- الإعلانات -

کابل میں دہشت گردی

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں مارشل فہیم ملٹری اکیڈمی میں زیر تربیت فوجی کیڈٹس کے مرکز سے باہر نکلنے والی بس پر خودکش دھماکہ، دھماکے کے نتیجے میں 15 زیر تربیت اہلکار جاں بحق ہوگئے جبکہ کئی کی زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں، چار روز میں 7دھماکوں میں اب تک200افراد جاں بحق ہوچکے ہیں، دو مساجد کو بھی دہشت گردوں نے نشانہ بنایا ،ان حملوں کی ذمہ داری داعش نے قبول کی ہے۔ دہشت گردی کا یہ واقعہ اس امر کا عکاس ہے کہ افغانستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں اور آماجگاہیں موجود ہیں جہاں سے دہشت گرد انسانیت پر اس طرح کی بزدلانہ کارروائیاں کرکے خطے کے امن کو بدامنی میں بدلنے کی کوشش کررہے ہیں ان کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے افغانستان حکومت کو ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ جانقاہ واقعہ قابل افسوس اور افغانستان کیلئے لمحہ فکریہ ہے، دہشت گردوں نے بس کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ ملٹری اکیڈمی سے نکل رہی تھی توپیدل آنیوالے بمبار نے اس کو نشانہ بنایا۔افغان دارالحکومت میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران یہ دوسرا خودکش دھماکہ ہے۔ ننگرہار کے ضلع آچن میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کی گئی۔ 10ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے ان میں اہم رہنما ابوطاہر بھی شامل ہے۔ افغان فورسز نے صوبہ پکتیا کے گیان انٹرکٹ میں میں مشترکہ آپریشن کیا۔ حقانی نیٹ ورک کے 25 دہشت گرد ہلاک اور30 زخمی ہو گئے۔ بڑی اسلحہ کی تعداد تباہ کردی گئی ۔ نیٹو ہیڈ کوارٹرز پر بھی 2راکٹ فائر کئے گئے۔ 2 مساجد میں دہشت گردی سے جاں بحق افراد کی تعداد 85ہو گئی۔افغانستان میں اقوام متحدہ مشن کے سر براہ تادو میچی یاما موتو نے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عبادت میں مصروف لوگوں کے خلاف حملے کرنے والے بے رحم اور بے حس افراد کو لازمی طور پر انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہئے۔ کابل کی امام زمان مسجد میں بمبار برقعہ پہن کر آیا۔ ہر طرف خون بکھرا تھا، شیشے بھی ٹوٹ گئے۔ اگر حکومتی عہدیدار عوام کو تحفظ نہیں دے سکتے تو انہیں مستعفی ہو جانا چاہیے۔ دہشت گرد انسانیت کے دشمن ہیں ان کا ایک ہی مقصد ہے کہ انسانیت کا خون بہانہ دنیا کا کوئی مذہب بھی دہشت گردی کی اجازت نہیں دیتا اسلام تو امن کا دین ہے اور سلامتی کا درس دیتا ہے، پاکستان دہشت گردی کیخلاف فیصلہ کن جنگ لڑ رہا ہے اور پاک فوج کا دہشت گردی کیخلاف کردار اقوام عالم کیلئے قابل ستائش اور قابل تقلید قرار پارہاہے ۔ خطے میں پائیدار امن کیلئے ضروری ہے کہ افغانستان حکومت دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو ختم کرنے کیلئے موثر اقدام کرے۔دہشت گردی کی روک تھام کیلئے افغانستان کو کردار ادا کرنا ہوگا ورنہ دہشت گردی کے واقعہ اسی طرح ہوتے رہیں گے۔ دہشت گردی میں بھارت کا عمل دخل کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے، خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کی کارروائیاں طشت ازبام ہوچکی ہیں جن کیخلاف پاکستان ایک تواتر کے ساتھ سراپا احتجاج ہے اور دنیا کی توجہ اس طرف مبذول کرواتا چلا آرہا ہے لیکن عالمی برادری بھارتی دہشت گردانہ کارروائیوں کو روکنے کیلئے ٹس سے مس نہیں ہورہی جس سے خطے کے امن کو شدید خطرات لاحق دکھائی دے رہے ہیں۔ کابل میں دہشت گردی کا حالیہ واقعہ قابل مذمت ہے اس واقعہ کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ پاکستان کو واقعہ پر شدید دکھ ہے اور وہ اس کی مذمت کرتا ہے۔ پاکستان اور افغانستان دہشت گردی کا شکار ہیں اب وقت کا یہ تقاضا ہے کہ دہشت گردی کے ناسور کو خطے سے اکھاڑنے کیلئے مشترکہ اقدامات بروئے کار لائے جائیں تاکہ خطے کا امن بحال ہو اور عوام میں پائی جانے والی پریشانی کا خاتمہ دیکھنے میں آئے۔ افغان حکومت نے اگر تسائل پسندی کا مظاہرہ کیا اور ٹھوس حکمت عملی اختیار نہ کی تو انسانیت کے دشمن اس طرح کے وار کرکے خطے کے امن کو تباہ کرنے کی کوششیں کرتے رہیں گے۔ دہشت گردوں کو ان کے منطقی انجام تک پہنچانا وقت کی ضرورت ہے اور اس میں کسی مصلحت پسندی انتہائی ناگزیر ہے۔ افغان حکومت دہشت گردوں کے خاتمے کیلئے اپنی مربوط پالیسی اپنائے تاکہ خطے کا امن تباہ نہ ہونے پائے۔
بھارتی میڈیا کی قیاس آرائیاں
پاکستان نے نئی دہلی میں پاکستان کے ہائی کمشنر سہیل محمود کی بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج سے ملاقات کے بارے میں بھارتی میڈیا کی خبروں کو قیاس آرائی قرار دیا ہے۔پاکستان کے ہائی کمشنر سہیل محمود ان دنوں نئی دہلی میں معمول کے مطابق سفارت کاروں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج سے ان کی ملاقات انہی ملاقاتوں میں سے ایک ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ کے ساتھ ملاقات بھی پاک بھارت تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسی ملاقات میں کسی مخصوص کیس پر بات نہیں ہوئی۔ بھارتی میڈیا نے گزشتہ روز دن بھر یہ خبریں نشر کیں کہ بھارتی وزیر خارجہ نے پاکستانی ہائی کمشنر سے بات چیت میں کلبھوشن یادیو کی رہائی اور اس کی والدہ کی طرف سے کلبھوشن سے ملاقات کی درخواست پر مفید بات چیت کی تھی۔ پاکستان کی وزارت خارجہ نے ان خبروں کو قیاس آرائی قرار دیا ہے۔ پاکستان نے کہا ہے طاقت سے آزادی کی تحریکوں کو دبایا نہیں جاسکتا، بھارت مذاکرات سے کیوں گریزاں ہے یہ بات ڈھکی چھپی نہیں۔مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ بھارتی میڈیا کی باتیں قیاس آرائی کی عکاس ہیں ان رپورٹ پر یقین کرنا درست نہیں ہے۔ بھارتی میڈیا پاکستان کیخلاف اکثر بے پرکی اڑاتا رہتا ہے اور پروپیگنڈا اس کے مشن میں شامل ہے۔
اداروں سے ٹکراؤ کی پالیسی درست نہیں
وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ اگر عمران خان 26اکتوبر کو الیکشن کمیشن میں پیش نہ ہوئے تو پھر عدالت کے حکم پرقانون حرکت میں ضرور آئے گا امید ہے عمران خان اپنے اعلان کے مطابق 26تاریخ کو ضرور پیش ہوں گے، احتساب عدالت میں ہونے والے واقعہ کی نوعیت ایک مخصوص پالیسی کے ساتھ تھی اس پر میں اختلاف کر سکتا ہوں اس کو انتظامی انداز میں حل کریں گے رینجرز ایف سی وزارت داخلہ کے ماتحت ہیں وہاں جانے کا مقصد یہی تھا کہ ایک واضح پیغام جائے کہ ہم ان اداروں کی مضبوطی پر یقین رکھتے ہیں اور ان کی قدر کرتے ہیں ہمیں ان کے جذبے کو تسلیم بھی کرنا چاہیے ۔ رینجرز کے ساتھ میرا کبھی تنازعہ نہیں تھا ایک انتظامی صورتحال تھی جس کی وہ خود بھی تحقیق کر رہے ہیں یہ ادارے سیکورٹی اور بارڈر مینجمنٹ کیلئے ہماری فرنٹ لائن ہیں ۔ عدلیہ کے باہر وکلاپر تشدد اور پولیس افسر کو تھپڑ مارنے کے واقعہ کی تحقیقات ہو رہی ہیں۔ہمیں وکلاسے بڑی ہمدردی ہے مگر اکثر انکی طرف سے ایسے اقدامات اٹھائے جاتے ہیں جو قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کے مترادف ہوتے ہیں اس موقع پر ن لیگ کے ورکر نے کوئی ایسی حرکت نہیں کی مگر وکلانے اپنی حیثیت کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی عدالت کا کمرہ بہت چھوٹا ہے وہاں صرف 25لوگ ہی بیٹھ سکتے ہیں وکلاکا فرض ہے کہ وہ انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں جب انکوائری رپورٹ آئے گی تو ہلڑ بازی کرنے والوں کے خلاف بلا تفریق کاروائی ہو گی۔ بلا تفریق کارروائی ضروری ہے اداروں سے ٹکراؤ کسی لحاظ سے بھی درست نہیں ہے۔ سیاست میں رواداری اور تدبر کا ہونا ضروری ہے،جمہوریت میں برداشت کے کلچر کو فروغ دے کر ہی آپس کا تناؤ ختم کیا جاسکتا ہے۔