- الإعلانات -

موجودہ حکومت اورتحریکیں

کہا یہ جا رہا ہے کہ سابق وزیر اعظم اداروں کے ساتھ لڑائی مول لینا چاہتے ہیں۔عوام سے یہ گلہ کیا جاتا ہے کہ وہ سڑکوں پر نہیں نکلتے ؟آئیے اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ عوام سیاسی رہنماؤں کی کال پر سڑکوں پر کیوں نہیں نکلتے؟ اس میں شک نہیں کہ عوام پریشان ہیں بے روزگاری عام ہے اور مہنگائی ہے اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ’’جس پرزے کیلئے گریس کی ضرورت ہوتی ہے وہ آوازیں نکالتا ہے‘‘ لیکن ہمارے ہاں سب کچھ برداشت کیا جاتا ہے کچھ عناصر سیاست دان اور سول سوسائٹی وغیرہ عوام کو سڑکوں پر نکالنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن عوام ان سے کی تحریکوں سے علیحدہ ہی رہتے ہیں باوجود اسکے کہ عوام کی اکثریت ان پالیسیوں کو پسند نہیں کرتی آخر اس کنارہ کشی کی وجہ کیا ہے؟ انگریز دور کی غلامی کے خلاف سب سے پہلی تحریک شاہ عبدالعزیز دہلوی نے فتویٰ دارلحرب دیکر شروع کی پھر اسکے نتیجے میں تحریک بالاکوٹ سامنے آئی ۔ اس کے بعد 1857 ؁ء کی جنگ آزادی کی تحریک چلی بعد ازاں اسی کا تسلسل تحریک ریشمی رومال اور پھر تحریک خلافت کی صورت میں سامنے آیا ان سب تحریکوں کا مقصد دراصل انگریزوں سے نجات حاصل کرنا تھا اور انہیں کے نتیجے میں بالآخر انگریز اس برعظیم سے نکلا اور یہ تحریکات اپنے مقصد میں کامیاب وکامران ہوئیں ۔انگریز کے جانے کے وقت برصغیر کے مسلمانوں نے پاکستان کیلئے تحریک چلائی اور یہ بھی کامیاب ہوئی اور پاکستان بن گیا ۔ پاکستان بننے کے بعد 1947 ؁ء سے1969 ؁ء تک ہمیں کوئی تحریک نظر نہیں آئی کیونکہ عوام کو امید تھی کہ پاکستان بننے کے مقاصد آج نہیں تو کل حاصل ہونگے لیکن 1969 ؁ء میں اپوزیشن کی رہنمائی میں عوام نے اس لئے تحریک چلائی کہ اپوزیشن برسر اقتدار آکر حصول پاکستان کے مقصد کو پورا کریگی اس تحریک کے نتیجے میں ایوب خان رخصت ہوگئے اور حزب اختلاف بعد میں آپس میں لڑنے لگی جسکی وجہ سے پاکستان کا مشرقی بازو کٹ گیا ملک کے دوٹکڑے ہونے کے ساتھ نظریہ پاکستان بھی دوٹکڑے ہوگیا اہل بنگال نے کہا کہ بنگالی الگ قوم ہیں یہ پاکستان کے ساتھ نہیں چل سکتے اس کے بعدتحریک ختم نبوت 1974 ؁ء میں کامیاب رہی ۔اس کے بعد 1977 ؁ء حزب اختلاف کے اتحاد قومی اتحاد کی سرکردگی میں تحریک نظام مصطفی چلی ۔ اس تحریک میں تمام مذہبی سیاسی اور سیاسی پارٹیاں شریک ہوئیں عوام نے بھی اسلام کے نفاذ اور تحریک پاکستان کے مقاصد کے حصول کی خاطر اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہر قسم کی جانی اور مالی قربانی دی یہ تحریک نفاذ اسلام کے مقصد میں سرے سے ناکام رہی البتہ اس مقصد میں ضرور کامیاب ہوئی کہ برسر اقتدار پارٹی ہٹا کر مارشل لاء لے آئی گویا عوام کی قربانیوں کا یہ نتیجہ نکلا کہ ذوالفقار علی بھٹو چلاگیا اور جنرل ضیاء الحق آگیا۔اگر تحریک کے رہنماؤں واقعی مقصد نفاذ اسلام ہوتا تو جس طرح بھٹو کے خلاف تحریک چلائی تھی اسی طرح وہ ضیاء الحق کے مارشل لاء کے خلاف بھی تحریک چلاتے لیکن قومی اتحاد کی ایک بڑی مذہبی جماعت نے ضیاء الحق کے ہاتھ پر بیعت کی اسے مرد مومن مرد حق کا خطاب دیا اور پورے گیارہ برس اس اسکی ہم نوالہ اور ہم پیالہ بنی رہی۔ اسی دور میں انوکھا اسلام نافذ کیا گیا بینکوں میں سود اور زکوٰۃ دونوں اکٹھے نافذ رہے عدالتوں میں اسلامی سزائیں نافذکی گئیں اور اور ساتھ انگریز کا قانون بھی جاری وساری رہا۔گیارہ برس اسلام کے نام پر حکومت ہوتی رہی اس کے بعد پھر جمہوریت کا آغاز ہوا اور 88 ؁ء سے لیکر 99 ؁ء اکتوبر تک فوج کے زیر سایہ جمہوری حکومتیں رہی 1999 ؁ء میں پھر مارشل لاء آگیا جو 2002 ؁ء میں جمہوریت کی شکل اختیار کرگیا جوپندرہ اکتوبر 2007 ؁ء جاری رہا اور اس بار انہونی بھی ہوئی کہ پہلی بار پاکستان کی تاریخ میں اسمبلیوں نے اپنی مدت پوری کی البتہ اس دوران تین وزیر اعظم بھی تبدیل ہوئے ۔مارچ 2007 ؁ء اور پھر نومبر 2007 ؁ء چیف جسٹس کی برطرفی کے بعد مشرف ہٹاؤ تحریک کا آغاز ہو جس میں وکلاء اور صحافی برادری کے ساتھ حزب اختلاف نے بھی بھر پور حصہ لیا لیکن یہ تینوں عوام کو اپنے ساتھ شریک کرنے میں ناکام رہے جس کی مختلف توجیہات پیش کی جاتی ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ تمام حزب اختلاف ایک ایجنڈے پر متفق ہوکر تحریک چلائیں تو تحریک کامیاب ہو لیکن یہ محض خام خیالی اور اور خوش خیالی کے سوا کچھ نہیں ہے پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ پارٹیاں پہلے تو متحد ہی نہیں ہو سکتیں اور اگر بل فرض ہو بھی جائیں تو عوام کو اپنے ساتھ ملانے سے قاصر رہے گی ۔ماضی میں عوام نے اسلام کے نام پر تحریکیں چلائیں جس کے نتیجے میں مارشل لاء آگیا اب وہ جمہوریت کے نام پر تحریک چلائینگے جس کے نتیجے میں وہی پرانے جانے پہچانے آزمودہ شخصیات اور چہرے سامنے آئینگے۔ لہٰذا وہ کیوں اپنا مال، جان اور وقت ان کی خاطر ضائع کریں؟۔کیونکہ عوام ایشو کی سیاست سے تنگ آچکے ہیں اور انہیں کسی ایک ایشو پر سڑکوں پر نکلنے کی ضرورت نہیں۔