- الإعلانات -

افغانستان میں امن اور ہولناک قتل و غارت

طاقت اقتدار اور وسائل پر قبضے کا شوق انسانی فطرت کا انتہائی خطرناک حصہ ہے جو جس قدر زیادہ وسائل پر قبضہ رکھتے ہیں ان کی اشتہا خوفناک حدتک بڑھ چکی ہوتی ہے ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ جو کچھ بھی اس دنیا میں ہے اس کا بلا شرکت غیرے مجھے اکیلا ہی مالک ہونا چاہئے چونکہ فرد سے ہی قومیں بنتی ہیں تو انفرادی نفسیات اجتماعی نفسیات کا روپ دھار لیتی ہے تو یہ کھیل اور خوفناک ہوجاتا ہے وہاں انسان کی کی حیثیت ایک خس کے برابر بھی نہیں رہتی نہ ہی اخلاقیات نہ صلہ رحمی یہ باتیں محض کتابوں میں لکھے ہونے تک ہی رہ جاتی ہیں اور یہ اصول پند و نصائح اور خوبصورت گفتگو تک ہی محدود ہو جاتے ہیں اس تمہید کا مقصد افغانستان میں ہونے والے پے در پے دھماکے اور قتل غارت کے پس منظر کو بیان کرنا ہے کہ یہ پاور گیم کیسے کیسے گل کھلا رہا ہے جیسا کہ قارئین کرام کے علم میں ہے کہ افغانستان دہائیوں سے غیروں کے مفادات کے کھیل کا اکھاڑہ بنا رہا ہے لیکن اگر 70 کی دہائی سے شروع کریں تو سوویت یونین سرخ انقلاب کے نام پر در آیا اور افغانستان میں لوگوں کے اذہان بدلنا شروع کردیے نوجوانوں کے ساتھ ساتھ پاکستانی نوجوانوں کو مغرب کے ظالمانہ سرمایہ داری نظام کو انسان دشمن ثابت کرنے کے لئیماسکو کی یونیورسیٹیوں میں لے جایا گیا ان کی ذہن سازی کی گئی کامریڈ جیسے خوشنما نعروں سے ہر لڑکے کو چی گویرا باور کرانے کی کوشش کی گئی اور انہیں کیمونسٹ نظریات اور سرخ کے لیبل کے ساتھ واپس دونوں ملکوں میں بھجوایا گیا اور ان لوگوں کے ذہن میں گریٹر پختونستان کا سودا سمادیا کہ اٹک سے لیکر ایرانی سرحد تک پختونستان ہی ہے یہ کھیل تو اصل میں تقسیم ہند سے پہلے سے شروع ہوچکا تھا چند لیڈروں کو بڑا لیڈر باور کرانے کے لئے ان کے اطراف ایک تقدیس اور نظریے کاخیالی جال بنا گیا انہیں سرخے کی شناخت دی گئی فنڈنگ کی گئی تربیت کی گئی جو بظاہر تو عدم تشدد کے نظریات پر مبنی تھی لیکن رفتہ رفتہ انہیں لوگوں کو تخریب کاری کی تربیت دی گئی جس کی تمام تر تفصیلات مشہور صحافی جمعہ خان صوفی کی کتاب "”ناتمام "”میں درج ہیں سوویت یونین کو افغانستان سے نکالنے امریکہ کا جنگ میں کودنا بہت بڑی شازش تھی جس کے اثرات پاکستانی سوسائٹی آج بھی بھگت رہی ہے اصل میں ہمارا شریک کار امریکہ ہی اصل مسئلہ تھا جس نے ہمیں چالاکی سے استعمال کیا مطلب نکلنے پر شکریہ ادا کرنے کی بجائے ہمارا ہی گلہ گھونٹنے پر آگیا یہ بھی امریکی دھوکہ بازیوں کی لمبی تاریخ کا ایک حصہ ہے آج کیا ہورہا ہے امریکہ لاکھ کہتا رہے کہ وہ افغانستان سے نکلنا چاہتا ہے تو دھوکہ دے رہا ہے اور جھوٹ بول رہا ہے امریکہ کی سنجیدگی ملاحظہ فرمائیے کہ قطر میں افغان معاملات پر مذاکرات شروع ہوئے لمبے ہوتے چلے گئے آخری مراحل جب اسلام آباد میں مذاکرات شروع ہوئے اور تقریبا تمام باتوں پرفریقین میں اتفاق ہوگیاتھا دوسرے اجلاس معاہدے کا رسمی اعلان ہونے والا تھا ایک دن پہلے دانستہ ملا محمد عمر کی وفات کی خبر لیک کرکے مذاکرات سبوتاژ کردئے گئے جو کم و بیش ایک سال پہلے وفات پاگئے تھے کیا ایسا کرنا امریکہ کی رضامندی کے بغیر ممکن تھا؟ بالکل نہیں معاملات پھر معلق ہوگئے ملا اختر منصور طالبان کے سربراہ بنے ان سے ایران میں دیگر پارٹیوں کی مشاورت سے معاملات بہت حد تک طے ہو وہ تین ماہ گزار کر پاکستان کی حدود میں داخل ہوتے ہوئے ہلاک کردئے گئے گاڑی مکمل جل گئی لیکن ان کا پاکستانی پاکستانی پاسپورٹ درست حالت میں ملا یہ کس طرف اشارہ تھا سب جانتے ہیں پاکستان نے تحمل کا مظاہرہ کیا چین روس ایران اور دیگر علاقائی قوتوں کی خواہش تھی اور ہے کہ افغانستان میں امن ہو اگر امن ہوگا تو امریکہ کے افغانستان میں قیام کا جواز نہیں رہے گا تو امریکہ پر داخلی اور خارجی تمام اطراف سے دباؤ پڑے گا کہ افغانستان سے نکلئے اس لئے افغانستان میں امن کا قیام امریکہ کے مفاد میں نہیں ہے سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیوں ؟ اس کا سادہ سا جواب تو یہ ہے کہ امریکہ کی نظر افغانستان میں موجود ڈیڑھ کھرب ڈالر کے معدنی ذخائر ہی نہیں بلکہ سی پیک کو روکنے کی کوشش کرنا بھی ہے اور اس کے لئے افغانستان سے بہتر جگہ کوئی اور نہیں ہو سکتی دو روز قبل امریکی وزیر خارجہ رک ٹیلرسن ایشیا کے دورے کی ابتدا میں برملا کہ چکے ہیں کہ چین کے مقابلے میں بھارت ہمارا فطری حلیف ہے اور ہمارا یہ اتحاد 70 برس تک رہ سکتا ہے چلیں امریکہ جس سے چاہے جتنے چاہے تعلقات رکھے ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہمیں اعتراض تب ہو گا جب ہم متاثر ہوں گے امریکہ پچھلے سترہ سالوں سے افغانستان میں کیا گھاس کھود رہا ہے کہ وہ افغانستان پر قابو نہیں پا سکا امریکی صدر ٹرمپ نے انڈیا کو افغانستان میں مکمل رول دینے کا کہ کر انڈین فوج افغانستان بھیجنے کی فرمائش کر ڈالی انڈیا کو اپنی اوقات کا پتہ ہے کہ جہاں امریکہ کھربوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود شکست سے دو چار ہوچکا ہے انڈیا کس کھیت کی مولی ہے انڈیا کی فوج ایک دفع افغانستان میں اتری تو افغانستان انڈیا کی فوج اور اقتصادیات کا قبرستان ثابت ہو گا یہ انڈیا بھی بخوبی جانتا ہے انڈیا کے انکار کے بعد ٹرمپ کے ارمانوں پر اوس پڑ چکی ہے فوجی فتح تو امریکہ کے لئے ممکن نہیں اب اس کا متبادل امریکہ کے پاس کیا ہے امریکہ جانتا ہے کہ افغانستان میں امن کی کلید پاکستان کے پاس ہے 35 لاکھ افغان آج بھی پاکستانی سر زمین پر موجود ہیں جن کی پاکستان 35 سال سے میزبانی کر رہا ہے جو اپنے وطن میں امن چاہتے ہیں پاکستان ان کے ذریعے اس کام کو انجام دے سکتا ہے لیکن اس کے لئے بنیادی شرط افغانستان سے غیر ملکی فوجوں کا مکمل انخلا ہے جو امریکہ کو منظور نہیں امریکہ حقانی نیٹ ورک کی راگنی گاتا رہتا ہے اب جب اب وزیر خارجہ رک ٹیلرسن پاکستان آرہے ہیں اس سے پہلے افغانستان میں تباہی اور بربادی کا ماحول بنایا جارہا ہے پچھلے چند دن میں متعدد دھماکے ہو چکے ہیں اور درجنوں فوجی اور سولین ہلاک ہوچکے ہیں مسجدوں پر حملے ہو چکے ہیں ان واقعات کی ٹائمنگ سے لگتا ہے کہ امریکہ وزیر خارجہ کے آنے سے پہلے ایک ماحول بنایا جارہا ہے تاکہ پاکستان کو دباؤ میں لایا جاسکے اور پاکستان کو مجبور کیا جائے کہ وہ ہمیں یہ جنگ جیت کردے کبھی کبھی سوچتے ہیں کہ کتنے بھولے ہیں ہمارے امریکی دوست کہ وہ رول تو انڈیا کو دینا چاہتے ہیں لیکن چاہتے ہیں کہ یہ جنگ پاکستان جیت کر دے اور اس کے بعد انڈیا اور اور اس کا اتحادی افغانستان میں گلچھرے اڑائیں اور پاکستان اپنے افغان بھائیوں سے آئندہ پچاس سال تک مصروف پیکار رہے اور امریکہ اور انڈیا ہمیں انہیں افغان بھائیوں کے ذریعے ہمیں نقصان پہنچائے لہذا ہمارے اہل دانش اور اسٹیبلشمنٹ اچھی طرح سمجھتی ہے کہ اسے کیا کرنا ہے افغانوں کے لئے بھی یہی موقع ہے بہت زیادہ نقصان ہوچکا ہے افغانوں کوچاہیئے اور امریکہ سے کہیں کہ امریکہ اگر واقعی امن چاہتا ہے تو اسے اور اس کے اتحادیوں کو افغانستان خالی کرنا پڑے گا مکمل خالی، تمام قوتیں افغانستان سے نکل جائیں افغان باہم مل بیٹھیں اور اپنا مستقبل خود طے کریں ہمیں یقین ہے افغان دانشمند لوگ ہیں یہ اپنے معالات دنوں میں طے کر لیں گے اور امن آجائے گا جو افغانوں کا بالکل ذاتی مسئلہ ہے افغانوں کو بھی یہی لائن لینی چاہیئے کہ ہمارے مسائل ہم خود حل کر سکتے ہیں ہمیں موقع دیا جائے اور یہی واحدحل ہے اللہ تمام فریقین کو عقل سلیم دے اور افغانوں کو امن کی توفیق عطا فرمائے آمین