- الإعلانات -

ڈی ایٹ تنظیم کاعالمی سطح پر موثر کردار ہوناچاہیے

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ ڈی ایٹ کے اہداف کے حصول میں پاکستان نے اپنا موثر کردار ادا کیا ہے، پاکستان کے دور صدارت میں ڈی ایٹ کو اقوام متحدہ میں مبصر کی حیثیت ملی، رکن ملکوں کے درمیان تجارت کے فروغ کیلئے رکاوٹوں کو دور کرنا ہے، پاکستان کو دہشت گردی سمیت مختلف چیلنجز کا سامنا ہے، جامع حکمت عملی اور مضبوط عزم کے ساتھ دہشت گردی کے ناسور کا خاتمہ کر رہے ہیں۔ تنظیم رکن ملکوں کے درمیان اقتصادی تعاون کے فروغ میں معاون ہو گی۔ عوام کی ترقی، خوشحالی پر توجہ دیتے ہوئے ڈی ایٹ کو عملدرآمد کے مرحلے میں داخل ہونا ہے۔ ڈی ایٹ تنظیم کا عالمی سطح پر بھی ایک موثر کردار ہونا چاہیے۔ پاکستان نے نومبر 2012 کو اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس میں ڈی ایٹ کی صدارت سنبھالی۔ اسلام آباد سربراہ اجلاس میں ڈی ایٹ کا چارٹر اور گلوبل وژن کی منظوری دی گئی تھی جس میں تنظیم کے اہداف کے حصول میں پاکستان نے اپنا موثر کردار ادا کیا تھا۔ رکن ملکوں کو باہمی مفاد پر مبنی تعاون کو مستحکم بنانا ہے، تجارتی اور اقتصادی شعبے میں اہداف کے حصول کیلئے کام کرنا ہے۔ تنظیم کا مقصد زراعت، صنعت، تجارت، ٹرانسپورٹ، توانائی، سیاحت میں تعاون کا فروغ ہے۔ ڈی ایٹ رکن ملکوں میں تجارتی حجم میں کمی آئی ہے۔ رکن ملکوں کے درمیان تجارت کے فروغ کیلئے رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔ ترقی اور خوشحالی کیلئے نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کرنی ہوگی۔ ہمسائیگی میں عدم استحکام اور خطے کی صورتحال سے پاکستان کو دہشت گردی کا سامنا رہا۔ سلامتی کی بہترصورتحال سے معیشت بحال ہوئی ہے۔ حکومت مواصلات، توانائی، علاقائی روابط کو مربوط بننے پر توجہ دے رہی ہے۔ سی پیک سے معیشت مستحکم ہوئی۔ خطے میں توانائی کے منصوبوں پر بھی کام کر رہے ہیں۔ رکن ملکوں کے ساتھ ریل، سڑک اور دوسرے ذرائع سے مضبوط شراکت داری چاہتے ہیں۔ ڈی ایٹ تنظیم میں بے پناہ صلاحیت اور وسائل ہیں۔ ترقی پذیر ملکوں کے گروپ ڈی ایٹ کی مشترکہ کوششوں سے تنظیم کو اپنے اہداف کے جلد حصول میں مدد ملے گی۔ وزیراعظم کاخطاب دور رس نتائج کا حامل ہے انہوں نے بجافرمایا پاکستان کو اس وقت دہشت گردی سمیت مختلف چیلنجز کاسامنا ہے لیکن پاکستان ان چیلنجز کاسامنا کرتے ہوئے ان کے خلاف جامع حکمت عملی کے ساتھ مقابلہ کررہا ہے دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے لیکن پاک فوج اور سیاسی قیادت دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پرعزم ہے ۔پاکستان کا دہشت گردی کیخلاف کردار دنیا کیلئے نہ صرف قابل ستائش ہے بلکہ قابل تقلید بھی ہے ۔پاکستان خطے کے امن کیلئے اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ خوشگوار تعلقات کاخواہاں ہے اور دوسرے ممالک کے ساتھ تمام شعبوں میں باہمی تعاون کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔پاکستان چاہتا ہے کہ خطے میں امن قائم ہو اور خطے کے ممالک ترقی کے راستے پر گامزن ہوں لیکن جب تک دہشت گردی کا خاتمہ نہیں ہوگا ترقی اور خوشحالی ممکن نہیں ہے اس کیلئے مشترکہ جدوجہد کی ضرورت کرنا ہوگی۔
مفاہمت کی دم توڑتی سیاست
پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ نوازشریف اور انکے خاندان کا وی آئی پی احتساب ہورہا ہے، ان کو اسی طرح احتساب کی چکی سے گزارا جائے جس طرح ہمار احتساب کیا گیا تھا،ان کیخلاف کرپشن کے سنگین مقدمات ہیں انہیں فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔ گاڈ فادر لندن میں بیٹھ کر ہمیں مفاہمت کے خفیہ پیغامات بھیجتا ہے لیکن مومن ایک سوراخ سے دوسری دفعہ ڈسا نہیں جاتا، ہم نے مفاہمت کے تمام پیغامات مسترد کردئیے ہیں،انہوں نے کہا کہ ہم نے تو سیف الرحمن کے احتساب بیورو کا بھی احتساب برداشت کیا ہے آج یہ نیب کے بارے میں باتیں کررہے ہیں انہیں یاد ہونا چاہیے کہ ان کا اپنا نیب کیا کرتا رہا ہے۔ ان کا وی آئی پی پروٹو کول کے ساتھ احتساب کیا جارہا ہے،جب تک برابری کی بنیاد پر احتساب نہیں ہوگا ہم نہیں مانیں گے، شریف فیملی کا فرد ہو تو ایک دن میں ضمانت ہوجاتی ہے۔یہ کیسا احتساب ہے۔ ہمیں تو پہلے گرفتار کیا جاتا تھا پھر جیل بھیجا جاتا تھا پھر کیس ڈھونڈے جاتے تھے ان کیخلاف تو سپریم کورٹ کے حکم پر مقدمات بنے ہیں اس کے باوجود یہ دندناتے پھرتے ہیں، انہیں فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔نواز شریف اور شہباز شریف متضاد بیانات کے زریعے قوم کو گمراہ کررہے ہیں۔ مغل بادشاہ کو پتہ ہونا چاہیے کہ قوم ان کے چنگل سے آزادی چاہتی ہے۔ نواز شریف اب وزیراعظم ہے نہ ہی ان کے پاس کوئی حکومتی عہدہ اس کے باجود لاہور میں انکے ساتھ 3ہزار پولیس اہلکار ڈیوٹی کرتے ہیں اور 40سرکاری گاڑیوں کا استعمال کررہے ہیں۔سیاست میں کوئی چیز حرف آخرنہیں ہوتی آج کے حلیف کل کے حریف ہونا کوئی عجوبہ بات نہیں ہے آصف زرداری نے سیاست کا جو گراستعمال کیاہے وہ برموقع اوربرمحل ہے اور سیاست میں اس کے بیان سے ہلچل مچی دکھائی دیتی ہے مفاہمت کی سیاست کاخاتمہ وقت کی ضرورت تھا شاید آصف زرداری اسی انتظار میں تھے کہ نوازشریف سیاسی گرداب کاشکارہوں اور وہ موقع محل کے مطابق سیاسی پتے پھینکیں لیکن پیپلزپارٹی کی اپنی پوزیشن انتہائی توجہ طلب ہے نظریاتی کارکن آصف زرداری کی پالیسیوں کی وجہ سے پیپلزپارٹی سے نالاں دکھائی دیتے ہیں جب تک آصف زرداری پیپلزپارٹی میں ہیں پیپلزپارٹی منظم نہیں ہوسکتی۔ اگر بلاول کو فری ہینڈ دے دیاجائے تو بکھرے ورکر یکجاہوسکتے ہیں لیکن فی الحال ایسا ہوتادکھا ئی نہیں دیتا جب تک پیپلزپارٹی کو ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر کے وژن کے مطابق نہیں چلایاجاتا اس وقت تک یہ پارٹی اپنا کھویا ہواوقار بحال نہیں کرسکتی احتساب بلاامتیاز ہوناچاہیے تاکہ ایک دوسرے پر انگلی نہ اٹھائی جاسکے یہی وقت کاتقاضا ہے۔
خطے کے امن کیلئے ٹھوس اقدام کی ضرورت
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان، دونوں ممالک نے دہشت گردی کی وجہ سے بہت نقصان برداشت کیا ہے، تاہم ایسے واقعات خطہ میں امن کے لئے ہمارے عزم اور ارادے کو ٹھیس نہیں پہنچا سکے۔علاوہ ازیں افغان مسئلہ کے پرامن حل کیلئے سرگرمیوں میں بظاہر خاصی تیزی آ گئی ہے اور پاکستان میں متعین افغان اور جاپانی سفیروں نے گزشتہ روز اس ضمن میں مشیر سلامتی لیفٹیننٹ جنرل(ر)ناصر خان جنجوعہ سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔افغان سفیر عمر ذخیلوال کے ساتھ ملاقات دوران جنرل قمر جاوید باجوہ کے حالیہ دورہ افغانستان سے شروع ہونے والی مثبت پیشرفت پر تبادلہ خیالات کرتے ہوئے دو طرفہ تعلقات کو مزید بہتر بنانے کے امکانات اور طریقوں پر گفتگو کی گئی۔ پرامن افغانستان کی وجہ سے نہ صرف پاکستان ور افغانستان بلکہ پورے فائدہ پہنچے گا۔اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ باہمی تعلقات میں اس مثبت پیشرفت کے تسلسل کو جاری رکھا جائے گا۔ آرمی چیف نے جن خیالات کااظہار کیا ہے وہ بڑی اہمیت کے حامل ہیں دہشت گردی کے واقعات پاکستان اورافغانستان دونوں کو متاثر کررہے ہیں خطے کے پائیدار امن کیلئے دوطرفہ حکمت عملی اور تعاون کی ضرورت ہے افغان حکومت کو چاہیے کہ وہ دہشت گردو ں کی پناہ گاہیں ختم کرے تاکہ خطے کاامن خطرے میں نہ پڑے پاکستان پائیدار امن کیلئے اپنی حکمت عملی کے تحت کام کررہاہے۔