- الإعلانات -

پنجاب میں نیشنل ایکشن پلان پر موثر انداز میں اقدامات

riaz-ahmed

وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی زیرصدارت صوبائی ایپکس کمیٹی کے اجلاس میںدہشت گردی، انتہاپسندی اور فرقہ واریت کے خاتمے کیلئے نیشنل ایکشن پلان پر مزید موثر انداز میں تیزرفتاری سے اقدامات پر اتفاق اور کالعدم تنظیموں کی ہر طرح کی سرگرمیوں کو پوری قوت سے کچلنے کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیراعلیٰ شہباز شریف نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔ دہشت گردی، انتہاپسندی اور فرقہ واریت کے ناسور کو دفن کرکے دم لیں گے اور امن دشمنوں کے مکمل خاتمے تک جنگ جاری رہے گی۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک افواج کے افسروں و جوانوں، پولیس حکام و اہلکاروں اور زندگی کے ہر طبقے کے افراد نے لازوال قربانیاں دی ہیں اور شہداءکی عظیم قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ دہشت گردوں اور ان کے معاونت کاروں کو عبرت کا نشان بنائیں گے اور پاکستان کا امن تباہ کرنے والوں کوان کے عبرتناک انجام تک پہنچائےں گے۔ وزیر اعظم نواز شریف نے چند ہفتے قبل کہا تھا کہ کئی صوبوں میں نیشنل ایکشن پلان پر عمل نہیں ہو رہا۔ نیشنل ایکشن پلان پر عمل کیلئے ایپکس کمیٹیوں کا فعال ہونا ضروری ہے۔ اسی پلان پر عمل کرتے ہوئے دہشت گردی جیسے ناسور کا سر کچلا جا سکتا ہے۔ گو آپریشن ضرب عضب کے مقاصد تیزی سے حاصل ہو رہے ہیں مگر ضرب عضب کا اصل مقصد دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ ہے۔ دہشت گردوں کے سہولت کاروں پر ہاتھ ڈالنا نیشنل ایکشن پلان کا حصہ ہے کیونکہ دہشت گرد اپنے سپورٹرز اور سہولت کاروں کے بغیر دہشت گردی کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ لیکن دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے گرد گھیرا تنگ کرنے کیلئے آج بھی حکومت مصلحتوں کا شکار نظر آتی ہے۔اس حوالے سے سندھ حکومت کا رویہ غیر ذمہ دارانہ ہے۔ کمزور پراسیکوشن کے نتیجے میں دہشت گردی کے ملزمان کی ضمانتوں پر رہائی اور رہائی کے بعد ان کا پھر دہشت گردی میں ملوث ہونا نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد میں رکاوٹ ہے۔ اس کی ایک مثال رینجرز نے ایک دہشت گرد کو گرفتار کیا کیس بنا کر حکومت کے حوالے کیا لیکن کمزور پراسیکوشن نے اس کی ضمانت پر رہائی کو ممکن بنا دیا اور دلچسپ امر یہ کہ جن افراد نے ضمانت کی ان کے شناختی کارڈ بھی جعلی نکلے۔ کراچی میں امن کی بحالی کے باوجود سندھ کے حکومتی عہدیداروں کی جانب سے رینجرز کو واپس بھجوائے جانے یا اس کے اختیارات کم کرنے کی باتیں بھی سننے میں آتی رہی ہیں جبکہ پنجاب میں نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا تو حسب ذیل حقائق سامنے آئے جن سے وزیراعلیٰ شہباز شریف کے اس بیان کی توثیق ہوتی ہے کہ پنجاب میں نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد ثمرآور ثابت ہو رہا ہے۔ اول تو وزیر اعلیٰ نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کی نگرانی خود کر رہے ہیں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے انسداد کےلئے متعلقہ قوانین کو موثر بنانے کےلئے بعض تبدیلیاں روشناس کرائی گئیں۔نومبر 2015ءتک نفرت انگیز تقاریر، اسلحہ کی نمائش وال چاکنگ اور دیگر قوانین کے تحت اڑتالیس ہزار چھ سو سترہ مقدمات درج ہوئے اور 53 ہزار ایک سو اکاون ملزموں کو گرفتار کیا گیا جس سے نہ صرف امن و امان کی صورتحال میں بہتری محسوس کی گئی بلکہ صوبے میں دہشت گردی انتہا پسندی کے سر اٹھانے کے واقعات نہیں ہوئے جبکہ صوبے میں سندھ کے برعکس ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری کی لعنت نے سر نہیں اٹھایا تھا۔ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کو موثر بنانے کیلئے انفارمیشن ٹیکنالوجی پر مبنی نظام قائم کیا گیا ہے جس کے ذریعہ دہشت گردوں کے اندرون ملک اور بیرون ملک مواصلاتی رابطوں کا سراغ لگانے اور انہیں پکڑنا ممکن ہوگیا ہے اس نظام کی بدولت دہشت گردوں کے ساتھ سہولت کاروں کی گرفتاریاں بھی عمل میں لائی گئی ہیں۔ ملک اسحاق کی سربراہی میں کام کرنے والے گروہ اور داعش سے رابطوں کا سراغ بھی اس کے ذریعہ لگایا گیا تھا اس طرح لاہور میں جدید ترین فرانزک لیبارٹری قائم کی گئی ہے جو امریکہ برطانیہ دیگر یورپی ممالک کی لیبارٹریوں سے زیادہ جدید ہے۔ پنجاب سپیشل پولیس جس کی کارکردگی پر کبھی کسی جانب سے اطمینان کا اظہار نہیں کیا گیا اسے بھی جدید خطوط پر ازسرنو تنظیم سے مرحلہ سے گزارا گیا ہے۔ اینٹی ٹیررسٹ ڈیپارٹمنٹ میں فوج کے تربیت یافتہ ماہرین کو تعینات کیاگیا ہے۔ اینٹی گریٹڈ کمانڈ، کنٹرول اینڈ کمیونیکشن سنٹر کا قیام اور لاہور کے تمام تھانوں کو اس سے منسلک کرنے کا نتیجہ ہے کہ دہشت گردی کی بعض وارداتوں کا قبل از وقت سراغ لگا کر دہشت گردوں کو ناکام اور گرفتار کر لیا گیا۔ اس سے پورے لاہور شہر کی ڈیجیٹل مانیٹرنگ ممکن ہوئی ہے۔ اس سے گلی، محلوں کو مانیٹر کرنا بھی ممکن ہوا ہے یہ سسٹم پنجاب کے دیگر شہروں میں بھی جلد ہی کام شروع کر دے گا۔ سندھ حکومت بھی اگر نیشنل ایکشن پلان کے حوالے سے پنجاب میں کئے جانے والے اقدامات اور تجربات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے تو یقینی طور پر نیشنل ایکشن پلان کے سلسلے میں دامن پر صحیح طور پر عملدرآمد نہ کرنے کے جو داغ دھبے ہیں وہ صاف ہو جائیں گے۔