- الإعلانات -

کابل اور دہلی ایک بار پھر باہم شیر و شکر

riaz-ahmed

افغان حکومت ملک میں طالبان کی مسلح بغاوت کے خلاف کامیاب جنگ کے لیے بھارت سے چار جنگی ہیلی کاپٹر خریدنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ یہ ہیلی کاپٹر روسی ساختہ Mi-25 طرز کے لڑاکا ہیلی کاپٹر ہوں گے۔ افغانستان اور بھارت کے مابین دفاعی شعبے میں تعاون کا یہ معاہدہ اپنی مالیت میں بہت بڑا تو نہیں لیکن کابل کی طرف سے اس طرح اپنے لیے اتحادیوں کی تلاش کا یہ عمل ممکنہ طور پر ہمسایہ ملک پاکستان کو ناراض کر سکتا ہے۔
افغان حکومت کا کہنا ہے کہ طالبان کو شکست دینے کے لیے فضائی طاقت کی خصوصا جنگی ہیلی کاپٹروں کی اشد ضرورت ہے جبکہ امریکہ نے افغان فورسز کو کم طاقتور مکڈونلڈ ڈگلس ایم ڈی 530 ہیلی کاپٹر فراہم کرنے پر اتفاق کیا جنہیں ہتھیاروں سے لیس کیا جا سکتا ہے مگر افغان افسر بڑے اور مضبوط روسی ہیلی کاپٹروں کو ترجیح دیتے ہیں۔
2011 میں دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے سٹریٹجک شراکت داری کے معاہدے کے بعد بھارت کی طرف سے افغانستان کو یہ جنگی سازوسامان کی پہلی فراہمی ہو گی۔ اس معاہدے پر پاکستان نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا۔اس سے قبل بھارت افغانستان کو کم طاقت والے ہیلی کاپٹر، گاڑیاں اور فوجی تربیت فراہم کر چکا ہے۔ افغانستان نے بھارت کے علاوہ روس سے بھی فوجی سازوسامان خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔نئی دہلی ہیلی کاپٹروں کو اڑا کر کابل نہیں پہنچا سکتی کیونکہ ایسا کرنے کے لیے انہیں پاکستان کی فضائی حدود میں سے گزرنا پڑے گا۔ اس لیے ان ہیلی کاپٹروں کے حصوں کو علیحدہ کر کے انہیں جہاز کے ذریعے افغانستان پہنچایا جائے گا۔نئی دہلی کو ہیلی کاپٹروں کی منتقلی کے لیے روس سے بھی اجازت لینا پڑے گی کیونکہ یہ ہیلی کاپٹر روس سے خریدے گئے تھے۔
افغانستان کی قومی سلامتی کے محکمہ نے کھلم کھلا پاکستان پر اپنی نوعیت کا انتہائی مضحکہ خیز اور بے بنیاد ایک الزام یہ لگایا ہے کہ کابل میں بھارتی تنصیبات پر حملوں کی منصوبہ بندی پاکستان میں تیار کی جاتی ہے ۔مزید یہ کہا کہ بھارت سمیت دیگر غیر ملکی اہداف پر حملوں کی منصوبہ بندی بھی پاکستان میں موجود طالبان اور دیگر انتہاپسند تنظیموں کی پناہ گاہوں میں تیار کی جاتی ہیں۔ اصل میں افغانستان ایک بار پھر بھارت کی گود میں جانے کی تیاریاں کر رہا ہے اس لئے ضروری ہے کہ وہ پاکستان پر بے بنیاد اور من گھڑت الزامات عائد کرے ۔ حامد کرزئی کے بعد اشرف غنی کے منہ میں بھی بھارتی زبان بول رہی ہے۔
افغانستان نے ہی اپنے ملک میں پاکستان کی سرحدوں کے ساتھ بھارت کے 24کونسل خانے کھلوا کر سرحد اور بلوچستان میں پاکستان کی تباہی کے مکمل سامان پیدا کرنے کی گھناونی کوششیں کی ہوئی ہیں ۔ اِسی طرح ساری دنیا کو یہ بات بھی اچھی طرح معلوم ہے کہ آج پاکستان سے متعلق جو زہر اگلا جا رہا ہے وہ بھارت، اسرائیل اور امریکہ کی شہ پر ہے۔
دنیا جانتی ہے کہ دہشت گرد افغانستان سے آکر پاکستان میں کارروائیاں کر رہے ہیں۔ ہماری حکومت نے بار ہا کہا کہ افغان حکومت کنٹر سے باجوڑ اور مہمند ایجنسی میں دہشت گردوں کا داخلہ روکنے کے لئے بارڈر سیل اور خفیہ معلومات کا فوری طور پر تبادلہ کرے مگر افغان حکومت ٹس سے مس نہیں ہوئی۔
افغانستان 1979 میں پاکستان کے کئے جانے والے احسانوں کو بھول کر آج بھارت کی گود میں جا بیٹھا اور بھارت، امریکا اور اسرائیل کی جانب سے پاکستان سے متعلق آنے والی ہدایات پر پاکستان پر بہتان ترازی کی انتہا کو پہنچ کر ساری دنیا میں پاکستان کو دہشت گرد ملک گردانے میں لگا ہوا ہے حالانکہ افغانستان خود ایک مدت سے دہشت گردوں کی آماجگاہ بنا ہوا ہے۔ آج بھی امریکا بھارت اور دیگر کو کسی بھی دہشت گرد کی تلاش ہوتی ہے تو یہ اِسے افغانستان سے ہی ڈھونڈ نکالتے ہیں۔
بھارت ایک بار پھر افغانستان میں اپنے قدم جما رہا ہے۔ اسلحے کے معاہدے کر رہا ہے۔ سیکورٹی اداروں کی ٹریننگ کا ذمہ لے رہا ہے۔ سو سے زائد قونصل خانے تعمیر کرچکا ہے۔ افغانستان کی تعمیر و ترقی کے نام پر افغانستان کو اپنی گرفت میں لے رہا ہے۔
پاکستان کے اندر دہشت گردوں کے خلاف زبردست کارروائی ہورہی ہے۔ دہشت گردوں کے سب سے بڑے گڑھ شمالی وزیرستان سے ان کا صفایا جاری ہے۔ افواج پاکستان کو اس سلسلے میں بڑی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ مگر اس سلسلے میں مکمل کامیابی کا انحصار افغانستان کے رویے اور اسکے تعاون سے مشروط ہے۔ پاکستان نے افغانستان کو کارروائی سے پہلے اطلاع دی تھی کہ فوج دہشت گردوں کے خلاف شمالی وزیرستان میں ایک بڑی کارروائی کاآغاز کررہی ہے۔ اس میں تعاون کی صورت میں دہشت گردوں کا صفایا ہوسکتا ہے اور دونوں ملک آئندہ زیادہ پر امن طریقے سے تعلقات جاری رکھ سکیں گے، اگرافغانستان ان دہشت گردوں کے افغانستان فرار ہونے کے تمام راستے بند کردے۔ پاکستانی فوج نے زبردست کارروائی کی لیکن افسوس کی بات ہے کہ افغانستان نے تعاون نہیں کیا ۔ اپنی سرحدوں کو بند نہیں کیا اور دہشت گردوں کو فرار ہونے کاموقع فراہم کیا۔ یوں دہشت گرد فرار ہوگئے۔ آج کل ان کی بڑی تعداد افغانستان میں ہے۔ افغانستان اور اس کے حکمران یہ بات محسوس کررہے ہیں کہ انہوں نے غلطی کی اور دہشت گردوں کو افغانستان میں داخل ہونے کا موقع فراہم کیا بلکہ بعض سرحدی محافظین نے ان کی مدد کی اور ان کو پاکستان سے بچ نکلنے کا موقع دیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ طالبان نے افغان حکومت پر حملے تیز کردئیے۔ افغانستان کے دور دراز علاقوں میں طالبان دہشت گردوں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ آئے دن ایک آدھ ضلعی ہیڈ کوارٹرز پر قبضہ ہوتا ہے۔ درجنوں سپاہی ہلاک اور زخمی ہورہے ہیں یہ سب کچھ افغان طالبان کی طاقت میں اضافہ کے بعد ہوا ہے۔ پاکستانی طالبان افغانستان پہنچ گئے او روہاں پر حالات زیادہ خراب ہوگئے۔ اگر افغانستان تعاون کرتا اور پاکستان کی مدد کو آتا اور اپنی سرحدوں کو بند کردیتا تو ممکن تھا کہ ان کی مشکلات میں کمی آتی اور افغانستان زیادہ پر امن ہوتا بہ نسبت آج کل کے حالات کے۔