- الإعلانات -

سیاسی رواداری اور استحکام وقت کی ضرورت

سیاسی اُفق پر چھائے بدل ابر آلود منظر کشی کررہے ہیں ۔ ایک طوفانی کیفیت دکھائی دے ری ہے سیاسی پارٹیاں جلسوں کے ذریعے جہاں رائے عامہ ہموارکرنے میں محو ہیں وہاں ایک دوسرے پر الزام تراشی کا رجحان بھی بڑھتا جارہا ہے جس سے ملک میں سیاسی ہلچل نظر آرہی ہے ۔ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے پشاور میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران وزیراعظم بننے کیلئے کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں نا اہل وفاقی حکومت نے عوام کودھوکہ دیا مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی نے سیاست کا جنازہ نکال دیا ۔ دوسری طرف چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے سیہون شریف میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف اور زرداری کو آڑے ہاتھوں لیااور کہا کہ نواز شریف کی وکٹ گر گئی، روٹی، کپڑا، ، مکان کے نام پر سندھی عوام کو دھوکا دیا گیا ۔ اندرون سندھ میں جتنی غربت ہے اتنی پاکستان بھر میں نہیں نواز شریف نے اپنے بچوں کو ایشین ٹائیگر بنا دیا ملک کو نہ بناسکے ۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق کہتے ہیں انتخابات اپنے وقت پر ہونے چاہیے الیکشن ملتوی کرنے سے ملک بہت بڑے بحران سے دوچار ہوسکتا ہے جبکہ شہباز شریف کہتے ہیں کہ ن لیگ آج بھی مقبول ترین جماعت ہے ۔منفی سیاست کرنے والے ناکام ہونگے چار برس میں ترقی کی کوئی مثال 70 سالہ تاریخ میں نہیں ملتی پاکستان کو نفاق نہیں اتفاق کی طاقت سے آگے بڑھنا ہے۔ درج بالا بیانات سے یہ اندازہ لگانا کوئی مشکل نہیں کہ ہمارے سیاستدان کس ڈگر پر چل رہے ہیں اور ان کی سوچ کا زاویہ کیا ہے۔ ایک طرف زمام اقتدار پربراجمان اشرافیہ اپنے دھن میں شاہراہ جمہوریت میں اپنے موقف کا ڈھنڈورا پیٹنے میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتا تو دوسری طرف اپوزیشن اور سیاسی جماعتیں اپنا اپنا راگ الاپ رہی ہیں ۔ عوام کی کسی کو کوئی فکر نہیں مہنگائی کا جن بوتل سے باہر آچکا اور خود ساختہ گرانی نے لوگوں کا جینا دوبھر کررکھا ہے۔ مزدور مزدوری کو ترس رہاہے اور دو وقت کی روٹی کے حصول کیلئے اپنی قسمت کو برا بھلا کہہ رہا ہے اور نوجوان ہاتھوں میں ڈگریاں اٹھائے نوکریوں کیلئے دفتروں کے چکر لگا لگا کر تھک ہار چکا ہے اور نوکری اس سے کوسوں دور ہے نوجوانوں کی صلاحیتیں متاثر ہورہی ہے اور یہ فکر فرداً میں پھنستا جارہاہے ان کا پرسان حال کوئی نہیں پڑھ لکھ کر یہ دربدر کی ٹھوکریں کھارہے ہیں عوام کا معیارزندگی بھی روبہ تنزل ہے جبکہ حکومتی دعوے ا یک تواتر سے کیے جارہے ہیں حکومت کا یہ فرض قرار پاتا ہے کہ وہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف بہم پہنچائے ملک سے بیروزگاری اور مہنگائی کا خاتمہ کرے عوام کا معیارزندگی بلند کرنے کے ساتھ ساتھ امن و امان قائم کرے اور لوگوں کے جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنائے لیکن صد افسوس عوام آج بھی مسائل زادہ ہیں اپنے حقوق پر آنسو بہارہے ہیں جبکہ ملک میں بدعنوانی کا یہ عالم ہے کہ کوئی ادارہ ایسا نہیں جس میں کرپشن نہ ہو اور کرپشن ہی ترقی اور خوشحالی کے راستے میں رکاوٹ ہے جب تک کرپشن کا خا تمہ نہیں ہوگا ملک ترقی کے راستے پر گامزن نہیں ہوسکتا۔ سیاست میں رواداری، تدبر اور برداشت کے جمہوری کلچر کا بھی فقدان ہے جس سے سیاسی عدم استحکام کا طوفان ہے جس نظریہ کے تناظر میں پاکستان معرض وجود میں آیا وہ نظریہ آج ایک سوالیہ نشان بنا ہوا ہے اسلامی فلاحی ریاست کا خواب بھی برسوں سے تشنہ تکمیل ہے۔قائداعظمؒ اور اقبالؒ کے خوابوں کی تعبیر آخر کب ملے گی قوم محو انتظار ہے برادریوں ، دھڑوں اور گروپوں کی سیاست کی آڑ میں سیاسی ناخداؤں نے اس ملک کا جو حشر کیا اس پر دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ سیاست دانوں نے ذاتی مفاد کو ترجیح دی اور قومی مفاد تار تار ہوتا چلا گیا ناقص پالیسیوں کی وجہ سے ملک کی گاڑی بیرونی قرضوں پر چلائی جارہی ہے صحت و تعلیم کا جوحال ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، غریب عوام کو تعلیم ، صحت کی سہولتیں بھی میسر نہیں خدا راہ یہ ملک بڑی قربانیوں کے صلے میں قدرت خداوندی کا ثمرہ ہے اس کی تعمیر و ترقی کیلئے مل جل کر کام کریں سیاست میں رواداری اور برداشت کے رجحان کو فروغ دیں اس وقت ملک کوکئی چیلنجز کا سامنا ہے ایک طرف دہشت گردی ہے تو دوسری طرف سیاسی عدم استحکام اور بھارتی مخاصمانہ رویہ اندرونی سازشوں کا زور ہے اور خوب شور ہے۔ آخر اس مسئلہ کا کوئی تو حل ہونا چاہیے حکومت اپنی ذمہ داریوں کونبھائے اور اپوزیشن اپنا کردار ادا کرے ۔ سیاست میں گالم گلوچ اور الزام تراشی کے رجحان کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے ۔ یہ وطن ہمارا ہے اور ہم ہیں پاسبان اس کے اس ملک کی تعمیر و ترقی کیلئے مل جل کر آگے بڑھیں۔
رینجرز مقابلے میں دہشت گردوں کی ہلاکت
کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن رئیس گوٹھ میں رینجرز اور سی ٹی ڈی کی کارروائی کے نتیجہ میں دہشت گردوں سے مقابلے میں آٹھ دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ دہشت گردوں کا یہ گروہ 12 سے 13 انتہائی پڑھے لکھے افراد پر مشتمل تھا۔ سرغنہ شہریار الدین حملوں کا ماسٹر مائنڈ تھا ۔ دہشت گرد بڑی کارروائی کرنا چاہتے تھے لیکن ان کے مذموم عزائم کو خاک میں ملا دیا گیا ۔ دہشت گردوں کے ٹھکانے سے اسلحہ و بارود اور دیگر سامان برآمد کرلیا گیا انصار الشریعہ کے امیر کا اپنے ساتھیوں سمیت ہلاکت کراچی کے امن کیلئے نیک شگون ہے۔ ایک عرصہ سے شہر قائد بدامنی کا شکار ہے اور اس کے شہری عدم تحفظ سے دوچار ہیں اور ان میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے دہشت گردی میں پڑوسی ملک بھارت کا ہاتھ ہے جو اپنی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے ذریعے پاکستان کے امن کو تباہ کرنے کے مذموم عزائم کی تکمیل کیلئے کوشاں ہے لیکن بھارت اپنے عزائم میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہو پائے گا کیونکہ پاک فوج ، رینجرز، پولیس اور دیگر ادارے دہشت گردی کو کچلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں کراچی آپریشن اپنے اہداف پورے کرتے دکھائی دے رہے ہیں ۔ دہشت گرد ملک و قوم کے دشمن ہیں ان کا ایک ہی ایجنڈا ہے کہ انسانیت کو دھماکوں اور بموں سے اڑانا ، بدامنی پھیلانا لیکن یہ اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہوں گے۔ دہشت گردی کی اجازت دنیا کا کوئی مذہب نہیں دیتا۔ اسلام تو امن کا دین ہے اور سلامتی کا درس دیتا ہے اور ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے اور غیر مسلموں کے تحفظ کا درس بھی اسلام کا ہے۔ دہشت گردی کیخلاف آپریشن بھی کامیابی سے جاری ہیں اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ وقت دور نہیں جب ملک سے دہشت گردوں کا قلع قمع ہوگا اور دہشت گردی کا ناسور جڑ سے اکھاڑ دیا جائے گا اور یہ ملک امن کا گہوارہ بنے گا ،دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ بنتا جارہا ہے جس کے خلاف مشترکہ جدوجہد وقت کی ضرورت ہے کیونکہ دنیا کا امن دہشت گردی کو ختم کیے بغیر قائم نہیں ہوسکتا۔ شہر قائد کے امن کی بحالی میں رینجرز ، پولیس اور دیگر اداروں کا کردار لائق تحسین ہے، عوام میں عدم تحفظ کا احساس ختم ہوتا جارہا ہے اور دہشت گرد اپنے منطقی انجام تک پہنچتے جارہے ہیں، کراچی آپریشن کی کامیابی سے ہی کراچی کا امن بحال ہوگا اور شہرقائد کی رونقیں اپنی سابقہ کیفیت میں دیکھنے کو ملیں گی۔ شہرقائدکا امن وقت کی ضرورت ہے اس کے بغیر لوگوں میں خوف و ہراس ختم نہیں ہوسکتا اور نہ ہی ترقی ہوسکتی ہے۔