- الإعلانات -

اگر یہ پاکستان نے کیا ہوتا

ماہ اگست کے آخری ہفتے میں داعش کے ایک دعوے کی خبر سامنے آئی کہ ایک بھارتی خود کش بمبار نے شام کے شہر رقہ میں دھماکہ کیا ہے جس میں درجنوں افراد مارے گئے ہیں۔یہ خبر بھارتی میڈیا میں نمایاں طور شائع ہوئی۔داعش نے یہ بھی بتایا کہ خود کش بمبار کا نام ابو یوسف الہندی تھا۔ الہندی بارے معلوم ہوا ہے کہ یہ برصغیر ہند میں چیف بھرتی کار تھا جو سوشل میڈیا کے ذریعے سری لنکا, بنگلہ دیش اور بھارت سے نوجوانوں کی برین واش کے بعد داعش کے لیے بھرتی کرتا تھا۔جبکہ امریکہ نے اس کا نام بین الاقوامی دہشت گرد فہرست میں شامل کر رکھا تھا۔تیس سالہ الہندی کا تعلق کرناٹکا سے تھا۔بھارت ہمیشہ سے دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے زرخیز ثابت ہوا ہے۔اس کی بنیادی وجہ انتہا پسند ہندو سوچ کے چلن کا عام ہونا ہے۔بھارت سوسائٹی میں پائی جانے والی متشدد سوچ کو نریندرا مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد مزید جلا مل رہی ہے۔مودی کا بھارت اس وقت بڑی تیزی کے ساتھ ہندوراشٹریہ کی جانب گامزن ہے۔اقلیتوں کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی اقدار اور عبادات کو ترک کریں یا پھر محدود کردیں۔گائے کا اسی طرح احترام کریں جس طرح ایک ہندو کرتا ہے۔اس سے بڑھ کر سطحی ذہنیت کیا ہو سکتی ہے کہ بی جے پی کے ایک رہنما اننتھ کمار ہیگڑے نے اگلے دن بھارت کی جنوبی ریاست کرناٹک میں ریاست میسور کے بادشاہ ٹیپو سلطان کے یوم پیدائش کی تقریب میں شرکت سے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ مجھے ایک وحشی قاتل، پاگل اور ریپ کرنے والے کی شان میں قصیدے پڑھنے والے کسی بھی شرمناک پروگرام میں نہ بلائیں۔انھوں نے کرناٹک کی ریاستی حکومت کو خط بھی لکھا اور ٹوئٹ بھی کیا۔مختصر یہ کہ یہ ایک طویل سبجیکٹ ہے بات ہو رہی تھی داعش کے حوالے سے کہ شام میں بیسیوں بھارتی داعش کے ساتھ مل کر لڑ رہے ہیں۔صرف یہی نہیں کہ کوئی بھارتی شہری ذاتی حیثیت میں یہ کام کررہا ہے بلکہ بھارتی حکومت بھیRAW کی سرپرستی میں داعش کو مدد فراہم کررہی ہے۔چونکہ بھارتی میڈیا کی ساری توجہ پاکستان اور افغانستان پر رکھوائی جا رہی تو بھارت کے اندر جو کچھ ہوتا ہے وہ اکثر پس پشت چلا جاتا ہے۔داعش اور بھارتی را کا پرانا گٹھ جوڑ ہے۔لاکھوں بھارتی اس وقت مختلف عرب ممالک میں روزگار کے سلسلے میں قیام پذیر ہیں۔داعش نے عراق اور شام میں جب سر اٹھایا اور نام نہاد خلافت کا اعلان کیا تو اپنے زیر تسلط علاقوں میں تمام غیر ملکیوں کو حراست میں لینا یا یرغمال بنانا شروع کر دیا۔ کئی جاپانی تعمیراتی کمپنیوں کے انجینئر و اہلکار، نیپالی مزدور، کئی مغربی ممالک کی این نجی اوز کے کارکنان کیساتھ ساتھ بھارتی میڈیکل اور تعمیراتی اداروں اور مزدوروں کو بھی یرغمال بنا لیا گیا۔اس سے بھارت میں کھلبلی مچ گئی۔ان شہریوں کو چھڑوانے کی غرض سے بھارتی شیطان صفت سکیورٹی مشیر نے داعش کی قیادت سے روابط کیے اور نقد ادائیگی کی بجائے اسلحہ و بارود کی حامی بھری لی۔یوں بین الاقوامی دہشت گردوں کو بھارتی ریاست کی سرپرستی میسر آگئی۔ سشما سوراج کو باقاعدہ اس کام کی ذمہ داری سونپی گئی۔اس خفیہ معاشقے کے نتیجے میں بھارتی شہری رہا ہونے لگے۔اس سے پردہ اس وقت اٹھا جب بھارت کی جانب سے داعش کے لئے اسلحہ اور دیگر ضروریات کا سامان لیکر جانے والے بحری جہاز کو بین الاقوامی پانیوں میں حراست میں لیا گیا۔یہ13اپریل 2016 کا واقعہ ہے۔بظاہر تجارتی سامان سے لدے بحیرہ روم میں جانے والے ایک جہاز کو یونانی کوسٹ گارڈ نے چیکنگ کے لئے روکا تو اس میں میں 50 لاکھ مختلف قسم کی گولیاں اور 5000آٹو میٹک رائفلز برآمد ہوئیں ۔اس جہاز کے پکڑے جانے کے بعد بھارت اور داعش کا گٹھ جوڑ بے نقاب ہوا۔اس شرمندگی کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ بھارت رک جاتا مگر اس نے یہ سلسلہ جاری رکھا۔20 جون 2016 کو ایک مرتبہ پھر یونانی حکام نے ایک بھارتی بحری جہاز کو چیکنگ کے لئے روکا تو اس میں بڑی مقدار میں جان بچانے والی اور درد کش نشہ آور ادیات بر آمد ہوئیں۔ یونانی حکام کے تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ یہ شپمنٹ بھارتی حکومت کی کلیئرنس کے بعد لیبیا میں داعش کے ایک سرگرم کمانڈر کے نام بک تھی۔بھارت کے داعش سے روابط کے ثبوت ایک بین الاقوامی ادارے کی رپورٹ سے بھی ملتے ہیں۔ کنفلکٹ آرمامنٹ ریسرچ نامی ادارے نے رواں سال جون میں جاری ہونے والی رپورٹ میں لکھا ہے کہ شام اور عراق میں دھماکہ خیز مواد جو داعش استعمال کر رہی ہے اس کی تاریں، سیفٹی فیوز، ڈیٹونیٹرز اور دیگر سامان زیادہ تر بھارتی کمپنیوں کے تیار کردہ ہیں۔کنفلکٹ آرمامنٹ ریسرچ کا کام دنیا بھر میں جاری فوجی ہتھیاروں کی سپلائی اور ان کے ذمہ دار ممالک پر نظر رکھنا ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ داعش کل51کمپنیوں کا اسلحہ و گولہ بارود استعمال کررہی ہے جو 20 مختلف ممالک سے تعلق رکھتاہے۔ان میں روس، امریکہ، برازیل، بیلجیئم، ہالینڈ اور جاپان بھی ہیں لیکن بھارت دوسرا بڑا سپلائر ہے۔ بھارت کی7کمپنیاں یہ کام کرہی ہیں۔اس طرح اس معاملے میں عالمی پلیئر کی منافقت بھی ایک بار پھر واضح ہو گئی ہے۔ خدا نخواستہ اگر پاکستان سے ایسا کچھ ہوا ہوتا تو کیا عالمی میڈیا اسی طرح چپ رہتا؟ لیکن اب معاملہ چونکہ بھارت کا ہے اس لیے وہ واویلا نہیں ہے۔ پہلے اجیت ڈوول نے عراق میں داعش کے سربراہوں سے ملاقات کی۔ پھر اسلحہ اور سازوسامان داعش کو فروخت کیا۔ را کے تربیت یافتہ یمن جا کر داعش کو تربیت دیتے رہے۔ اس پر بھی بس نہیں کی بلکہ ڈرٹی بم کی تیاری کیلیے اٹامک مٹیریل داعش کو سمگل کرنے کی کوشش کی گئی۔جبکہ دوسری طرف بھارت افغانستان میں بھی داعش کی بنیادیں مضبوط کر رہا ہے۔حالیہ چند دنوں میں پے در پے دہشتگردی کے واقعات کا ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہاں بھی داعش کے دست و بازو وہی قوتیں ہیں جو شام اور عراق میں ہیں۔جاری دہشتگردی کے پیچھے امریکا، برطانیہ اور ان کے اتحادیوں کا ہاتھ ہونے کے صرف دعوے نہیں ہیں بلکہ اہم ترین شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔ برطانوی اخبار دی مرر کے مطابق ہیکروں کے ایک گروپ VandaSec نے انٹرنیٹ پر موجود کچھ اکانٹس پر تحقیق کی۔ ہیکر گروپ نے پتہ چلایا کہ بظاہر تو ان اکانٹس کے آئی پی ایڈریس سعودی عرب کے نظر آتے تھے لیکن جب خصوصی ٹولز اور تکنیک کے ذریعے ان کی تحقیق کی گئی تو پتہ چلا کہ ان آئی پی ایڈریسز کا تعلق برطانوی ادارے ڈیپارٹمنٹ آف ورک اینڈ پنشنز سے ہے۔ ہیکر گروپ کے ایک رکن نے اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کیاآپ نہیں سمجھتے کہ یہ بہت عجیب بات ہے؟ ہم نے ان اکانٹس کا تعلق لندن سے ڈھونڈ نکالا ہے، جو کہ برطانوی انٹیلی جنس سروس کا گھر ہے۔یہ تشویشناک انکشاف بھی سامنے آیا کہ پکڑے گئے اکانٹس کے ذریعے صرف شدت پسند تنظیموں کا پیغام ہی نہیں پھیلایا جاتا تھا بلکہ ان کے ذریعے نوجوانوں کو شام اور عراق بھیجنے کے لئے بھرتی بھی کیا جاتا تھا۔اسی طرح کا کام بھارت پاکستان کے حوالے سے کررہا ہے۔جماعت الاحرار کے اکاونٹ بھارت سے آپریٹ ہو رہے ہیں۔ایک شیعہ آرگنائزیشن کے نام سے ویب سائٹ کا آئی پی ایڈریس بھی بھارت سے آپریٹ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ٹی ٹی پی سے مراسم کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔الغرض ایک جال ہے جو پاکستان کے خلاف پھیلایا جا چکا ہے۔اس سازشی جنگ کا مقابلہ اسی صورت ممکن ہے جب قوم اپنی آنکھیں اور کان کھلے رکھے جبکہ سیاسی قیادت سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر سوچے۔