- الإعلانات -

صدر مملکت کی بنوں میں دلچسپ تقریر

سبحان اللہ کیا پاکستان پر یہ دن بھی آنے تھے سربراہ مملکت خدا داد پاکستان پوچھتے پھر رہے ہیں کہ یہ کیا ہو رہا ہے اور سوال انہوں نے بنوں کے بسٹ انسٹیٹیوٹ خطاب کے دوران اٹھایا وہ بھی میڈیا کے ذریعے پوچھ رہے ہیں کہ 2013 کے بعد نہ تو ملک میں کوئی ڈیم بنا نہ ہسپتال بنے اور کھربوں روپوں کا قرضہ کون کھا گیا اور کس کس کی جیبوں میں چلا گیا کیا وہاں موجود کسی شخص یا صحافی نے محترم صدر مملکت سے پوچھا جناب آپ اس ملک کے آئینی صدر ہیں اور تینوں مسلح افواج کے کمانڈر انچیف بھی، آپکے اختیار میں اور کچھ نہیں تھا تو کم از کم نوازشریف حکومت کو ایک آدھ خط ہی لکھ دیتے کہ مجھے بطور صدر مملکت بتایا جائے پچھلے پورے عرصے میں اتنے قرضے لئے جا رہے ہیں جوکھربوں کی مالیت تک چلے گئے ہیں اور قانوناً ملک کی اکنامی کے 60 فیصد سے تجاوز نہیں کر سکتے اور یہ پوچھنا ان کا آئینی اور قانونی حق بھی تھا جو انہوں نے حق ادا نہیں کیا صدر نے درست کہا کہ نہ ملک میں بجلی پوری ہوئی نہ صحت کے مسائل حل ہوئے نہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم ہوئی نہ صاف پانی میسر ہوا یقین کیجئے کہ پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں کہیں بھی پینے کا صاف پانی پوری طرح میسر نہیں ہسپتالوں کے باہر نادار خواتین فرش پر بچے جن رہی ہیں جو انسانی تضحیک اور المیہ ہے کمیشن کے چکر میں قوم تباہ ہو گئی کھربوں کے قرضے لئے گئے لیکن پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن کارپوریشن کی سرکاری ادارے کی حیثیت کم کر کے پاکستان انٹرنیشنل ایئرویز بنادی گئی سری لنکا سے 330 ایئربس لیز پر لائی گئیں جو سری لنکا نے ان جہازوں پر ایندھن کی زیادہ اپریشنل لاگت کے باعث گراونڈ کردی تھیں انہیں ہمارے بزجمہر پاکستان لیز پر اٹھا لائے دنیا بھی میں یہ طیارہ 4000 ڈالر فی گھنٹہ دستیاب ہے جس میں عملہ ایندھن دیکھا بھال اور ٹیکس شامل ہیں لیکن ہمارے سرکاری شہنشاہوں نے یہ فلاپ طیارے 8000 ڈالر فی گھنٹہ کی لیز پر لئے گئے اور 6 ماہ بعد سر لنکا کو واپس کردئے گئے جس میں پی آئی اے کا جرمن سی ای او بھی ملوث تھا ظاہر ہے اکیلے کون کھا سکتا ہے پی آئی اے کے اس جرمن افسر کا نام ای سی ایل میں ہونے کے باوجود وہ ملک سے فرار ہو گیا اور ساتھ میں ایک ایئر بس 310 بھی لے اڑا جو اب سے دو ہفتے قبل تک لیپ زیگ جرمنی کے ایئرپورٹ کی پارکنگ میں کھڑا تھا شنید ہے کہ وہ اونے پونے بیچ دیا گیا ہے وہ بھی چند ہزار ڈالر میں حکومت پاکستان منہ تکتی رہ گئی "”پھر اس کے چراغوں میں روشنی نہ رہی”” کتنی گڈ گورننس ہے کہ پی آئی اے نے دنیا کی 13 ائیرلائنز کو بنایا جن میں امارات اور سنگاپور ائیر لائنز شامل ہیں جو دنیا کی بہترین ائیرلائن کہلاتی ہیں لیکن 21 کروڑ لوگوں میں ہمیں کوئی ایک ڈھنگ کا ماہر نہ ملا جو پی آئی اے کو آپریٹ کر سکے اور ہمیں جرمنی سے ڈاکو درآمد کرنا پڑا ریلوے کے لئے نئے انجن خریدے گئے لیکن حال وہی جیسے پچھلی حکومت کے ریلوے وزیر کی ذاتی صحت کا تھا پشاور کراچی ریلوے کی اپ گریڈیشن کا معاہدہ 8 ارب ڈالر کا تھا ایک سال پہلے اس کی فزیبلٹی رپورٹ نہیں بنائی گئی جو ایک سال پہلے بننی چاہئے تھی ریلوے وزیر حکمران خاندان کی عدالتی پیشیوں پر سلطان راہی کے انداز میں بڑھکیں مار کر” نواز شریف کرپشن کرو ہم تمہارے ساتھ ہیں” تاکہ ان سب کا نان نفقہ بھی چلتا رہے ریلوے جائے بھاڑ میں چینی وفد پاکستانی ریلوے حکام کی اس منصوبے میں عدم دلچسپی دیکھ کر نہایت برہم ہوا اس منصوبے کی تکمیل کے بعد پشاور سے کراچی کا سفر محض 16 گھنٹے کا رہ جاتا اور ٹرین کی اوسط رفتار 130 کلومیٹر فی گھنٹہ تک بڑھ جاتی جو آج محض 60 کلومیٹر تک کی ہی ہے مشرف کے بعد کی حکومتوں نے جس طرح اداروں کو تباہ کیا خاص طور پر دفاعی اہمیت کے دو اداروں ریلوے اور اور قومی ائرلائن کو دانستہ تباہ کیا تعلیم کو صوبائی سبجیکٹ بنا کر بین الاقوامی یونیورسیٹیوں کو نکال باہر گیا ہائر ایجوکیشن کمیشن تحلیل کر دیا گیا تھا جو سپریم کورٹ کی مداخلت سے بچ تو گیا لیکن اس کا تعلیم کی ترقی میں رول محدود کر دیا گیا ملکی زراعت اور صنعت کو تباہ کرنے کی غرض سے متروک ٹیکنالوجی کے حامل پرائیویٹ پاور ہاوس بنا کر انتہائی مہنگے اور غیر منصفانہ معاہدے کئے گئے جو پاکستان کی معیشت کے زہر قاتل ثابت ہو رہے ہیں لیکن ان کے مالکان با اختیار اور عوام بے بس لہذا عوام پاکستان کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جا رہا ہے اس پر طرہ یہ کہ 23 ہزار میگاواٹ کی گنجائش کے باوجود کبھی17 ہزار میگاواٹ سے زیادہ بجلی پیدا نہیں کی گئی لیکن ریاست پاکستان سے پیسے پورے وصول کئے گئے اگرپوری گنجائش پر یہ پاور ہاؤس چلتے تو 24 گھنٹے بجلی میسر ہونے سے صنعتیں چلتیں پیداوار بڑھتی اور برآمدات کم ہونے کے بجائے بڑھتیں دانستہ لوڈ شیڈنگ کے سبب مقامی صنعت تباہ ہو گئی مزدور بے روزگار ہو گئے فیصل آباد جو ٹیکسٹائل کی پیداوار کے سبب مانچسٹر کہلاتا رہا ہے وہاں صنعتیں بجلی کی عدم فراہمی کے سبب بند ہوتی گئیں آج اکثر صنعتی یونٹ بند ہیں یہ سب دانستہ سازش تھی جو اس حکومت میں بھی جاری ہے ڈیموں پر دانستہ توجہ نہیں جارہی کمیشن کے چکر میں قائد اعظم رحمت اللہ علیہ جیسے دیانت دار شخص کے نام پر سولر پارک بنایا گیا جو مافیا نے 100 میگاواٹ بجلی کا کہ کر بنایا تھا لیکن عملی طور پر 10 واٹ ہی پیدا ہو رہی ہے شنید ہے کہ اسے بھی اونے پونے بیچا جارہا ہے موجودہ حکومت کے دور میں نندی پور پروجیکٹ پر 450 ارب روپے کا قومی سرمایہ ضائع کر دیا گیا یہ بد انتظامی کی بد ترین مثال ہے یہ سلسلہ پچھلی حکومت کے ہاتھوں شروع ہوکر موجودہ تجربے کار حکومت کے دور میں مکمل ہوا جس کا الیکش مہم کے دوران دعوی تھا ہم تجربے کار لوگ ہیں ہماری ہر شعبے کی تجربہ کار ٹیم اس ملک کی ترقی کو اوج ثریا تک لے جائے گی اور ترقی کا یہ سہانہ سفر عوام پاکستان 4 سال سے زیادہ عرصے سے بھگت رہے ہیں اور حکومت بہ اصرار کہ رہی ہے ہم نے ترقی کی ہے شاید وہ سچ کہتے ہوں کیوں کہ اب تک حکمران خاندان کے 33ہزار کروڑ کے اثاثے منظر عام پر آ چکے ہیں جو تحقیقات سے تو ثابت ہو چکے ہیں بس عدالت کی تصدیق چاہئے باقیوں کی تحقیق ہو رہی ہے جو ہمارے آپ کے تصور سے زیادہ ہو سکتے ہیں لیکن پھر بھی بہ اصرار کہا جا رہا ہے پاکستان بہت ترقی کر چکا ہے اور ہم پھر جیتیں گے ہماری صدر پاکستان سے گزارش ہے کہ وہ ایک عدد صدارتی ریفرنس دائر کریں اور جو کچھ بنوں یونیورسٹی میں فرما چکے ہیں چیف جسٹس سپریم کورٹ کو لکھ دیں شاید آپ کا یہ عمل یوم قیامت آپ کے کام آئے اللہ آپ کو استقامت دے اقتدار اور طاقت آنی جانی چیزیں ہیں اصل زندگی تو موت کے بعد ہے اللہ ہمیں اس زندگی کی تیاری کی توفیق عطا فرمائے”” شاید کہ تیرے دل میں اٹھائے میری بات”” اللہ ہمیں حق اور سچ کو سمجھنے اور اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین