- الإعلانات -

میوزیکل چیئر کا کھیل

uzair-column

کپتان نے ہمیشہ ہی سے خاص موقعو ںپر خاص فیصلے کیے ،اب ان کا اثر منفی تھا یا مثبت یہ تو کپتان کو ساتھ ساتھ پتہ چلتا رہا مگر شاید وقت کے ساتھ ساتھ سبق نہیں سیکھا ،ڈرون حملوں کیخلاف کے پی کے میں جاکر دھرنا دیا ،کہا کے نیٹو کی سپلائی روکیں گے دھرنا دیتے دیتے اچانک دھرنے کو ختم کردیا گیا اس کا کیا رزلٹ نکلا یہ وقت کے ساتھ ساتھ سامنے آتا گیا ۔اسلام آباد میں دھرنا دینے کا فیصلہ کیا گیا ،لاہور سے جلوس چلا ،اسلام آباد پہنچے اور پھر یہاں سے بھی بغیر کچھ حاصل کیے دھرنا ختم کردیا گیا ۔اس دھرنے کو ناکام بنانے میں وزیراعظم نوازشریف کی سیاسی ڈپلومیسی انتہائی کامیاب رہی ۔یوں عمران خان اور طاہرالقادری تہی دامن واپس روانہ ہوگئے ۔کچھ پتہ نہیں چلتا کہ کپتان صاحب کس وقت کیا کر بیٹھیں ۔کے پی کے میں آرمی پبلک سکول پر دہشتگردوں کا حملہ ہوا اس کے لہو چھینٹے ابھی سوکھے نہ تھے کہ نیا پاکستان بننے سے پہلے ہی کپتان نے ریحام خان سے شادی کرلی ۔ابھی شادی کا شور شرابہ چل رہا تھا ،ریحام پورے پاکستان کی بھابھی بن چکی تھیں ،سفر رواں دواں تھا کہ کچھ تھوڑی تھوڑی سی خبریں آنا شروع ہوگئیں ۔ریحام کو سیاست سے روک دیا گیا ،اسی دوران بلدیاتی انتخابات سر پر آن پہنچے ۔بڑے شوروغل سے تیاریاں شروع تھیں کہا جارہا تھا کہ پنجاب میں تو پاکستان تحریک انصاف سویپ کرے گی ۔بس کچھ دنوں کا فاصلہ تھا نامعلوم اچانک کیا ایسے مسائل درپیش ہوئے کہ کپتان اورریحام خان میں علیحدگی ہوگئی ۔اس علیحدگی کے انتخابات پر بہت برے اثرات پڑے ،اس کے بعد کچھ عرصے کیلئے خاموشی رہی پھر ریحام خان نے ٹوئیٹ کرنا شروع کردیا،کبھی پشتو کے ٹپے توکبھی کوئی بات ،تو کبھی کوئی بات ،یقینی طورپر اس سے بھی پاکستان تحریک انصاف کو نقصان پہنچنا شروع ہوگیا۔بہرحال چونکہ کپتان ایک سپورٹس مین ہے اوراس کے مضبوط اعصاب ہیں اس لیے پھر وہ سیاست میں اسی طرح رواں دواں ہوگئے ۔اب بلدیاتی انتخابات کیلئے اپنی مہم کو مزید موثر بنانے کیلئے جماعت اسلامی کیساتھ گٹھ جوڑ کیا اور دونوں جماعتیں کراچی پہنچ گئیں کہ مزار قائد پر انہوں نے ایک جلسہ عام سے خطاب کرنا تھا یوں لگ رہا تھا کہ جیسے پورا کراچی امڈ آیا ہو مگر راستے ہی میں پاکستان تحریک انصاف اورجماعت اسلامی میں کچھ تحفظات ابھر کر سامنے آنا شروع ہوگئے ۔کہا یہ جانے لگا کہ کراچی کی ریلی کو پاکستان تحریک انصاف نے ہائی جیک کرلیا ہے ۔زیادہ بینرز اورتصاویر پاکستان تحریک انصاف کی تھیں ۔یوں محسوس ہوا کہ کچھ خلش زیادہ ہی ہوگئی پھر وہی کیا جو کہ کپتان ہمیشہ کرتا ہے ۔راستے ہی سے ریلی کو خدا حافظ کیا اور واپس چلے گئے ۔سراج الحق ریلی لیکر اپنے مقام پر پہنچے اور انہوں نے خطاب بھی کیا ۔اب عمران خان کے واپس جانے سے کیا نتائج نکلتے ہیں ۔اس سے تو شاید کپتان بے خبر ہی ہوگا کیونکہ سجی سجائی محفل جو کہ پی ٹی آئی لوٹ سکتی تھی وہ چھوڑ کرچلی گئی اور میدان جماعت اسلامی کے ہاتھ میں دیدیا ۔کراچی میں چونکہ ایم کیو ایم کا بھی ایک بااثر حلقہ موجود ہے اور عرصہ دراز سے وہ کراچی میں راج کررہے ہیں ۔ان کوگرانا بھی کوئی اتنا آسان کام نہیں ہے ۔اسلام آباد میں اسد عمر نے کہا کہ یہاں کے میئر کا فیصلہ پی ٹی آئی کرے گی ۔کراچی میں بھی کپتان نے کہا کہ میئر ہمارا ہوگا ۔اب یہ جو میئر کیلئے میوزیکل چیئر کا کھیل تھا یہ تو بگڑ چکا ۔اسلام آباد کی چیئر بھی ہاتھ سے نکلتی جارہی ہے اور کراچی کی چیئر کا تو حال ہی کچھ اور ہے کیونکہ جو کام آدھے میںچھوڑ دیا جائے وہ کیونکرکامیاب ہوسکتا ہے ۔کپتان کے ان یوٹرنوں نے نہ صرف کپتان کو بلکہ پی ٹی آئی کو بے تحاشا نقصان پہنچایا ۔راقم کی تو یہ رائے ہے کہ کپتان کو چاہیے کہ وہ سیاست کے بجائے فلاحی کاموں پر زیادہ توجہ دیں کیونکہ اس میں انہیں کامیابی حاصل ہوتی ہے ۔لاہور میں شوکت خانم ہسپتال بنایا اب پشاور میں بھی یہ ہسپتال تعمیر ہونے جارہا ہے ۔اس حوالے سے عوام بھی دل کھول کر عمران خان کی مدد کرتی ہے ۔چونکہ سیاست ایک مستقل مزاجی کا نام ہے اس میں جب تک آپ یکسانیت سے نہیں چلیں گے اس وقت تک آپ کو کوئی مثبت نتائج نہیں مل پائیں گے لمحے پر اچانک اورانہونا فیصلہ نقصان دہ ثابت ہوتا ہے ۔بلدیاتی انتخابات سے پہلے ریحام خان کی علیحدگی اتنا بڑا نقصان ثابت ہوا ۔پھر اس کے بعد ریحام کے پشتو کے ٹپے پتہ نہیں کیا کیا پیغامات دے رہے ہیں وہ نام لیکر تو نہیں کہتیں مگر ظاہر ہے کہ جس کیلئے بھی کہہ رہی ہےں عوام کو تو خوب سمجھ آجاتا ہے ۔اب وہ الیکٹرانک میڈیا میں واپسی کیلئے پرتول رہی ہیں ۔سنا جارہا ہے کہ کسی نجی چینل سے ان کا معاہدہ بھی ہوچکا ہے ۔وہ دسمبر تک شاید دوبارہ سے میڈیا کو جوائن کرلیں گی اور پھر ریحام خان ہونگی ،میڈیا ہوگا ،پاکستان تحریک انصاف ہوگی،کپتان ہوگا ،تجزئیے ہونگے ،مہمان ہوں گے ،تیکھے تیکھے سوالات ہوں گے ،انوکھے انوکھے انکشافات ہونگے ۔بات صرف یہاں تک نہیں ٹھہرے گی نامعلوم کہاں تک نکل جائے ۔اس سیلاب کو آنے سے پہلے پل باندھنا ہوگا ،آپس میں کوئی باہمی رضا مندی سے معاہدہ کرنا ہوگا تاکہ بہت زیادہ معاملات خراب نہ ہوں ۔کیونکہ اس یوٹرن نے کپتان کو کہیںکا بھی نہیں چھوڑا لہذا کم از کم اگر کچھ کرنا ہے تو مستقل مزاجی کو اپنائیں تاکہ کسی جگہ تو قدم براجمان کرسکیں ۔