڑ روپے ہو گیا ہے۔حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے حالیہ دور میں ملکی قرضوں میں 35 فیصد اضافہ ہوا جس کے بعد اس وقت ملک کا مجموعی قرضہ 182 کھرب 80 ارب روپے تک جاپہنچا ہے۔ وزارت خزانہ نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ 30 ستمبر 2016 تک ملک پر 182کھرب 77 ارب 60 کروڑ روپے قرض تھا۔وزارت خزانہ کے مطابق تین سال قبل یعنی مالی سال 2013۔2012 کے اختتام تک ملکی قرضوں کا حجم 134 کھرب 80 ارب روپے تھا۔ اس قرض کی بڑھنے کی اہم وجہ مقامی قرض میں 40 فیصد اضافہ تھا۔ یہ قرض مالی سال 2013 کے اختتام تک 86 کھرب 86 ارب روپے تھا۔ جو رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں بڑھ کر 121 کھرب 40 ارب تک پہنچ گیا۔اسی دورانیے میں غیر ملکی قرضوں میں 28 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ قرضے مالی سال 2013 میں 47 کھرب7 ارب 96 ارب روپے تھے جو 30 ستمبر 2016 تک بڑھ کر 61 کھرب 40 ارب تک پہنچ گئے۔ملکی قرضوں میں اضافے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے وزارت خزانہ نے کہا کہ قرضے دراصل مالی خسارے کو پورا کرنے کے لیے حاصل کیے گئے تھے، جس کی پارلیمنٹ سے منظوری لی گئی تھی۔ ان قرضوں کو قومی اہمیت کے منصوبوں کی فنڈنگ کے لیے حاصل کیا گیاجن میں بجٹ اور ادائیگیوں کے توازن، زلزلوں اور سیلابوں کے بعد دوبارہ بحالی میں مدد، یوریا، کھاد اور کروڈ آئل کی برآمد جیسے منصوبے شامل ہیں۔ یہ قرضے لینے کا ایک اور مقصد زرمبادلہ کی شرح میں اتار چڑھاؤ سے حفاظت اور بیرونی جھٹکوں کو برداشت کرنے میں مدد حاصل کرنا تھا۔ یہ قرضے زیادہ تر سالہا سال ہونے والی مالی اعانت کی ضروررت کے تحت حاصل کیے جاتے ہیں، جب کہ موجودہ حکومت کی جانب سے حاصل کیے گئے زیادہ تر غیرملکی قرضوں کا مقصد حکومت کے طویل المدتی معاشی منصوبوں کی اعانت کرنا ہے جنھیں بجٹ کے تحت متعین کردہ قرض کی ادائیگیوں کے شیڈول کے ذریعے واپس کیا جائے گا۔ اگر ہم اپنے فرائض دیانتداری سے انجام دیں اور بے ایمان اور کرپٹ لوگوں کو اپنے اندر سے نکال کر باہر کریں تو یہ ملک ترقی کرے گا۔ جھوٹ اور فریب کی سیاست بند کرکے ایمانداری اور سچائی کیساتھ سیاست کریں۔ قدرت نے ہمیں ترقی کیلئے راہداری کی شکل میں اس صدی کا عجیب و غریب منصوبہ دیا ہے مگر اس سے فائدہ اْٹھانے کیلئے ہمیں جدید سائنس و ٹیکنالوجی کی تعلیم کو اہمیت دینی ہو گی اور ہمیں ماہرین تیار کرنے ہوں گے جس سے ہمارے ملک میں صنعت کو فروغ ملے گا اور ہمیں غیروں کے آگے ہاتھ نہ پھیلانے میں مدد گار ثابت ہو گا۔کیا ہم اس منصوبے کو بھی کرپشن کے ہاتھوں تباہ کر لیں گے؟