- الإعلانات -

اقوام متحدہ، قیام امن کیلئے پاک فوج کا کردار

اقوام متحدہ کے بانیوں نے ستر سال قبل دنیا کو ایک اور جنگ سے بچانے کے لیے اس ادارے کی بنیاد رکھی تھی۔اقوام متحدہ جنگ اور قدرتی آفات کے متاثرین کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد فراہم کرنے کے علاوہ تنازعات کو روکنے اور انہیں حل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔اس وقت دنیا بھر کے 192 کے قریب آزاد ممالک و ریاستیں اقوام متحدہ کی ممبر ہیں۔ 1947ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ہر سال 24 اکتوبرکا دن یونائٹڈ نیشن ڈے کے طور پر منانے کا اعلان کیا تاکہ لوگ اس ادارے کے قیام کا مقصد ،اسکی سرگرمیوں اور کامیابیوں کے بارے میں جان سکیں۔ دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ اقوام متحدہ کے دن کی مناسبت سے خصوصی پروگرام نشر کر تے ہیں جبکہ سیمینارز اور مذاکروں کا بھی انعقاد کیا جا تا ہے جن میں مقررین اقوام متحدہ کے کردار پر روشنی ڈالتے ہیں۔اس موقع پر امن مشن کی افواج کے شہیدوں کو بھی خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے جنہوں نے اقوام متحدہ کے زیر انتظام شورش زدہ علاقو ں میں امن و استحکام کے قیام کے لئے خدمات سرانجام دیتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔پاکستان 1960 میں اقوام متحدہ کے امن مشن کا حصہ بنا جب کانگو میں ایک آپریشن کے لیے پاکستان نے اپنا ایک دستہ بھیجا۔ گزشتہ 55 سالوں میں دنیا کے تمام براعظموں میں اقوام متحدہ کے امن مشن کا حصہ رہا۔ پاکستان نے اقوام متحدہ کے 41 امن مشنز میں اب تک 23 ممالک کے لیے ایک لاکھ 60 ہزار پاکستانی جوانوں کی خدمات فراہم کی ہیں۔ اس وقت بھی اقوام متحدہ کے مختلف امن مشنز کے لیے پاکستان کے 7500 اہلکار تعینات ہیں۔ پاکستان کئی برسوں تک اقوام متحدہ کے امن مشن میں سب سے زیادہ اہلکار فراہم کرنے والا ملک رہا جبکہ اس وقت بھی پاک فوج کے 7500 جوان اور افسر اقوام متحدہ کے 6 مشنز میں حصہ لے رہے ہیں۔ دنیا میں قیام امن کے لیے پاک فوج کے 23 افسروں سمیت 144 جوان اب تک جام شہادت نوش کر چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے امن مشن میں پاک فوج کی بے مثال خدمات کا اعتراف اقوام متحدہ سمیت دنیا کے اہم رہنماؤں نے ہمیشہ کیا اور اب پاک فوج کو اقوام متحدہ کے امن مشن کا لازمی جزو تصور کیا جاتا ہے۔ پاکستان کے صدر ممنون حسین نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے قیام کے 70 سال مکمل ہونے پر پاکستان بھی اس خوشی میں شریک ہے۔ یہ دن اس بات کی یاد دلاتا ہے کہ عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ بہترین ذریعہ ہے۔پاکستان مسئلہ کشمیر کا حل بھی اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق چاہتا ہے۔ خطے میں دیرپا امن اور ترقی کے لیے اس مسئلے کا حل ضروری ہے۔ پاکستان کے وزیراعظم نے بھی حال ہی میں اقوام متحدہ کے اجلاس میں جنوبی ایشیا میں دیرپا امن کے لیے کشمیر کے مسئلے کے حل پر زور دیا ۔ پاکستان خطے میں امن کے لیے کشمیر کے مسئلے کا جلد حل چاہتا ہے۔پاک فوج کے عالمی امن میں کردار کی پوری دنیا گواہ ہے اور اسکی سند اقوام متحدہ کئی بار جاری کرچکا ہے۔دنیا کی دیگر افواج کی نسبت پیشہ وارانہ صلاحیتیں پاک فوج نے زیادہ بہترادا کی ہیں۔اسکے پایہ کا کوئی اور نہیں ہے۔اقوام متحدہ اپنے عالمی دن کے موقع پر پاک فوج کی صلاحیتوں کو کھلے دل سے سراہتا ہے۔ اقوام متحدہ کے امن مشن میں پاک فوج کی بے مثال خدمات کا اعتراف اقوام متحدہ سمیت دنیا کے اہم رہنماؤں نے ہمیشہ کیا اور اب پاک فوج کو اقوام متحدہ کے امن مشن کا لازمی جزو تصور کیا جاتا ہے۔ پاکستان نے اس سلسلے میں بوسنیا، صومالیہ، سیرالیون، کانگو اور لائیبریا میں اہم خدمات سر انجام دیں جہاں پاک فوج کے جوانوں نے محنت اور لگن سے دکھی انسانیت کی خدمت کی۔ یہی وجہ ہے کہ امن مشن میں شریک ہونے والے پاکستانی فوجیوں کو ان کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور مقامی لوگوں سے ان کے حسن سلوک کی وجہ سے ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔اس کے علاوہ پاکستان نے ممبر بننے سے لے کر آج تک اقوام متحدہ کے اصولوں کی بڑی سنجیدگی سے پابندی کی ہے اور بین الاقوامی معاملات میں ہمیشہ امن پسندی کا ثبوت دیا ہے۔ پاکستان نے ایٹمی ملک ہونے کے باوجود ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کی اقوام متحدہ کی پیش کردہ قراردادوں کی ہمیشہ حمایت کی تا کہ ایٹمی توانائی کو ہمیشہ پر امن مقاصدکے لئے استعمال کیا جا سکے۔پاکستان نے فلاحی خدمات کے حوالے سے اقوام متحدہ کے فلاحی اداروں سے ہمیشہ تعاون کیا اور جہاں کہیں اور جب کبھی بھی پاکستانی ماہرین کی ضرورت پیش آئی تو فراخدلی سے اپنی خدمات پیش کیں۔دنیا کے مختلف ملکوں میں قیام امن کے لیے پاک فوج کے کردار کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے اقوام متحدہ میں خصوصی تقریب میں سابقہ سیکرٹری جنرل بان کی مون کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ پاکستان کے ساتھ شراکت داری کو بڑی اہمیت دیتا ہے۔ پاکستان کے ڈیڑھ لاکھ فوجی 23 ممالک میں اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں جب کہ 7 ہزار سول سیکیورٹی اہلکار بھی اقوام متحدہ کی امن فورس کا حصہ ہیں۔ پاکستانی فوجیوں کی امن کے لئے خدمات کی جتنی بھی تعریف کی جائے وہ کم ہے۔اقوام متحدہ میں تعینات پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹرملیحہ لودھی کا کہنا تھا کہ امن کیلئے پاکستان اور عالمی ادارے کے مقاصد یکساں ہیں اور اس مقصد کے حصول کے لئے سب کو مشترکہ کوششیں کرنی چاہئے۔ ہمیں امن مشنز میں پاک فوج کے کردار پر فخر ہے۔ 24 اکتوبر کو جب دنیا اقوام متحدہ کے قیام کے ستر سال مکمل ہونے کا دن منا رہی ہے۔ ایسے وقت میں اس عالمی تنظیم کے امن مشن میں پاکستانی فوج کے کردار کو بھی یاد رکھا جانا چاہیئے۔ دنیا میں قیام امن کے لیے اقوام متحدہ کے امن مشن کے تحت پاک فوج نے سب سے مثالی اور نمایاں خدمات سرانجام دیں۔ اقوام متحدہ کے امن مشن میں پاکستان فوج کا کردار سب سے نمایاں ہے۔