- الإعلانات -

یومِ اقوامِ متحدہ۔نئے عالمی میثاق کی ضرورت

پاکستان سمیت پوری دنیا میں 24 اکتوبر کا دن بطور’عالمی یومِ اقوامِ متحدہ’ منایا جاتا ہے’ 1945 میں’لیگ آف نیشنز’جب اپنے مقاصد میں بْری طرح سے فلاپ ہوگئی تھی‘ یعنی وہ دوسری عالمی جنگ رکوانے میں ناکام ہوگئی تو’اقوامِ متحدہ’ کے نام سے 24 اکتوبر1945 کوایک اورعالمی منصف ادارے کا قیام عمل میں لایا گیا تھا اِسی مناسبت سے عالمی ادارے کی سالگرہ کے نام پر1945 سے آج تک یہ دن ہر سال24 اکتوبر کو دنیا بھر میں منایا جاتا ہے لیکن اقوامِ متحدہ کی 72 ویں سالگرہ کے موقع پردنیا بھرکے بہت سے ممتاز دانشور اور مبصرین یہ سوال پوچھنے میں کیا حق بجانب نہیں ہیں جب ہم اقوامِ متحدہ کے قیام سے اب تک اِس عالمی ادارے کی’عالمی ذمہ داریوں’ کی کارکردگی کاجائزہ لیتے ہیں’تو کیایہ عالمی ادارہ بھی اپنے اعلیٰ وارفع مقاصد حاصل کرنے میں اوراپنے آپ کو ‘غیرجانبدارعالمی ادارہ’ ثابت کرنے میں کامیاب رہا ہے یا مکمل طور پر ناکام رہا ہے یہی نہیں بلکہ دنیا کے خطوں اورملکوں کے مابین پائے جانے والے سنگین متنازعہ مسائل کو پْرامن طور پرحل کراسکا ہے یا نہیں؟جبکہ دوسری جانب جدید سائنسی شعوروآگہی کے مہذب عہد میں آج بھی دنیا کے کئی خطوں کے کئی گوشوں میں اپنی طاقت وقوت کے بہیمانہ زورپرسامراجی ذہنیت رکھنے والے’کمزورقوموں کے حقوق اور اُن کی انسانی آزادیوں کوسلب کرنے والے’اْنہیں اْن کی مرضی ومنشاء کے خلاف اپناغلام تصورکرنے والے کہیں اگرموجود ہیں’اوراْن سامراجی ذہنیت پسند متکبرقوتوں نے کروڑوں انسانوں کواْن کے بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا ہوا ہے’ تو کیا ‘ایسوں’کی موجودگی سے دنیایہ امید لگا نے میں حق بجانب ہے کہ اْن سامراجی طاقتوں اور قوتوں والے زورآوروں کے ہوتے ہوئے بھی ہماری دنیا یکسرتباہی سے محفوظ رہ سکتی ہے؟ برطانوی مفکربرنارڈشا نے شاید بالکل صحیح کہا ہے کہ’امن کودوجنگوں کے درمیان ایک وقفہ تسلیم کیا جائے’مثلا اگرہم برنارڈشا کے اِس تصورسے اتفاق نہ بھی کریں تو ہمیں کم ازکم یہ مان کر آگے ضرور بڑھنا ہوگا کہ’آدمی فطرتاجنگجوواقع ہوا ہے’آدمی کی تخریبی کارروائیوں کوقابو میں رکھنے کیلئے برسہا برس سے پہلے بھی کئی ایسی منصفانہ تنظیمیں قائم ہوئی تھیں وہ عالمی منصفانہ تنظیمیں ٹوٹتی بھی رہیں‘ اقوامِ متحدہ کے گزشتہ 72 برسوں کی مایوس کن کارکردگی دنیا کے کمزوراورغیر ترقی یافتہ اقوام کے نزدیک شائد ہی قابلِ رشک کبھی رہی ہو کیونکہ اقوامِ متحدہ کے چارٹرز‘سلامتی کونسل کے اصول وضوابط سمیت اقوامِ متحدہ سے وابستہ ذیلی عالمی تنظیموں نے بھی دنیا کے سامنے تاحال کوئی ایسا انسانیت نواز قابل تحسین کارنامہ پیش نہیں کیا ہے’ اور اگرکوئی سمجھتا ہے کہ اقوامِ متحدہ اوراقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے دنیا کوتیسری عالمی جنگ سے ابھی تک محفوظ رکھا ہوا ہے، جو ایسا سمجھتے ہیں وہ ذرا اپنے دلوں پرہاتھ رکھ کرایمانداری سے بتائیں گو فی الوقت دنیا میں تیسری عالمی جنگ ہوتی دکھائی نہیں دیتی، پھربھی ذرا تعصب سے بالا تر ہو کرمشرقِ وسطیٰ سے افغانستان تک اور جنوبی ایشیا سے افروایشیائی ممالک تک ہرجگہ سلگتے دہکتے جنگی انگاروں کی تپش میں کسی کو کوئی کمی دکھائی دیتی ہے؟ترقی پذیر ممالک کے کروڑوں انسان مطمئن زندگی بسرکرنے سے قاصر دکھائی دیتے ہیں ‘مہلک اورجوہری ہتھیاروں کی جنگ یقیناًنہیں ہو رہی ہے’ مگردنیا بھر میں ‘پراکسی وار’ نے ہولناکیوں کاایک کیسا طوفانِ بدتمیری بپا کیا ہوا ہے’بحیثیتِ پاکستانی ہم اقوامِ متحدہ کی 72 ویں سالگرہ مناتے ہوئے اقوامِ متحدہ سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ اقوامِ متحدہ جیسا اہم عالمی ادارہ تیسر ی دنیا کے ترقی پذیرممالک’ کمزورممالک’معاشی طورپرمقروض ممالک کی قوموں کے مستقبل کومحفوظ بنانے اْنہیں مالیاتی عالمی سودخور اداروں کے شکنجوں سے بحفاظت نکالنے کیلئے اب تک کوئی موثر لائحہِ عمل دنیا کے سامنے پیش کرنے میں اِس قدر بے بس اور لاچارکیوں ہے؟1948 سے آج 2017 تک کتنی دہائیاں بیت چکی ہیں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں مقبوضہ جموں وکشمیر کے حوالے سے پاس کی ہوئی قراردادوں پراقوامِ متحدہ تادمِ تحریردوٹوک اور موثر قدم اْٹھانے سے بالکل معذوراورتہی دست ہے؟72 برسوں سے اقوامِ متحدہ کے سالانہ اجلاس تو باقاعد گی سے منعقد ہوتے چلے آرہے ہیں جہاں امریکی سربراہی میں دنیا بھر کے سربراہان اپنی تقریروں میں اپنے دلوں کا بھڑاس نکالتے ہیں لیکن دنیا کے کمزور ملکوں کے لامحدود مسائل کے متفقہ حل کے لئے کچھ نہیں ہوتا ‘امریکا اورمغربی ممالک نے اقوامِ متحدہ کے پیچھے چھپ کراْس کی آڑ میں ’کھلی تیسری عالمی جنگ’ یقیناًشروع نہیں کی‘مگرتیسری دنیا کے اہم خطوں کے قدرتی وسائل پرقبضہ جمانے کیلئے ‘عالمی معاشی جنگ’ گزشتہ تین دہائیوں سے برابر جاری ہیں جس میں تیسری دنیا کے چند ‘عالمی گماشتے’مغربی اورامریکی ‘ایمبریلاز’میں مغربی اورامریکیوں کا بچھا کچھا مال ہڑپ کرنے میں اْن کا ساتھ دیتے ہوئے ہمیں صاف نظرنہیں آرہے؟یہ اقوامِ متحدہ کی پہلی ذمہ داری بنتی ہے کہ اول تو وہ گزشتہ72 برسوں کے دوران جتنے بھی تیسری دنیا کے اہم مسائل ہیں جن میں فلسطین ہے’عراق ہے’ افغانستان ہے اورخاص کرمقبوضہ جموں وکشمیر جیسا اہم مسئلہ اقوامِ متحدہ کی ٹیبل پر’طے شدہ مسئلہ’رکھا ہواہے اْنہیں کون حل کروائے گا؟صورتحال کتنی ناگفتہ بہ ہوچکی ہے’بھارت بھی ایٹمی طاقت اورپاکستان بھی ایٹمی طاقت’بھارتی فوج کی جانب سے لائن آف کنٹرول پرکوئی روز ایسا نہیں گزرتا جب وہ سرحد پار سے اِس جانب گولہ باری نہ کی جاتی ہوایسے میں جنوبی ایشیا میں اقوامِ متحدہ علاقائی امن کی دنیا کو کوئی ضمانت دے سکتی ہے؟ کشمیر گزشتہ70 برسوں سے بھارتی فوجوں کے ہاتھوں لہولہان ہے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے بھارت تواقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو کسی کھاتے میں کچھ سمجھتا نہیں نہیں نئی دہلی نے اقوامِ متحدہ کی مقبوضہ کشمیرمیں قائم کردہ عالمی فوجی مبصرین ٹیم کوسرینگرمیں قدم رکھنے کی اجازت آج تک نہیں دی ہے جبکہ اِس کے برعکس پاکستان نے اقوامِ متحدہ کے چارٹرز اور اصولوں پر پابندی کے ساتھ راولپنڈی اور مٖظفرآباد میں اقوامَ متحدہ کی جانب مقررہ کردہ عالمی فوجی مبصرین مکمل سفارتی پروٹوکول دیا ہوا ہے اُن کے دونوں کلیدی مقامات پر افس کام کررہے ہیں اقوامِ متحدہ کو اِس کا بھی بروقت نوٹس لینا چاہیئے لیکن اُس جانب لگتا ہے مکمل خاموشی اور بے حسی کا ایک قابلِ دید ’جبری عالم‘ ہے ہرکس وناکس کیلئے؟ آج اقوامِ متحدہ کی72 ویں سالگرہ مناتے ہم پاکستانی اور اہلِ کشمیرکیا اب یہ سمجھ لیں کہ زورآورعالمی قوتوں کے سامنے اقوامِ متحدہ کوئی حیثیت نہیں ہے مطلب یہی ہوا کہ یہ عالمی ادارہ صرف ایک ‘عالمی ڈیبٹنگ کلب’ کی صورت اختیار کرتاجارہا ہے، جبکہ عملاً دنیاکا تین تہائی حصہ ’خبری یا بے خبری‘ کے عالم میں ایک ‘ان دیکھی عالمی جنگ ‘کی طرف کی طرف مسلسل بڑرہا ہے؟امریکا سمیت دنیا کی دیگر چار عالمی طاقتیں روس‘چین اور برطانیہ نے اقوامِ متحدہ کو اپنے ’ویٹوپاور‘ کی طاقتوں کا یرغمال بنا رکھا ہے اگر دنیا خاص کرتیسری دنیا کو اقوامِ متحدہ نے یونہی بے بس کیئے رکھنے کی اپنی کہنہ اور فرسودہ پالیسیوں کے گرد .’گھن چکر‘ کی مانند چھوڑے رکھا اور تیسری دنیا کے سنگین مسائل اگر اقوامِ متحدہ کی نظروں میں کوئی اہمیت نہیں رکھتے تو یہ یاد رہے کہ پھراگلے عہد کی تاریخ اقوامِ متحدہ پر سوالیہ نشان زیادہ دیر تک برداشت نہیں کرے گی پھر نئے سرے سے عالمی امن کی بقاء اور عالمی تعاؤن واتحاد کیلئے اگلے عہد کے باشندوں کو کوئی نیا’عالمی میثاق‘ یقیناًطے کرنا پڑجائے گا ۔