- الإعلانات -

بھارتی سیکولر ازم بنام عامر خان !

asghar-ali

بالی وڈ اداکار نے کہا ہے کہ ” پچھلے ایک ہفتے سے ان کی ذات کی بابت جس شدید رد عمل کا اظہار کیا جا رہا ہے ، اس نے ثابت کر دیا ہے کہ انھوں نے بھارت میں ببڑھتی عدم رواداری کی بابت جو کچھ کہا وہ بالکل سچ تھا “ ۔ مبصرین کے مطابق تیئس نومبر کو بھارتی فلم انڈسٹری کے اداکار عامر خان نے کہا کہ ” پچھلے چھ سے آٹھ مہینوں سے وہ محسوس کرتے ہیں کہ دیش میں عدم تحفظ اور خوف کا احساس بڑی تیزی سے بڑھ رہا ہے اور اسی ماحول کی وجہ سے ان کی اہلیہ ”کرن راﺅ “ ( جو خود بھی ہندو ہیں ) نے ایک سے زائد مرتبہ کہا ہے کہ اس ماحول میں رہنا بڑا کٹھن ہے اس لئے اچھا ہو گا کہ بھارت سے نکل کر کسی دوسرے ملک میں سکونت اختیار کی جائے “ ۔ عامر خان نے ان خیالات کا اظہار کثیر الاشاعت بھارتی انگریزی اخبار ” انڈین ایکسپریس “ کے بانی کی یاد میں منعقدہ ” رام ناتھ گونیکا ایکسیلنس ایوارڈز “ کی تقریب میں کیا ۔ انھوں نے یہ سب کچھ ایک سوال کے جواب میں کہا تھا ۔ انھوں نے اپنی بات کو تفصیل سے بیان کرتے کہا کہ ” ان کی اہلیہ نے ان سے ملک چھوڑنے کی بات کہی تھی کیونکہ وہ اپنے بچوں کی حفاظت کو لے کر بڑی فکر مند ہیں “ ۔ عامر خان کا یہ کہنا تھا کہ ” پورے بھارت میں جیسے ایک آگ سی لگ گئی ہو “ ۔
ایک دوسرے اداکار انوپم کھیر نے ( جو BJP کے کٹھ پتلی مانے جاتے ہیں ) ٹویٹ کر کے عامر خان پر شدید تنقید کی ۔ واضح رہے کہ انو پم کھیر کی بیوی ” کرن کھیر “ BJP کی رہنما ہیں اور 2014ءکے لوک سبھا چناﺅ میں وہ چندی گڑھ سے BJP کے ٹکٹ پر لوک سبھا کی رکن منتخب ہوئی تھیں ۔ ایک دوسرے بھارتی فلم اداکار ” پریش راول “ نے بھی اپنے ٹویٹ میں عامر خان کی مخالفت کی اور کہا کہ ” انھیں دیش چھوڑنے کی بجائے بھارت میں پیدا ہونے والی صورتحال کو بدلنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔ اگر کوئی مسئلہ بھی ہے تو ایک سچے دیش بھگت کی طرح مادر وطن چھوڑنے کی بجائے اچھے ماحول کی تعمیر کرنی چاہیے ۔“ ۔ BJP کی مرکزی وزیر ” نرنجن جیوتی “ نے تو عامر خان کو پاکستان کا ایجنٹ تک کہہ ڈالا ۔ BJP کے ایک اور رہنما ” سوامی ادتیہ نند “ نے کہا کہ ” عامر خان جتنی جلدی ہو سکے بھارت خالی کر دیں تا کہ اس کے نتیجے میں بھارت سے مسلمانوں کی تعداد کم ہو سکے ۔ شیو سینا کی پنجاب شاخ کے سربراہ ” اوم ٹنڈن “ نے تو یہاں تک زہر اگلا کہ جو شخص عامر خان کو تھپڑ مارے گا ، وہ اسے انعام میں فی تھپڑ ایک لاکھ روپے دیں گے “ ۔
یہ بات یہیں تک نہیں رکی ۔ بھارتی فلموں کے گلوکار ” ابھی جیت “ نے تو ” دلیپ کمار “ ، ” مینا کماری “ تک کو اپنی تنقید کا نشانہ بناتے کہا کہ ” دلیپ کمار اور مینا کماری نے اپنی پہچان چھپانے کے لئے اپنے نام تو بدل ڈالے لیکن وہ دل سے بھارت کے محب وطن نہیں تھے بلکہ اپنے مسلمان ہونے پر فخر کرتے تھے اس لئے کسی مسلمان اداکار کی فلم دیکھنا ایک بڑا اخلاقی جرم ہے ۔ RSS کے ترجمان جریدے ” پنج جنیو “ اور شیو سینا کے اخبار ” سامنا “ نے عامر خان اور دوسرے سبھی بھارتی مسلمانوں کو سانپ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ” سانپ کے بچوں کو جتنا بھی دودھ پلاﺅ ، وہ کبھی بھارتی نہیں ہو سکتے“ ۔
اس تمام صورتحال پر تبصرہ کرتے غیر جانبدار مبصرین نے کہا ہے کہ ہندوستان کی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کیے گئے تازہ اعداد و شمار کے مطابق اس برس فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات میں جان سے مرنے والوں کی تعداد گذشتہ برس یعنی 2014ءکے مقابلے میں کچھ کم ہوئی ہے ۔ جنوری سے اکتوبر تک 86 لوگوں کی موت ہوئی ہے جبکہ پچھلے برس ( 2014ء) میں جنوری تا اکتوبر 90 لوگ اس ضمن میں مرے تھے لیکن دوسری طرف فرقہ وارانہ فسادات کی بات کریں تو پچھلے برس کے مقابلے میں اس بار بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے “ ۔ اس برس اکتیس اکتوبر تک ایسے چھ سو تیس واقعات پیش آئے جبکہ پچھلے برس اسی عرصے کے دوران پانچ سو اکسٹھ فرقہ وارانہ فسادات ہوئے تھے ۔
اس برس اکتوبر تک ایسے واقعات میں زخمی ہونے والوں کی تعداد 1899 ہے جبکہ پچھلے برس یہ تعداد 1688تھی ۔ مہا راشٹر کے شہر ” دھولے “ اور یو پی کے ” مظفر نگر “ میں بڑے فسادات ہوئے ۔ اس ضمن میں یہ اہم بات یہ ہے کہ بھارتی وزارتِ داخلہ کے پیمانوں کے مطابق بڑا فرقہ وارانہ فساد وہ شمار ہوتا ہے جس میں کم سے کم پانچ لوگوں کی موت اور دس سے زائد زخمی ہوئے ہوں ۔ اس کے بعد دوسرے نمبر پر فرقہ وارانہ فساد اسے مانا جاتا ہے جس میں ایک شخص کی موت اور دس تک زخمی ہوں ۔ گذشتہ ہفتے بھارتی پارلیمنٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی میں پیش کردہ رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2015ءتک دو اہم ترین فرقہ وارانہ فسادات ہوئے ۔ پہلا فرید آباد ( ہریانہ ) میں ایک مسجد کی تعمیر کو لے کر جھگڑا اور ” دادری “ میں ممنوعہ جانور کو مارنے کی افواہ پر ایک مسلمان ” محمد اخلاق “ کی ہتیا ۔ بھارت سرکار کی اس رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا کا بڑھتا غلط استعمال بھی ایسے غلط واقعات کی بڑھوتری میں مدد گار ثابت ہو رہا ہے ۔
غیر جانبدار مبصرین کے مطابق جب خود ملک کا سربراہ اور دوسرے وزراءکھل کر مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں کے خلاف زہر اگل رہے ہوں تو ایسی صورتحا ل کا پیدا ہونا کوئی حیرانگی کی بات نہیں البتہ یہ بات عجیب ضرور ہے کہ عالمی برادری اس طرف کوئی دھیان نہیں دے رہی جس کے نتیجے میں نہ صرف بھارت میں ہندو جنون کو بڑھاوا مل رہا ہے بلکہ خوف یہ بھی ہے کہ اس صورتحال کے نتیجے میں جنوبی ایشیاءکے پورے خطے بلکہ پوری دنیا میں شدت پسند سر گرمیوں میں تیزی آ سکتی ہے ۔