- الإعلانات -

ماہِ دسمبر ، دہشتگردی اور بھارت !

asghar-ali

 دسمبر کے مہینے کا آغاز ہو چکا ہے اور اس امر سے تو ہر کوئی بخوبی آگاہ ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں یقینا سولہ دسمبر سیاہ ترین دن کی حیثیت اختیار کر چکا ہے کیونکہ سبھی جانتے ہیں کہ 44 سال قبل پاکستان کے اندرونی اور بیرونی دشمنوں نے مختلف سازشوں کے نتیجے میں اسے دو لخت کر دیا تھا ۔ 43 برس کے بعد یعنی 16 دسمبر 2014ءکو اس دن کی سیاہی میں مزید اضافہ ہو گیا جب پشاور میں 150 سے زائد معصوم روحیں سفاک دہشتگردوں کی بھینٹ چڑھ گئیں ۔ یہ سانحہ اتنا بڑا تھا کہ اسے سن کر کوئی بھی ذی شعور آنکھ نم ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی ۔ مگر جن لوگوں نے یہ مکروہ کام انجام دیا ، ان کے لئے حسب حال لفظ ڈھونڈ پانا بھی تقریباً نا ممکن ہے کیونکہ سفاکی ، بربریت ، درندگی اور شیطانیت جیسے الفاظ اس مکروہ کاروائی کے سامنے بالکل ہیچ نظر آتے ہیں ۔
اس کھلے رازسے بھی سبھی آگاہ ہیں کہ پاکستان عرصہ دراز سے غیر ملکی سازشوں کے گھیرے میں ہے اور ان عناصر نے ملک کے اندر اپنے لئے ایسی کٹھ پتلیاں تیار کر لی ہیں جو کسی بھی اخلاقی مذہبی یا انسانی ضابطے کو ماننے پر آمادہ نہیں ۔ غالباً ان کے نزدیک دہشتگردی پر عمل کرنا ہی حرف اول بھی ہے اور حرفِ آخر بھی ۔تبھی تو گذشتہ چند برسوں میں پاکستان کے ساٹھ ہزار سے زائد شہری اور تقریباً دس ہزار سیکورٹی فورسز کے افسران اور اہلکار ان درندوں کی دہشتگردی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں ۔
گذشتہ برس سولہ دسمبر کو منگل کی صبح ان درندہ صفت دہشتگردوں نے جو گھناﺅنا وار کیا تھا اس کا تصور بھی بالعموم کوئی سنگ دل سے سنگ دل انسان نہیں کر سکتا کیونکہ بچے تو بھلے ہی کسی بھی مذہب ، قوم یا نسل سے تعلق رکھتے ہوں ، ان کو دانستہ نقصان پہنچانا بدترین فعل تصور کیا جاتا ہے ۔ کیونکہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ہماری دنیا بچوں سے شروع ہوتی ہے اورکبھی ہر شخص بچہ تھا اور اس کے بزرگ بھی بچے تھے لہذا جب یہ دنیا ہے ہی بچوں کے لئے ، بچپن ہی اس کا آغاز ہوتا ہے اور بالآخر ہر شخص اس دنیا کو اپنے بچوں کے حوالے کر کے چلا جاتا ہے تو سوچنا چاہیے یہ قتل و غارت گری ، یہ تخریب کاری بچوں کی معصومیت کو کیسے قائم رہنے دے گی۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ پوری قوم کا ہر فرد اپنے ذاتی ، سیاسی، لسانی ، اور گروہی مفادات سے اوپر اٹھا کر دہشتگردی کی عفریت کا سر ہمیشہ کے لئے کچلنے کے لئے اٹھ کھڑا ہو ۔ اس ضمن میں سب سے بڑی ذمہ داری پاکستان کی سیاسی اور مذہبی قیادت پر عائد ہوتی ہے ۔ہر فرد کو توقع ہی نہیں بلکہ یقین ہے کہ سبھی سیاسی رہنما جماعتیں ، مذہبی عمائدین اور سبھی سول سوسائٹی اور میڈیا کے تمام ذمہ داران اپنے باہمی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر اپنی زبان اور عمل سے ثابت کریں گے کہ وہ وطنِ عزیز کی پاکیزہ فضا کو دہشتگردی اور تخریب کاری کی لعنت سے چھٹکارا دلا کر رہیں گے اور آنے والے دنوں میں ہر فرد اور گروہ کا یہی ایک نکاتی ایجنڈہ ہو گا ۔ امید ہے کہ افواجِ پاکستان ، حکومت اور قوم کا ہر فرد اس قومی فریضے میں اپنا حصہ ڈالے گا اور ضربِ عضب میں اور بھی شدت پیدا کر کے اس لعنت کو ہمیشہ کے لئے پاش پاش کر دیا جائے گا ۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان نے یو این سیکرٹری جنرل ” بان کی مون “ اور دیگر عالمی قوتوں کو پاکستان میں ہو رہی دہشتگردی کے سرپرست یعنی بھارت کے حوالے سے دستاویزی ثبوت فراہم کر دیئے ہیں اور یہ ” ڈوزیئر “ اپنے اندر اتنے شواہد رکھتا ہے کہ کوئی بھی غیر جانبدار فرد یا ادارہ بخوبی جان سکتا ہے کہ پاکستان کے مختلف حصوں میں جاری دہشتگردی میں دہلی سرکار ملوث ہے اور پاکستان کے ریاستی اداروں کے حوالے سے انڈین میڈیا جو بے بنیاد پروپیگنڈہ کر رہا ہے اس کا مقصد عالمی برادری کی توجہ اپنی جانب سے ہٹا کر اپنے خود ساختہ الزامات کی جانب مبذول کرنا ہے ۔
امید کی جانی چاہیے کہ عالمی رائے عامہ اس صورتحال کا صحیح ادراک کرتے ہوئے خاطر خواہ اقدامات اٹھائے گی ۔ یہ توقع بھی بے جا نہ ہو گی کہ قومی میڈیا اور سول سوسائٹی کے سبھی طبقات اس حوالے سے اپنی اخلاقی اور ملی فریضہ احسن ڈھنگ سے انجام دیں گے ۔