- الإعلانات -

پنشنروں کا استحصال

ejaz-ahmed

EOBIیعنی صنعتی کا رکنوںکے ضعیف العمری سے متعلق فوائد کے ادارے نے اپنا کام یکم جولائی 1976ءکو شروع کیا۔ اور اعداد و شمار کے مطا بق اس ادارے نے اب تک 101,024 ملازمت دینے والے اداروںکی رجسٹریشن کی ہے۔ مگر بد قسمتی سے ملک میں جاری لوڈ شیڈنگ ، مختلف ادوار کی حکومتوں کی غلط پالیسیوں اور دیگر کئی وجوہات کی وجہ سے بد قسمتی سے ان میں30ہزار ادارے بند ہوچکے ہیں اور4ہزار اداروںنے اپنی رجسٹریشن منسوخ کردی ہے ۔ اور اب باقی ماندہ68 ہزاراداروں میں58 لاکھ خواتین و حضرات رجسٹرڈ ہیں۔ فی الوقت یہ ادارہ وطن عزیز کے5لاکھ کارکنوں کو فائدہ پہنچا رہا ہے ، جس میں نجی اداروں کی پنشن یافتہ ملازمین کی تعدادساڑھے 3 لاکھ،،پنشن یافتہ ملازمین کی لواحقین جس میں بیوائیں اور یتیم شامل ہیں، انکی تعدادڈیڑھ لاکھ اورتقریباً 9 ہزار افراد کو معذوری کی پنشن دی جا رہی ہے۔اس ادارے کے اخراجات مالکوں اور کارکنوں کی مالی شراکت سے پورے کئے جاتے ہیں جسکے تحت آجر( یعنی مالک) 5 فیصد اور آجیر(یعنی کارکن) ایک فی صد فنڈ کٹوتی کرتا ہے۔EOBIکے تحت کارکنوں کو کم ازکم 15سال کی ملازمت کے بعد پنشن کے فوائد دیئے جاتے ہیں۔ یہ ضروری نہیں کہ 15 سال کی مدت ملازمت ایک ہی ادارے میں پوری کی جائے۔ پنشن کے لئے کل مدت ملازمت کا تخمینہ لگا یا جاتا ہے ، ملازمت کا تسلسل شرط نہیں۔ 15سال کی مدت ملازمت 20 سال میں پوری کی جاسکتی ہے۔ اگر ہم 1973ءکے آئین پر نظر ڈالیں تو یہ دستور اس بات کی ضمانت دیتاہے کہ ریاست ، حکومت پاکستان اور دیگر اداروں کے ملازمین کو سماجی تحفظ فراہم کرے گی۔ 2010ء میں اٹھارویں ترمیم کی منظوری، پاکستان پیپلز پا رٹی کی حکومت کا ایک بڑا کارنامہ تھا اور پاکستان ورکرز فیڈریشنWF) (P،جوکہ ملک بھر میں 8لاکھ لوگوں کی نمائندہ تنظیم ہے اس تنظیم نے اٹھارویں ترمیم کی کامیابی کے لئے جتنی بھی تگ ودو اور حمایت کی اُسکی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے ،مگر بد قسمتی سے اس ترمیم کی منظوری کے بعد کئی وفاقی اداروں کے ساتھ ساتھ، Employees Old Age Benifits ای او بی آئی کوصوبوں کے حوالے کرنا اُن لاکھوں مزدوروں، کارکنوں اور اُنکے خاندانوں کے ساتھ بڑی زیادتی ہے ،جنہوں نے آٹھویں ترمیم کی دل کھول کر تائید اور حمایت کی تھی اور ملک تعمیر اور ترقی کے لئے کو شاں ہیں۔ ورکرز فیڈریشن میں اس ادارے کو صوبوں کو حوالگی کے بارے میں بڑی تشویش پائی جاتی ہے۔ کیونکہ نجی اداروں کے یہ لاکھوں ملازمین اس بات کو اچھی طریقے سے سمجھتے ہیں کہ اس ادارے کو صوبوں کے حوالہ کرنے سے کارکنوں ، انکے خا ندانوں کی مالی ، سما جی اور معاشرتی حالت کے علاوہ انکے پنشن پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ آٹھا رویں ترمیم کے بعد گذشتہ ۴ سال سے اس تنظیم کے ملازمین کو پنشن فنڈز عدم دستیابی کے بہانے نہیں دی جا رہی ہے۔دنیا کے تقریباً ۰۵ ممالک میں سوشل سیکور ٹی یعنی سماجی تحفظ اور پنشن وغیرہ وفاقی حکومت کے پا س ہوتاہے۔ پاکستان کے دستور کے مطابق صرف وفاقی پارلیمینٹ کو محنت کشوں کے سلسلے میں قانون سازی کا حق حا صل ہے۔ پاکستان نے عالمی ادارہ محنت آئی ایل اوکے 36 کنونشنز کی تو ثیق کر رکھی ہے ۔ مزدوروں اور کارکنوں کی سماجی تحفظ کے سلسلے میں پاکستان نے ڈنمارک ، ہالینڈ اور لیبیا سے دوطر فہ معاہدے اور اقوام متحدہ کے عالمی منشور برائے انسانی حقوق اور معاشی ، معاشرتی اور ثقافتی حقوق کے سلسلے میں بھی بین الاقوامی قوانین پر دستخط کئے ہیں جسکے تحت کارکنوں کو ساتھ معاشی اور معاشرتی تحفظ فراہم کرنے کی اشد ضرورت پر زور دیا گیا ہے ۔ اگر ہم بین الاقوامی کنونشنز اور بین لاقوامی معاہدوں کی روشنی میں سماجی تحفظ کے موضوع کو لیں، جس سے مراد پنشن ہے تو یہ اختیار صرف اور صرف وفاقی پارلیمنٹ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے اور صوبائی اسمبلیوں کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔یہ بات بھی انتہائی قابل ذکر ہے کہ ایف ایل ایل کی شق نمبر 5 کے تحت کسی بھی صوبے سے ہجرت اور تبادلہ یا کسی اور صوبے یا وفاق میں سکونت بھی صرف اور صرف وفاقی پارلیمنٹ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔مردم شماری کے مطابق ملک کے شمالی علاقوں سے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد ملک کے جنوبی حصے میں ہجرت کرتے ہیں جبکہ بزر گوں ، بیواﺅں اور معذوروں کی ایک کثیر تعدادملک کے شمالی حصوں میں ہجرت کرتے ہیںاس تنا ظر میں یہ ایک بڑا صوبائی مسئلہ بن گیا ہے ۔ ای او بی آئی کا قانون وہ واحد قانون ہے جو ایسے تمام ہجرت کرنے والے اور عارضی طو ر پر کہیں آباد کار ایسے ملازمین کو معاشرتی تحفظ فراہم کرتا ہے جنکی انشورنس ہوئی ہو۔،لہذاءصوبائی اسمبلیوں کو کوئی اختیار نہیں کہ وہ کار کنوں کی ایسی ہجرت یا ان کی عارضی علاقے کی تبدیلی کے متعلق کو بھی قانون سازی کر یں۔ خیبر پختون خوا اور بلوچستان اس ادارے کی صوبوں کو منتقلی کے بارے تشویش پائی جاتی ہے۔ اُنکا کہنا ہے کہ ایسے کارکن کو پنشن اور ای او بی آئی کی سہولیات کیسے دی جائیں گی جنہوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی ایک صوبے میں گزاری اور ریٹائر منٹ کی زندگی دوسرے صوبے میں پسند کرتا ہو۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ ایسے پنشن کا کیا ہوگا جوکہ ایک صوبے میں کام کرتا رہا ہے اور 7 سال بعد ملازمت کے لئے ایک اور صوبے میں چلاجاتا ہے ۔ مزید کہتے ہیں ایسا کارکن جس نے ایک صوبے کام کیا ہوا ہے اسکے لواحقین کو پنشن کیسے دی جائے گی اگر لواحقین دوسرے صوبے میں رہائش اختیار کرلیتے ہیں۔اب ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی حکومت کو ای اوبی آئی کو صوبوں کے حوالے نہیں کرنا چاہئے اور اگر کرنا چاہتے ہیں تو اسکے لئے صوبوں کو پہلے قانون سازی کرنی چاہئے اور اپھر اسکے بعد فنڈز کے لئے پہلے کے لئے انتظام کرنا چاہئے۔علاوہ ازیں بو رڈ ممبران میں حقیقی نمائندہ گان کو شامل کرنا چاہئے۔ ماضی میں اس ادارے کے فنڈز کو مختلف اور کاموں کے لئے Misuse کیا جاتا رہا. ۔ حالانکہ یہ ورکروں اور نجی اداروں کے اداروں کے شراکت سے قائم ہونے والا فنڈ ہے اور حکومت کو تو اس میں مداخلت نہیں کرنا چاہئے ۔ اگر حکومت اس میں مدا خلت کا خواہاں ہیں تو حکومت کو چاہئے کہ وہ اسکے لئے ایسی قانون سازی کریں کہ وہ اس مد میں فنڈز کو کسی اور مد میں استعمال نہیںکرسکیں گے۔جیسا کہ ماضی ہوتا رہا۔اس کالم کی تو سط سے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ممبران اور تمام پارٹیوں کی قیادت سے درخواست ہے کہ ورکروں کو استحصال سے بچانے کےلئے ادارے کو و فاقی حکومت کےساتھ رہنے دیں۔