- الإعلانات -

پی ٹی آئی میں جمہوری محاذ کا ضم ہونا

ejaz-ahmed

 اس میں کوئی شک نہیں کہ تحریک انصاف میںدوسرے سیاسی پارٹیوں سے نئے نئے سیاسی لیڈروں اور چہروں کے شامل ہونے سے پا رٹی طاقت اور قوت میں اضا فہ ہو رہا ہے ۔ پا رٹی میںدوسرے سیاسی لیڈران کے شامل ہونے سے اُنکے حریفوں پر رُعب اور دباﺅ بدستور بڑھ رہا ہے ۔ مگر ہر عمل کا ایک ردعمل ہوتا ہے ۔ جہاں تک پی ٹی آئی میں دوسرے سیاسی لیڈران شامل ہونے سے پارٹی کے طاقت میںا ضا فہ ہورہا ہے تو دوسری طر ف پی ٹی آئی کے اُن بانی کارکنوں میں ،جنہوں نے پا رٹی کی بنیاد رکھی تھی، اُن میں”سٹیٹس کو” پی ٹی آئی میںشامل ہونے سے حد سے زیا دہ تشویش بھی پائی جاتی ہے ۔ ان بانی سر گرم کارکنوں کی وجہ سے پی ٹی آئی 2013ءکے عام انتخابات میں ملک کی دوسری سب سے بڑی سیاسی قوت کے طور پر اُبھری اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان مسلم لیگ نواز نے2013ءکے عام انتخابات میں ایک کروڑ 48لاکھ ، تحریک انصاف نے 80لاکھ اور پاکستان پیپلز پا رٹی نے 68 لاکھ ووٹ لئے۔2013ءکے عام انتخابات میں کامیابی کا سہرا اُن ورکروں اور پا رٹی کارکنوں کو جا تا ہے, جنہوں نے دن رات ایک کرکے پا ر ٹی کو ایک بڑے مقام پر لے آئی ۔ حال ہی میںصوابی میں ایک جلسہ عام میںجمہوری محا ذ تحریک انصاف میں ضم ہوئی۔یہ ایک خوش آئند بات ہے۔ جمہوری محاذ پا رٹی کا تعلق صوابی سے ہے اور یہ پا رٹی گزشتہ کئی انتخابات میں ضلع صوابی سے صوبائی اسمبلی کی چند سیٹیں اور قومی اسمبلی کی ایک سیٹ جیتتی رہی۔ اگر ضلع صوابی میں تحریک انصاف کی قیادت پر نظر ڈالیں تو میں جو اہم نام ہیں اُن میں صوابی سے یو سف علی خان، انجینیرزبیر، ظہور، انجینیرنواب علی، رنگیز خان ، ڈاکٹر فضل الہی اور اسکے علاوہ ایسے بُہت سارے لیڈر ، قائدین اور کاکنان ہیں جنہوں نے پا رٹی اور عمران خان کے لئے دن رات ایک کرکے اس پا رٹی کو ملکی سطح پر دوسری بڑی پا رٹی بنا دی۔ عمران خان پہلے” سٹیٹس کو” توڑنے کی باتیں کرتے تھے مگر اب وہ” سٹیٹس کو” کو لالا کر پا رٹی میں شامل کر رہے ہیں۔ عمران خان کا خیال ہے کہ” سٹیٹس کو” یعنی روایتی سیاستدانوں کے بغیر وہ الیکشن نہیں جیت سکتے۔ مگر میرے خیال میں عمران خان کی یہ رائے صحیح نہیں۔ کیونکہ نو وارد ذولفقار علی بھٹو جب1971ءمیں پاکستانی سیاست میں آئے تو اُس وقت صوبائی اور قومی اسمبلی کے لئے اُنکے نامزد اُمیدواران کوئی قابل ذکر اور نامی گرامی شخصیات نہیں تھے ۔ مگر اسکے باوجود بھی وہ مغربی پاکستان سے زیادہ سے زیادہ سے زیادہ نشستیں جیت کر مغربی پاکستان میں ایک بڑی سیاسی قوت کے طور پر اُبھرے ۔ حا لانکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے کسی اُمیدوار کا سیاسی پس منظر نہ تھا۔ اور اُس وقت روایتی سیاست دانوں اور سیاسی پا رٹیوں کے خلاف الیکشن لڑنا کوئی آسان کام نہیں تھا۔۔اب جبکہ جمہوری محاذ پی ٹی آئی میں ضم ہو گئی ہے تو یہاں پر مقامی قیادت میں یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ یہ پیسے والے لوگ ہیں جو پا رٹی پر قبضہ کر کے پا رٹی قیادت کو سنبھال ے گا ۔ یہ مسئلہ صرف صوابی میں نہیں بلکہ یہ مسئلہ پاکستان کے زیادہ تر حصوں میں ہے جہاں دوسری سیاسی پا رٹیوں کے وڈیرے پاکستان تحریک انصاف میں جوق در جوق شامل ہو رہے ہیں۔ میں تحریک انصاف کے ایسے کا رکنوں کو جانتا ہوں جنہوں نے اس پا رٹی کے لئے زمینیں اور جائیدادیں بیچ بیچ کر پا رٹی کے الیکشن لڑے یا دھرنوں کے لئے بسوں اور گا ڑیوں کا اہتمام اور انتظام کیا ۔ ا ن غریب اور جیالے ورکروں میں صوابی خا ص سے یو سف علی بھی ہے۔ جس نے صوبائی الیکشن کے انتخاب میں حصہ لینے کے لئے اپنے گھر کے آثاثہ جات بیچے مگر پا رٹی اور عمران خان کو اکیلے نہ چھو ڑا۔تحریک انصاف کے قیام کے بعد لوگوں میں یہ اُمید پیدا ہو گئی تھی کہ وہ اس پا رٹی سے قابلیت کی بنیاد پر الیکشن اور پا رٹی کی فیصلہ سازی میں حصہ لے سکیں گے۔ مگر پی ٹی آئی میں دوسرے پا رٹیوں سے بڑے بڑے لوگوں کی شمولیت کے بعد تقریباً پا رٹی سے تعلق رکھنے والے غریب ورکروں کی اُمیدیں ختم ہوگئی ہیں۔جیسے بڑے درخت کے نیچے چھوٹا بو ٹا صحیح طر یقے سے نشوو نما نہیں پا تا اسی طر ح کسی بھی سیاسی پا رٹی میں بڑے بڑے سرمایہ داروں اور جاگیر داروں کے ہوتے ہوئے غریب ورکر پا رٹی میں جگہ نہیں بنا سکتا۔ لہذاءاب ضرورت اس امر کی ہے کہ عمران خان پی ٹی آئی میں روایتی سیاست دانوں کو شامل کرنا چاہئے مگر خان صا حب کو اُن ورکروز اور کار کنوں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے جنہوں انتخابات اور دھرنوں کے دوران پی ٹی آئی اور عمران خان کے ساتھ مل کر قُُر بانیاں دی ہیں۔ کیونکہ عمران خان کا اصل آثاثہ یہی ورکرز اور کارکن ہیں۔ لوگوں نے عمران خان کو ووٹ اسلئے دئے تھے کہ وہ چینج یعنی تبدیلی لائے گا۔ مگر بد قسمتی سے عمران خان کی سپیڈ انتہائی Slowہے اور عام لوگ عمران خان کی پراگریس سے خوش نظر نہیں آرہے ہیں۔ بہر حال عمران خان اور پی ٹی آئی کے پاس اب بھی دو سال کا وقت ہے ، اُسکو ان دوسالوں میں ترقیاتی منصوبوں کاجل بچھانا چاہئے تاکہ آئندہ انتخابات وہ کامیابی حا صل کرسکیں ۔ اب تک عمران خان کا رکرکردگی سے تو یہ اندازہ ہوتا ہے کہ عمران خان کنفیوز ہیں اور اُنکو سمجھ نہیں کہ کس کام کو تر جیح دی جائے۔