- الإعلانات -

ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھتے قومی ادارے

syed-rasool-tagovi

گزشتہ سے پیوستہ ہفتے چیف جسٹس آف پاکستان انور ظہیر جمالی نے کوئٹہ بار ایسوسی ایشن کی طرف سے دیئے گئے عشائیہ سے خطاب کرتے ہوئے کمال کی بات کی کہ اپنے حقوق کی سب بات کرتے ہیں تاہم فرائض کوئی نہیں نبھاتا۔چیف جسٹس نے کہا کہ ارباب اختیار کرپشن روکنے کیلئے اقدامات کریں ، نظام کی بہتری کیلئے ہم سب کو خود اپنا احتساب کرناہوگا۔قبل ازیں چیف جسٹس نے ایک تقریب میں کہا کہ ملک میں بیڈ گورننس کا ماحول بنا ہوا ہے۔ان کا یہ بیان ان دنوں منظر عام پر آیا جب کورکمانڈر کانفرنس میں حکومت کو گڈ گورننس کا مشورہ دیا گیاتھا جس پر وہ بہت سیخ پا ہوئی تھی،اور دعویٰ کیا کہ گڈگورننس حکومت کا طرہ امتیاز ہے۔چیف جسٹس کا یہ کہنا بالکل بجاہے کہ اس وقت ہمارا ملک کرپشن کی دلدل میں بری طرح پھنسا ہواہے اور سرکاری محکموں میں سے کوئی محکمہ ایسا نہیں جسے ہم کرپشن فری قرار دےا جا سکے ،اقربا پرروری اور من پسند افراد کو ایسے ایسے اداروں میں گھسایا جا رہا ہے کہ جہاں سے ان کو ذاتی اور سیاسی مفادات کے خلاف کارروائی کا خطرہ ہے۔تھانہ کچہری سے لے کر ملک کے اعلیٰ ترین اداروں کواپنے مفادات کے نگرانوں سے بھرا جا رہا ہے۔ کرپشن ہو ےا اقربا پروری ملکی اور اسلامی قواعد و ضوابط کے مطابق ایک سنگین جرم ہے مگر حیرت اس بات پر ہے کہ قوائد و ضوابط کے خالق خود اس کی پامالی پر تلے رہتے ہیں۔نیب اوردیگر تحقیقاتی ادارے سب بخوبی جانتے ہیں کہ کس طرح قومی اداروں میں اپنے وفاداروں کی تعیناتیاں کی جارہی ہیں،حتی ٰ کہ خود نیب اس کی زد میں ہے مگر وہ بھی ان کے سامنے بے بس ہے ۔جب صاحبان اقتدار اپنا اور اپنے ہمدروں کا مفاد ملک کے مفاد پر عزیز رکھیں گے توپھر کیسا بلامتیازاحتساب اور کیسی امیدیں ۔ اس کی مثال منشا گروپ کے حوالے سے دی جا سکتی ہے جن کو بچانے کےلئے اندر خانے بہت کچھ کیا جارہا ہے۔کراچی میں جب نیشنل ایکشن پلان کے تحت احتساب کا عمل شروع ہوا تواے خوب سراہا گیا،مگر ساتھ یہ مطالبہ بھی زور پکڑنے لگا کہ اس کا رخ پنجاب اور دیگر صوبوں کی طرف بھی کیا جائے تاکہ بلا امتیازکارروائی کا تاثر تقویت پکڑے۔بد قسمتی سے ابھی تک ایسا نہیں ہو پارہا۔نیشنل ایکشن پلان پنجاب میں کب شروع ہوتا ہے اس بارے فی الحال کچھ نہیں کہا جاسکتا تاہم حکمران جماعت نے اپنے سیاسی و معاشی سہولت کاروں کوبچانے کے لئے اہم عہدوں پر ذاتی وفاداروںکی تعیناتیاں کرنا شروع کررکھی ہیں ،اس سے نہیں لگتا کہ نیشنل ایکشن پلان پنجاب میںکوئی نتائج دے سکے،یا نیب وہ کارکردگی دکھا سکے جو اس نے اب تک کراچی میں دکھائی ہے۔ مغربی ممالک میں احتساب کا عمل اتنا مضبوط ہے کہ کوئی فرد کرپشن کر کے بچ نکلنے کا تصور تک نہیںکرسکتا مگر ہمارے ہاں الٹی گنگابہتی ہے۔کرپشن صرف پیسے کی نہیں ہوتی اورسیاسی مفادات کا تحفظ احتساب کرنے والے اہم عہدوں پراپنے خاص الخاص وفادار بیورکریٹس کی تقرریاں اور تبادلے یہ بھی کرپشن ہے ۔یہ ایک ایسا گٹھ جوڑ اور مک مکا ہے کہ جس نے ملک کو اس حال تک پہنچا دیا ہے۔ بدقسمتی سے حکمرانوں نے ایسی گورننس کی مثال قائم نہیں کی جس کے باعث کہا جا سکے کہ یہاں انصاف اور احتساب سب کے لئے برابر ہے۔ طاقت و اختیار کے زور پر ملکی قومی وسائل کو شیرمادر سمجھ کر لوٹنا احتساب اور جوابدہی کے اداروں کوگرفت میں رکھنا ،،موجودہ حکومت کی وہ روش ہے کہ جس کے مستقبل میں گہرے منفی اثرات مرتب ہونگے۔ سلطانی جمہور میں یہ گٹھ جوڑ منتخب ایوانوں میں باہمی مفادات کے تحفظ کا شاہکار ہے جس میں اقتدار کی باریاں لگانے پر بھی اتفاق کرلیا گیا ہے۔ اس طرح طاقت و اختیار کے زور پر اپنے اپنے دور کی کرپشن‘ بے ضابطگی اور نااہلی کو بھی قانونی تحفظ دلانے کی کوششیں بھی جاری ہیں ہےں۔ قوم تماشا دیکھ رہی ہے کہ سابق ادوار سے اب تک کی لوٹ مار کیخلاف مقدمات اور ریفرنسوں میں ملوث ان استحصالی طبقات کیخلاف کوئی کیس اپنے منطقی انجام کو نہیں پہنچ پایا ہے،سابق صدر آصف علی زردی کی بریئت اسکی مثال ہے۔ حکمرانوں نے سیاست کو کاروبار بنا لیا ہے اور وقت گزرنے کےساتھ بیشتر سول بیورو کریسی بھی حکمرانوں کے کاروبار کی محافظ بن چکی ہے۔ حیرت ہے کہ سیاسی جماعتوں کے مابین مفاہمت کے نام پر کرپشن اور جائز و ناجائز ذرائع سے کمائی جانے والی دولت کو آئین و قانون کے تابع کئے جانے کے بجائے مزید پرگندہ کیا جارہا ہے۔ اہم سول اداروں کی کارکردگی اِس لئے بھی متاثر ہوئی ہے کیونکہ بعض سرکاری اہلکارآئین کی پاسداری کے بجائے اپنے آقاو¿ں کے مفادات کی پاسداری میں جتے ہوئے ہیں۔ درحقیقت پاکستان میں کرپشن ، بدعنوانی و اقربا پروری کی بڑھتی ہوئی لہر کے باعث پاکستان میں نہ جمہوریت مستحکم ہورہی ہے نہ جمہور معاشی طور مستحکم ہو رہا ہے،ہاں البتہ خاندانوں کے دن دگنی اور رات چگنی ترقی کررہے ہیں۔ عام آدمی اِس اَمر کو اچھی طرح جان چکا ہے کہ ملک میں حقیقی احتساب کی بجائے حکومت صرف اپنے آپ کو بچانے میں مصروف دکھائی دیتی ہے،جہاں جہاں اسے خطرہ محسوس ہوتا ہے وہاں وہاں اپنے نمک خواروں کو گھسیڑا جا رہا ہے۔جیسے جب انگوٹھوں کے نشانات کی تصدیق کا معاملہ آیا تو طارق ملک کو اُٹھا کر باہر نکال دیا گیا جبکہ ان کی جگہ لاہور سے ایک معروف بیور کریٹ کو ان کی جگہ نگران لگا دیا گیا تھا،اب نیب میں بھی ان کو خصوصی ٹاسک پر بھیج دیا گیا ۔ ایک ایسے وقت جب فاٹا، بلوچستان اور کراچی میں فوج دہشت گردوں کے خلاف حالت جنگ میں ہے جبکہ ملک بیرونی خطرات اور اندرونی خلفشار میں گھرا ہوا ہے،حکومت قومی ایکشن پلان کے تحت احتساب کرنے والے اداروںاور فوج کو سپورٹ دینے کی بجائے رکاٹیں کھڑی کررہی ہے۔ایسی صورتحال گڈ گورننس طرہ ّامتیاز کے دعوے کی نفی ہے۔