- الإعلانات -

روسی طیارے کو مار گرانے کا معاملہ اور امریکی کردار !

Darwesh-sherazi

ترکی کے جانب سے روسی طےارے کے مارے جانے کے بعد حالات نے کروٹ کھالی ہے اور درپیش صورت حال ان دنوں میڈیا اور عالمی منظر نامے پر نظر رکھنے والے افراد کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ جیٹ طیارے کے معاملے پر ترکی اور روس میں کشیدگی برقرار ہے، روس نے امریکا پر سازش کا الزام عائد کیا ہے جبکہ ترک صدر نے روسی الزامات کی تردید کردی اور روس اس بات کی سختی کے ساتھ تردید کرتا ہے کہ اس کے لڑاکا طیارے نے ترکی کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تھی۔
صدر ولادی میر کے مطابق فضائی حدود کی حفاظت کیلئے دیگر طریقوں کے باوجود ترکی نے طیارہ مار گرایا۔شام میں جاری فضائی آپریشن کے دوران روس کے جنگی طیاروں کی نقل و حرکت سے امریکا کو آگاہ کیا تھا، معلومات کے باوجود جیٹ طیارہ مار گرانا سوچی سمجھی سازش ہے۔دوسری جانب ترک صدر رجب طیب اردوان نے روس کا الزام بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر معلوم ہوتا کہ طیارہ روس کا ہے تو صورتحال مختلف ہوتی، دہشتگرد تنظیم سے تیل خریدنے کے روسی الزام کی بھی مذمت کی۔دریں اثنا ترک صدر نے کہا ہے کہ روس شام میں بشارالاسد کی حمایت میں لڑرہا ہے، داعش کیخلاف کارروائیوں میں شامل نہیںاور انہوں نے طیارہ مار گرانے پر معذرت سے انکار کرتے ہوئے روس سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔اورروسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا کہ ہم اس بات پر یقین نہیں کرسکتے کہ یہ کام غیر ارادی طور پر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں لگتا ہے یہ کام پہلے سے طے شدہ منصوبے کا حصہ ہے اور آج یہ بات بھی خفیہ نہیں رہی کہ دہشت گرد گروہ، شام کی حکومت کے خلاف کارروائیوں کے لئے ترکی کی سرزمین استعمال کر رہے ہیں۔ان کا یہ کہنا بھی تھا کہ ماسکو، سلامتی کونسل سے درخواست کرے گا کہ وہ ان اطلاعات کا جائزہ لے اور اس بارے میں تحقیقات کرے کہ دہشت گردوں کو مالی وسائل کیسے اور کہاں سے فراہم کئے جا رہے ہیں ان کا کہنا تھا کہ جس نے روسی لڑاکا طیارے کو مار گرایا ہے اس کا پتہ لگاکر اس کو سزا دی جائے گی انہوں نے کہاکہ ترکی کا یہ اقدام مجرمانہ کارروائی اور دہشت گردوں کی حمایت ہے –
شام کے وزیرخارجہ نے روس کے لڑاکا طیارے کو مار گرائے جانے کے بعد رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ترکی کا یہ اقدام اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ انقرہ کی حکومت انتہا پسند اور دہشت گرد گروہوں کی حامی ہے – انہوں نے کہا کہ ترکی نے روس کے طیارے پر حملہ کر کے شام کی بھی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی ہے انہوں نے کہا کہ داعش جبہہ النصرہ اور دیگر دہشت گرد گروہوں کو نابود کرنے کی کوششوں سے ترک حکام سخت ناراض ہیں –
اس دوران شام کے وزیر خارجہ نے روس کا ہنگامی دورےہ کیاروسی حکام نے شامی وزیرخارجہ سے ملاقاتوں میں کہا کہ شام کی سرحد کے اندرترکی کے ذریعے روسی طیارے کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے اور ماسکو انقرہ کے اس اقدام کو جرم اور دہشت گردوں کی حمایت سمجھتا ہے انہوں نے ترکی کی سرحد کے قریب دہشت گردوں کے ٹھکانوں کی موجودگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہاکہ ماسکو اپنے نشانہ بنائے جانے والے لڑاکا طیارے کی پرواز کے راستے کو کنٹرول کرنے والے روسی ماہرین کی ہی رپورٹ کو معیار قرار دے گا –
شام کی فوج نے اکیس سے چھبیس نومبر تک کے آپریشن میں ریف دمشق، حمص، حماہ، ادلب، حلب، دیرالزور، اور لاذقیہ صوبوں میں دہشت گرد گروہوں کے چھ سو تہتر ٹھکانے تباہ کر دیئے گئے ہیں۔ یہ رپورٹیں بھی سامنے آرہی ہیں کہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر شام کی فوج اور روس کے مشترکہ حملوں میں بہت سے محاذوں پر دہشت گردوں کی دفاعی لائنیں تباہ ہوچکی ہیں اور دسیوں غیر ملکی دہشت گرد جنگی علاقوں سے فرار ہو کر ترکی کی سرحدوں کی جانب جا رہے ہیں۔ دوسری جانب روس کے لڑاکا طیاروں نے شام کی فضائیہ کے تعاون سے گزشتہ دو دنوں کے دوران دمشق، حلب، ادلب، لاذقیہ، حماہ، الرقہ اور دیرالزور صوبوں میں دہشت گردوں کے چار سو انچاس ٹھکانوں پر حملے کئے جس کے نتیجے میں دہشت گردوں کے تیس کنٹرول روم، اسلحے کے متعدد گودام، دھماکہ خیز مواد بنانے کے کارخانے اور دہشت گردی کی تربیت کے مراکز تباہ ہوگئے ہیںاوردہشت گردوں کے ٹھکانوں پر شام اور روس کی کارروائیوں سے شام میں دہشت گردوں خاص طور پر داعش کی نابودی کی الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے- روسی فضائیہ نے شام کی حکومت کی درخواست پر گذشتہ تیس ستمبر سے شام میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پراپنی کارروائیاں شروع کی ہیں جو اب تک جاری ہیں – روسی فضائیہ کے حملوں میں بڑی تعداد میں دہشت گرد ہلاک اور ان کے ہتھیاروں کے بہت سے گودام بھی تباہ ہوچکے ہیں –
روس نے ترکی کے ہاتھوں طیارہ گرائے جانے پر امریکا کو بھی ملوث قرار دے دیا،، فلائٹ ڈیٹا امریکا کو دیا تھا، روسی صدر ولا دیمیر پیوٹن نے نیا محاذ کھول دیا جبکہ دوسری جانب روسی اینٹی ایئرکرافٹ نظام ایس چار سو شام پہنچا دیا گیا،روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے فرانسیسی صدر فرانسس اولاند کے ہمراہ ماسکو میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ گرائے گئے روسی طیارے کے واقعہ میں امریکا بھی ملوث ہے کیونکہ روس نے اپنے طیارے کا رستہ امریکا کو دیا تھا جو ظاہرکر دیا گیا، انہوں نے کہا کہ جس وقت طیارے کو ایک مقام سے گزرنا تھا، عین اسی لمحے مار گرایا گیا، پیوٹن نے مزید کہا کہ ان کے طیاروں پر شناختی علامات واضح تھیں تو پھر نشانہ کیوں بنائے گئے، امریکا کو اتحادیوں پر کنٹرول نہیں یا وہ خفیہ معلومات سب پر ظاہر کر رہا ہے، کیا روس نے اس لیے امریکا کو معلومات فراہم کی تھیں۔ ولاادیمیر پیوٹن نے کہا کہ عوام بشارالاسد کے مستقبل کا فیصلہ خود کریں۔لگتا یسا ہے کہ اس کھیل میں امریکہ اپنا من پسند کھیل کھیل رہا ہے دنیامیں سرد جنگ کے اثرات ظاہر ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ اگر ترکی اور روس کے مابین تنازعہ طول پکڑتا ہے تو پھر ہمارے لئے بھی مشکلات پیدا ہوسکتی ہیںکیونکہ ترکی ہمارا برادر ملک ہے اور پاکستان اور ترکی کے تعلقات ہمیشہ مثالی رہے ہیں اور روس ہمارا پڑوسی ملک ہے گزشتہ چند سالوں سے دونوں ممالک کے تعلقات مستحکم ہوئے ہیں اس لئے ہمیں احتیاط کے ساتھ چلنا ہوگا۔