- الإعلانات -

آوازِ سگاں کم نہ کند رزق گدار

khalid

اگر ہم یہ کہیں کہ پاکستان انتہاءپسندوں سے بالکل پاک ہے تو یہ بجا نہ ہو گا۔ پاکستان میں بھی مٹھی بھر انتہاءپسند ہیں جو اپنی من مانی کرنا چاہتے ہیں مگر ان کی یہاں چلتی نہیں۔ وہ جب بھی انتہاءپسندی پر مبنی کوئی اقدام کرتے ہیں تو پوری قوم ان کے خلاف متحد ہو کر اٹھ کھڑی ہوتی ہے اور حکومت بھی حتی الوسع ان کے خلاف کارروائی کرتی ہے۔اور ہمیں یہ بھی اقرار کرنا چاہیے کہ بھارت میں بھی اس سے قبل کم و بیش کچھ ایسا ہی تھا مگر جب سے ہزاروں مسلمانوں کا قاتل نریندر مودی برسراقتدار آیا ہے بھارت کے حالات پاکستان سے یکسر مختلف ہو گئے ہیں۔ وہاں انتہاءپسند اگرچہ اب بھی مٹھی بھر ہی ہیں مگر حکومتی پشت پناہی کے باعث وہ اس قدر طاقتور ہو گئے ہیں کہ بھارت کی ڈیڑھ ارب آبادی کے قابو نہیں آ رہے۔ بڑے بڑے دانشور، سیاستدان، فنکار غرض ہر مکتب فکر کے لوگ جو ان کے انتہاءپسندانہ موقف سے اختلاف رکھتے ہیں ان کے نشانے پر ہیں اور کوئی ان کا ہاتھ روکنے والا نہیں۔
یہ قصہ آج کا نہیں، آپ کو یاد ہو گا کہ نریندر مودی کے حکومت میں آنے کے فوراً بعد ماہِ رمضان آیا تھا، تب شیوسینا کے دہشت گردوں نے کئی مسلمانوں کو زبردستی روزہ توڑنے پر مجبور کر دیا تھا، ان کے منہ میں زبردستی کھانے کے اشیاءٹھونسی گئی تھیں۔ تب سے یہ کہانی شروع ہوئی ہے جو اب اپنے عروج کو پہنچ چکی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس کا اختتام ان انتہاءپسندوں کے زوال پر ہوتا ہے یا پھر بھارت کے زوال پر۔ آپ کو شاید یہ بات عجیب لگی ہو لیکن اگر ہم ٹھنڈے دماغ سے شیو سینا کی انتہاءپسندی کو دیکھیں تو درحقیقت یہ بھارت ہی کا برا کر رہے ہیں، بھارت ہی کا چہرہ داغدار کر رہے ہیں۔ ان کی اس انتہاءپسندی سے مسلمانوں و دیگر اقلیتوں کو وقتی کوفت تو ہو رہی ہے مگر اس کے دیرپا اثرات خود بھارت پر مرتب ہوں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ دنیا اندھی ہے، وہ کچھ دیکھ نہیں رہی،ایسا بالکل نہیں ہے، دنیا سب دیکھ رہی ہے، وہ بھارت میں جاری اس انتہاءپسندی کو بھی گہری نظروں سے دیکھ رہی ہے، اور شیوسینا اور ان کے پروردہ نریندر مودی کو اس بات کا ادراک نہیں کہ دنیا کی نظروں میں ان کا کون سا امیج بن رہا ہے۔معاف کیجیے گا ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ دنیا متعصب ہے، وہ مسلمانوں کے ساتھ تعصب کا رویہ اختیار کرتی ہے، غیرمسلموں کی برائیاں بھی نظرانداز کرتی ہے اور مسلمانوں کی اچھائیاں بھی اسے نظر نہیں آتی۔ جیسا کہ دنیا کے ہر ملک میں ہر طرح کے لوگ ہوتے ہیں، ویسے ہی ہر ملک میں کچھ تنگ نظر اور انتہاءپسند بھی ہوتے ہیں، ان انتہاءپسندوں کے حوالے سے تو ہماری یہ سوچ درست ثابت ہو سکتی ہے لیکن اگر ہم یہ کہیں کہ پوری دنیا ہی مسلمانوں کے معاملے میں متعصب ہے تو یہ کم از کم میری نزدیک تو بالکل غلط ہے۔ دنیا کے ہر ملک میں جہاں ایک شخص کسی مسلمان کے خلاف کوئی اقدام کرتا ہے وہیں 4لوگ اس انتہاءپسند کی مخالفت میں بھی تو کھڑے ہوتے ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم خود اس معاملے میں تعصب کا شکار ہیں کہ مسلمانوں کی طرفداری کرنے والے ہمیں نظرنہیں آتے، دنیا بھر میں ہمیں انتہاءپسند ہی دکھائی دیتے ہیں۔ ہمارے میڈیا میں بھی مسلمانوں کے خلاف اقدامات کرنے والے ہندوﺅں، عیسائیوں وغیرہ کی خبریں تو نمایاں طور پر دیکھی جا سکتی ہیں مگر کبھی کسی اخبار یا کسی ٹی وی چینل پر میں نے ایسی خبر نہیں دیکھی جس میں تصویر کا دوسرا رخ دکھایا گیا ہو۔ میں جاپان میں رہتا ہوں، یہاں بھی بین المذاہب رواداری کے ایسے مظاہر دیکھتا رہتا ہے، دنیا کے کئی ممالک کا سفر کرتا ہوں، وہاں بھی ایسے درجنوں مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ مسلمانوں کے خلاف نفرت کے واقعات اور رواداری و ہم آہنگی کے مظاہر کا موازنہ کروں توغیر ممالک میں غیرمسلموں کی مسلمانوں کے ساتھ ہم آہنگی بھاری پڑتی ہے، مگر نجانے کیوں ہم انسانی رواداری کے ان واقعات کو سامنے نہیں لاتے، ان پر بات کرنے کی بجائے ہمیشہ منفی باتوں کو ہی موضوعِ بحث بناتے ہیں، اور یہی وہ رویہ ہے اسلام نے جس کی سختی کے ساتھ ممانعت کر رکھی ہے۔ ہمیں دنیا میں مسلمانوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کا تجزیہ کرتے ہوئے اس پہلو کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔
بھارت کی بات کریں تو جیسا کہ میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ وہ اپنی انتہاءپسندی سے کسی اور کو کیا نقصان پہنچا لیں گے؟ آج کل وہ مسٹرپرفیکٹ عامر خان کے درپے ہیں، مگر ان کی اس حرکت سے عامر خان کا کیا بگڑ جائے گا؟ فارسی کے معروف شاعر عرفی نے کیا خوب کہا ہے کہ
عرفی تو ما اندیش زغوغائے رقیباں
آوازِ سگاں کم نہ کند رزق گدارا
(عرفی تو مخالفین کے شوروغل کا برا مت مان، کیونکہ کتوں کے بھونکنے سے فقیر کے رزق میں کمی نہیں آتی)شیوسینا کے انتہاءپسند بھی گلی کے وہ کتے ہیں جنہیں ہر گاڑی کے پیچھے دوڑنے کی عادت ہوتی ہے مگر ان کی اس حرکت سے گاڑی یا گاڑی میں بیٹھے شخص کا کچھ نہیں جاتا۔ یہی گلی کے کتے اگر فقیر کے پیچھے پڑیں تو وہ بھی انہیں درگزر کرتا ہے اور گزر جاتا ہے، واپس پلٹ کر کبھی ان کے گلے نہیں پڑتا۔ شیوسینا جیسے انتہاءپسندوں کی دہشت گردی پر ہم جتنا شوروغل مچائیں گے ان کی دہشت گردی میں اتنی ہی شدت آئے گی۔ ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ کیا یہ لوگ اتنی اہمیت کے حامل ہیں کہ ان کی بات ہی کی جائے، کیوں نہ ہم بھی فقیر کی طرح گلی کے ان کتوں سے درگزر کریں اور خامشی سے اپنی راہ چلتے جائیں۔ وہ دنیا کو اپنا چہرہ دکھا رہے ہیں، ہم اپنے طرزعمل سے اپنا چہرہ دکھائیں۔ یقین کیجیے کہ دنیا بالکل بھی اندھی نہیں ہے، وہ سب دیکھ رہی ہے، ایک وقت آئے گا جب وہ فیصلہ دے گی اور تب ہمیں سرخرو ہوں گے، اگر ہم اپنے دین اسلام کے پیغامِ امن و آشتی پر عمل پیرا رہے۔ وگرنہ دنیا کی نظروں میں ہمارا مقام بھی وہی ہو گا جو شیو سینا کے دہشت گردوں کا ہونے جا رہا ہے۔