- الإعلانات -

پاک افغان ٹریڈ اور وزیر کیڈ کی تبدیلی

Untitled-1

اسلام آباد سے منتخب رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے وزیر مملکت برائے کیڈ کا حلف اٹھانے کے بعد اپنے عہدے کا چارج سنبھال لیا۔اس تبدیلی کی اتنی سخت ضرورت تھی جس طرح پانی کے بغیر تڑپتی ہوئی مچھلی کو پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔اس تبدیلی کی بہت پہلے ضرورت تھی کیونکہ عملاً یہ وزارت ختم ہو چکی تھی۔اس کے اندر سازشوں کا گڑھ تھا۔کوئی شخص کام کرنے کو تیار نہیں تھا۔عثمان ابراہیم نہ تو ان سازشوں کو سمجھ سکے اور نہ ہی ان میں ایسی وزارت چلانے کی صلاحیت تھی۔نہ صرف وزارت کے اندر بلکہ وزارت کے تحت تمام سرکاری ادارے بدنظمی کا شکار تھے۔گزشتہ چار سالوں سے تو وفاقی ڈائریکٹوریٹ کا مستقل ڈائریکٹر جنرل ہی نہیں لگایا جا سکا۔سب کچھ ایڈہاک بیس( Base )اور عدالتوں کے رحم وکرم پر ہوتا رہا۔ سابق وزیر مملکت کیڈ عثمان ابراہیم نے تجربہ کار لوگوں اکھاڑ پچھاڑ کر اداروں کا ستیا ناس کر دیا۔اداروں کے سربراہ بے لگام گھوڑوں یا شتربے مہار کی طرح دندناتے پھرتے رہے ۔کوئی کسی کو پوچھنے والا نہیں تھا۔بلکہ اب تو لوگوں نے یہ کہنا شروع کر دیا تھا کہ دہشت گرد دینی مدرسے نہیں بلکہ سرکاری تعلیمی ادارے پیدا کریں گے۔سرکاری تعلیمی اداروں میں کیا ہونا شروع ہو گیا ہے اور کیوں لوگوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ سرکاری تعلیمی ادارے دہشت گرد پیدا کریں گے۔اس پر پھر کسی دن پورا کالم لکھوں گا لیکن اتنا ضرور کہنا چاہتا ہوں کہ یہ سب کچھ وزارتِ کیڈ کی نااہلی ، کاہلی، نالائقی اور کوئی واضح پالیسی نہ ہونے کی وجہ کہا جانے لگا۔وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے عثمان ابراہیم کو تبدیل کر کے قوم کو ناقابلِ تلافی نقصان سے بچا لیا۔اور پھر اس عہدے کے لئے ایسے وزیر کا چناو¿ کیا گیا۔جو انتھک، محنتی، دیانتدار اور خاص کر اسلام آباد کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں۔طارق فضل چوہدری کے والد محترم چوہدری فضل داد مرحوم سے میرے ذاتی تعلقات اور خصوصی دوستی تھی۔سی ڈی اے کے سابق چیئرمین سید علی نواز گردیزی کے گھر ہفتے میں دو تین بار ضرور ملاقاتیں ہوتی تھیں۔طارق فضل چوہدری اس وقت بہت چھوٹے اور طالبعلم تھے۔بہرحال اس خاندان سے میرا35سالہ پرانا رشتہ ہے۔اور ان کو ذاتی طور پر جانتا ہوں۔ڈاکٹر صاحب اس وزارت کو چلانے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔اس اہم وزارت کا چارج سنبھالنے پر ڈاکٹر صاحب کو مبارکباد اور خاص طور پر وزیراعظم پاکستان کا انتہائی شکریہ کہ انہوں نے اس اہم وزارت کے لئے ذہین، ایماندار، اور مسائل کو قریب سے جاننے اور سمجھنے والی شخصیت کا چناو¿ کیا لیکن ابھی یہ کام مکمل نہیں ہوا۔ابھی سابق وزیر موصوف کے نالائق چمچوں سے بھی وزارت کو پاک کرنا ہوگا۔کیونکہ بہت ساری خرابیوں کی جڑ وہ چمچے بھی تھے۔اس لئے اسٹیبلشمنٹ کو خاص طور پر احکامات جاری فرمائے جائیں کہ وہ نئے وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کو کھل کر کام کرنے کا موقع دینے کے لئے ان کو ان کی مرضی کا سٹاف بھی دینا چاہیئے۔بہرحال ایک بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو گئی ہے کہ اب کیڈ کے ذیلی اداروں میں بہت خوشگوار اور معطر تبدیلی آئے گی۔گزشتہ روز وزیر کیڈ کی تبدیلی کے ساتھ جو دوسری خوشگوار خبر اخبارات کی زینت بنی۔وہ پاک افغان تجارتی حجم بڑھانے پر غور کرنا تھا ۔اس تجارتی حجم کو بڑھا کر 5ارب ڈالر تک لے جانے کا اعلان کیا گیا۔ریل اور روڈز کے رابطے بڑھانے اور محفوظ بنانے پر بھی تفصیلی بات ہوئی۔اس سلسلے میں سارے خطے کو مواصلات کے مختلف منصوبوں سے منسلک کرنا۔ہلمند سے گوادر بندرگاہ تک راہداری قائم کرنے اور دونوں ملکوں کے درمیان تجارت میں حائل تمام دوسری رکاوٹوں کو دور کرنے پر بھی اتفاق ہوا۔استنبول ترکی میں پاکستان کی ٹیم نے کاسا 1000منصوبے پر اجلاس کئے۔300میگاوواٹ بجلی پر ٹرانزٹ فیس وصول نہیں کی جائے گی۔وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈاراور افغان وزیر خزانہ عقیل حکیمی نے مشترکہ اعلامیے پر دستخط کئے ۔ترکمانستان سے افغانستان کے راستے دو ہزار میگاوواٹ منصوبے کو آگے بڑھانے پر بھی بات ہوئی۔یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کا امن افغانستان کے امن کے ساتھ مشروط ہے۔افغانستان میں امن ہو گا تو پاکستان ترقی کر سکے گا۔پاک افغان ٹریڈ سے دونوں ممالک میں ترقی کے راستے کھلیں گے ااور یہ ٹریڈ دو مختلف راستوں سے ہو سکتا ہے۔پہلا پشاور سے کابل براستہ طورخم اور دوسرا چمن سے قندھار۔ریلوے لائن اور سڑک دونوں انتہائی کارآمد ثابت ہو سکیں گے۔ اس خطے کے یہ دونوں ممالک گزشتہ تقریباً دو دہائیوں سے حا لتِ جنگ میں ہیں۔ بلکہ افغانستان تو گزشتہ چار دہائیوں سے میدانِ جنگ بنا ہوا ہے۔اس کو اس مصیبت میں دھکیل کر پاکستان دشمنوں نے افغانستان کو اپنا مستقل مسکن بنا لیا۔خاص طورپر گزشتہ 16سال سے دہشت گردوں نے ان ممالک کی بنیادیں کھوکھلی کر دیں۔موجودہ حکو متِ پاکستان نے نیشنل ایکشن پلان کے تحت سب سے پہلے دہشت گردی اور دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے کااعادہ کیا۔اور اس عمل کے تحت دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کیا۔اس پلان کے آغاز سے پہلے جو دہشت گرد افغانستان بھاگ گئے تھے۔وہاں اب ان کے گرد بھی گھیرا تنگ کر دیا گیا۔اب ضرورت اس امر کی تھی کہ ٹریڈ بڑھانے پر کوششیں تیز کر دی جائیں۔اور تجارت کے حجم کو مزید جلد بڑھایا جائے۔ وزیر تجارت اسحاق ڈار نے اپنے افغان ہم منصب کے ساتھ میٹنگ کے بعد جو اعلامیہ جاری کیاوہ نہایت فائدہ مند ثابت ہوگا۔تجارتی حجم بڑھنے سے خطے میں خوشحالی آئے گی۔دہشت گردی میں کمی ہوگی۔تعلیمی اعلیٰ ادارے قائم ہونگے۔پڑھے لکھے نوجوان ہر برائی کو روکنے میں اہم کردار ادا کرینگے۔