- الإعلانات -

بائیو گیس پلانٹ لگوانے کے لئے تکنیکی امداد کی پیش کش

ejaz-ahmed

 کائنات میں اللہ تعالی نے ہر چیز کوایک خا ص نظام اور قاعدے میں بنایا ہے اور جو بھی خداوند لا عزال کی بنائی ہوئی چیزوں اور نظام میں بگا ڑ پیدا کرے گا ، اس سے بنی نو ع انسان کو نُقصان ہو گا۔ اللہ تعالی نے اگرایک طرف انسانوں کی تباہی اور بر بادی کے لئے مضر چیزیں پیداکی ہیں تو دوسری طرف اللہ تعالی نے انسانوں کی فلا ح و بہبود کے لئے اچھی اور کا ر آمد چیزیں بھی عنایت فر مائی ہیں، مگر بد قسمتی سے انسان اللہ تعالی کے نظام اور انکی بنی ہوئی چیزوں میں تبدیلی اور بگا ڑ لاتے ہیں جس سے ہمیں انتہائی نُقصان ہو تا ہے۔ ایک طر ف اگر کسی حد تک کا ربن ڈائی آکسائید انسان کی فلا ح و بہبود کے لئے اچھی چیز ہے ،جس سے درختوں پو دوں اور گھاس پوس کی نشوونما ہوتی ہے ،جو انسان و دیگر جا ندار کھاکر زندہ رہتے ہیں ،تو دوسری طرف اگر کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار ہمارے ارد گر د ما حول میں اپنی مقررہ حد سے زیادہ ہو جائے تو اس سے مختلف قسم کی بیماریاں اور ما حولیاتی مسائل جنم لیتے ہیں، جس میں دمہ، آنکھوں کی بیماری، سانس کی بیماریاں، مختلف قسم کی سکن اور دوسری الر جیز، درجہ حرارت کا بڑھ جانا، گلیشیر کا پگل جا نا، مختلف مو سمی تغیرات، وقت سے پہلے با رشوں اور سیلابوں کا آنا ، ہوا میں معلق مضر ذرات کا اضا فہ ہو نا شامل ہے۔ سائنس دان کہتے ہیں کہ درخت یا جنگلات کی کٹائی سے ما حول میںکا ربن دائی آکسائیڈ کی مقدار میں اضافہ اور آکسیجن کی مقدار میں کمی واقع ہو جاتی ہے جس سے ہم مختلف قسم کے امراض کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ہمارے ملک میں کھانے پکانے کے لئے ایندھن کی ضرورت ہو تی ہے نتیجتاً ہم در ختوں کو کا ٹ کر اپنی ایندھن کی ضروریات پو ری کر تے ہیں۔ما ہر ما حولیات کہتے ہیں کہ ایک کلو گرام لکڑی جلانے سے تقریباً ڈہائی کلو گرام کا ربن دائی آکسائیڈ خا رج ہو تی ہے۔ جو ہمارے ما حول اورہمارے لئے انتہائی خطر ناک ہے۔ اگر وطن عزیز میں جنگلات کی کٹائی کا یہ سلسلہ اسی طر ح رہا تو وہ دن دور نہیں جب ہمارے ارد گردما حول میںکا ربن دائی آکسائیڈ کے اضافے کی وجہ سے انسان کا جینا مشکل ہو جائے گا۔ ایک اندازے کے مطابق ہمارے ملک میں ایندھن کا فی خاندان خرچ 7 کلو گرام رو زانہ ہے اور ہم اپنی ایندھن کی 82 فی صد ضرورت لکڑیوں کے استعمال سے پو ری کر تے ہیں۔ ما ہر ما حو لیات کہتے ہیں کہ سال 1990ءسے لیکر سال 2010 ءتک پاکستان میں جنگلات کے رقبے میں 34فی صد کمی واقع ہو ئی۔ اگر کھانے پکانے اور ایندھن کی دوسری ضروریات کے لئے جنگلات کی کٹائی کا سلسلہ اسی طر ح جا ری رہا تو پاکستان میں جنگلات کا رقبہ جو 5 فی صد ہے مزید کم ہو کے رہ جائے گا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ عالمی معیار کے مطابق کسی ملک کی خو شگوار اور صحت مند آب و ہوا کے لئے جنگلات کا رقبہ21فی صد ہو نا چاہئے۔ جبکہ کئی ترقی یا فتہ ممالک میں جنگلات کی شرح 70 اور 80 کے درمیان ہے۔ما ہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ ایک ایکڑ درخت سالانہ 3 ٹن کا ربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کر تا ہے اور اسی تناسب سے آکسیجن چھو ڑتا ہے۔ایک طر ف اگر کا ربن ڈائی آکسائیڈ اگر ہمارے جسم اور ما حول کے لئے اچھی نہیں تو دوسری طر ف کا ربن ڈائی آکسائید ہمارے گلیشیرز کو بھی ختم کر تی ہے۔ ما ہر ما حولیات کے مطابق کا ربن ڈائی آکسائیڈ کی مقررہ حد سے زیادتی کی وجہ سے سالانہ 180 فٹ گلیشیر ز ختم ہو تے ہیں اور وہ وقت دور نہیں جب ہماری بے حسی اور نا لائقی کی وجہ سے ہمارے پہا ڑوں پر کوئی برف نہیں ہو گی اور ہم اپنے دریاﺅں سے محروم ہو جائیں گے۔ اسی طر ح ایک طر ف اگر ہم کھانے پینے کی چیزوں کے لئے لکڑیوں کا استعمال کر تے ہیں تو دوسری طرف ہم تیل کی درآمد پر سالانہ 12 ارب ڈالر کا زر مبا دلہ خرچ کرتے ہیں جو پاکستان جیسے ترقی پزیر ملک کے لئے ایک بُہت بڑا بو جھ ہے۔ ہمیں کو شش کر نی چاہئے کہ ہم ملک میں توانائی کے ایسے ذرائع استعمال کریں جس سے کا ربن دائی آکسائیڈ کاا خراج بھی کم ہو اور اسکے علاوہ ہم اپنے ملک میں تیل کے خریدنے پر زر مبادلہ بھی نہ خرچ کر نا پڑے۔ اللہ تعالی ہمارے ملک کو بے تحا شا وسائل سے مالا مال فر مایا ہے جس میں ہوا سے ، سورج ، کوئلے اور اپنی سے توانائی کا حصول شامل ہے، مگر اس میں سب سے اہم جا نوروں کے گو بر سے گیس بنانا شامل ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں اس وقت تقریباً 60 ملین جا نور پائے جاتے ہیں، جسکے گو بر پر لاکھوں بائیو گیس پلانٹ لگا کر تقریباً 70 فی صد گھریلو ایندھن کی ضروریات پو ری کی جا سکتی ہیں۔ پاکستان کو نسل آف رینی ویبل انرجی ٹیکنالوجیز، جو وزارت سائنس اور ٹیکنالوجی کا ما تخت ادارہ ہے وہ متبادل ذرائع توانائی اور خا ص طو ر پر بائیو گیس پلانٹ لگانے میں کا فی مہارت رکھتا ہے۔ ادارے کے ماہرین کے مطابق 5 مربع میٹربائیو گیس پلانٹ پر تقریبا70 اور80 ہزار روپے کے قریب خر چہ آتا ہے ۔ ایک فیملی سائز بائیو گیس پلانٹ ہمیں ماہانہ 100 لیٹر مٹی کا تیل یا با الفاظ دیگر 840کلو گرام لکڑیو ں کی بچت کر تا ہے۔ اوربائیو گیس پلانٹ کی تنصیب پر ہم جو خر چہ کرتے ہیں وہ ہم 6 مہینے بعد گیس کی شکل میں پو ری کر سکتے ہیں۔پاکستان کو نسل آف رینی ویبل انر جی ٹیکنالوجیز نے اپنے پہلے مر حلے میں2002-2007) ( 1606 بائیو گیس پلانٹ لگائے ہیںاور دوسرے مر حلے میں(2007-2012)تقریباً 2513 با ئیو گیس پلانٹ لگائے ہیں جو انتہائی کامیابی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ بد قسمتی سے وطن عزیز میں عا م طو ر پر لوگ جانوروں کے فضلے کو ضائع کرتے ہیں ۔ لہٰذاءکو شش کرنی چاہئے کہ ہم بائیو گیس بنائیں اور گو بر کو زیادہ سے زیادہ استعال کر کے اس سے فائدہ لیں۔اس کالم کی وساطت سے اُن تمام افراد، این جی اوز، اور رفاہ عامہ کے اداروں کو جو گھریلو اور صنعتی سطح پر توانائی کی ضروریات بائیو گیس سے پورا کرنے اور یا انکی ترویج چاہتے ہیں ۔وہ مزید معلومات کے لئے ادارہ ہذا سے رابطہ کرسکتے ہیں۔ یہ ادارہ ان ٹیکنالوجی کی فروع اور لگانے کے لئے بُہت کم اور معمولی معاوضے پر دلچسپی رکھنے والے افراد, این جی اوز اور رفا ع عامہ کے اداروں کی تکنیکی معاونت کرے گا۔اگر کسی کو بائیو گیس یا متبادل ذرائع توانائی مثلاً شمسی توانائی، ہوا سے توانائی ، سولر ککر، گیزرز ہوا سے بجلی سے متعلق کے بارے میں انفار میشن لینی ہو تومتعلقہ ادارے کی ویب سائٹ پررابطہ کرسکتے ہیں۔