- الإعلانات -

انسانی حقوق کی نام نہاد چمپئن۔ مغربی دنیا کی تسلیم شدہ چاپلوس

nasir-raza-kazmi

 ریڈیو پاکستان کے شعبہ  نیوز سے وابستہ ہمارے ایک دوست ہوا کرتے تھے نام تھا اُن کا ’واعظہ الدین ‘ زند گی بھر وہ ’ واعظو بھائی ‘ کے نام سے مشہور رہے، شعبہ  نیوز سے وہ بحیثیت ڈپٹی کنٹرولر ‘ ریٹائر د ہو ئے غالباً دو ڈھائی بر س قبل اُن کا انتقال ہوچکا ہے، کمال کی دوست نواز شخصیت‘ پاکستان کی سیاست اُن کی انگلیوں کی پُوروں ‘ پر تھی چلتے پھرتے پاکستانی تھے ‘ بڑے بڑے بنگلہ دیشی لیڈروں کی منٹوں سیکنڈوں میں ایسی تیسی کرنے میں اُن کی زبان اِس قدر تیزی تھی کہ الا امان الحفیظ ‘غرض یہ کہ سیاست پر اگر اُن سے کوئی بات چھڑ جائے تو سامنے والے کو ایک منٹ کے لئے بھی’ واعظو بھائی ‘ اپنا موقف بیان کرنے کی مہلت تک نہیں دیتے دوست اگر ناراض ہوں تو ہوتے رہیں دلائل پر دلائل کے انبار لگا کر فریق مخالف سے اپنی بات من وعن منوانے میں اگر کامیاب نہیں بھی ہوتے تو50% اُسے اپنا نظریاتی طرفدار ضرور بنالیتے تھے اب وہ تو دنیا میں نہیں رہے اُن کی باتیں رہ گئی ہیں ’ واعظو بھائی ‘ مرتے دم تک پاکستان کا دم بھرتے رہے برصغیر ‘ پھر تقسیم ِ ہند ‘ پاکستان اور بنگلہ دیش کی تاریخ پر اُن کے سامنے کوئی بات شروع کردی جائے تو اُن کی باتوں کی رمزیات کون تو کیا سنئے ؟اِن کی باتوں کے دھڑ دھر کے دوران جو سیاست وان آئے فوجی حکمران ہو یا پاکستان مخالف کوئی بیوروکریٹس ہو، مذہبی علماءہوں ‘وکلاء‘ ججز یا پھر زندگی کے کسی بھی شعبے کی کوئی شخصیت انسانی حقوق کی کوئی ایکٹوسٹ ہو یا کوئی ایکٹر کریکٹر ایکٹر’میل ‘ہو یا‘ فی میل ‘ ہمارے دوست صحافی ’ واعظو بھائی ‘ اُن کے ایسے ‘تاریخی‘ لتے لیتے کہ رہے نام سائیں کا‘ ایک بار ( چونکہ ہم عمر میں بھی اُن سے چھوٹے تھے، ریڈیوپاکستان میں اُن کا عہدہ ہم سے بڑ ا ’ جبکہ ہم ٹھہرے اسٹاف آرٹسٹ) ہمارا نام پکار کر اُنہوں نے ہمیں اپنے قریب بلا یا اور کہنے لگا ’ ہمیں معلوم ہے تم اپنے نام بدل کر اخبار میں کالم لکھتے ہو تم نہیں جانتے کہ یہ عاصمہ جہانگیر کون ہے جو اپنے آپ کو پاکستان کا سب سے بڑا ’ہیومن رائٹس کی’ ایکٹوسٹ‘ سمجھتی ہے ‘ اپنا تعلق صرف روب جمانے کے لئے اقوام ِ متحدہ کے ساتھ ملاتی ہے یہ کچھ بھی نہیں ہے یہ سب پاکستان کے دشمن نہیں بلکہ یہ اصل میں پاکستان کی فوج کے دشمن ہیں ‘ الغرض اُس روز واعظو بھائی سے بہت سی باتیں ہوئیں بات آ ئی گئی ہوگی آج وہ اِس دنیا میں نہیں مگر اُن کی کہی ہوئی بہت ساری باتیں ہمارے دماغ میں اتھل پتھل مچا ئے ہوئے ہیںواقعی پاکستان میں انسانی حقوق کی جدوجہد کرنے والوں میں اپنے آ پ کو واحد اور تنہا ’ایکٹیو سٹ‘ سمجھنے والی محترمہ عاصمہ جہانگیر صاحبہ جو کسی تعارف کی محتاج نہیں، جبکہ پاکستانی قوم کی ایک بڑی اکثریت جانتی ہے کہ یہ ’صاحبہ ‘ انسانی حقوق کی علمبرداری کا دعویٰ تو ضرورکرتی ہیں مگر اِن کا اصل کام ’پاکستانی فوج ‘ کو ہمہ وقت اپنے نشانے پر لیئے رکھنا ہے کہ کب کہاں فوج پر یہ ’صاحبہ‘ اپنے تیر وتبّر چلانے میں کوئی وقت ضائع نہ کرتی ہوں اِتنی لائق فائق ‘ اعلیٰ تعلیم یافےہ ‘ بیرسٹر‘ مختلف سول سوسائٹیوں کی فعال عہدیدار کے بارے میں تنقید ی مضمون لکھنے پر ہمیں اِن کی ایسی ہی حرکتوں نے مجبور کیا کوئی دن نہیں جاتا جب اِن صاحبہ کا نام کسی ارود انگریزی اخبار میں نہ چھپتا ہو یہ بھی شائد بہت سوں کی طرح ’ سستی شہرت پرستی ‘ کے فوبیا میں بُری طرح مبتلامعلوم ہوتی ہیں ایک زمانہ ہوگیا ہے اِن ’صاحبہ ‘ کو انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی میڈیا میں آوازیں بلند کرتے ہوئے کوئی اِن سے پوچھے کیا دنیا میں صرف پاکستانی فوج ہی وہ ایک اکیلی قوت ہے جو دنیا بھر میں انسانی حقوق کو کچلتی ہے ؟ عاصمہ جہانگیر صاحبہ! اپنی انسانی حقو ق تنظیم کو اقوام ِ متحدہ کی نمائندہ تنظیم ہونے کا زعم رکھنے والی ذرا یہ تو بتائیں بنگلہ دیش میں بھارت نواز جماعت عوامی لیگ کی وزیر اعظم کی طرف سے دی جانے والی پھانسیوں کی سزا کا سعودی عرب جیسے بڑے اہم اسلامی ملک سے موازانہ کرکے پاکستان کو’ مطعون‘ کرکے کیا اپنے ضمیر کو مطمئن سمجھتی ہیں ؟ کیا اُن کا ضمیر مطمئن ہے رو ہنگیا مسلمانوں کو جس بہیمانہ شدت پسندی کی اذیت ناکی سے لاکھوں کی تعداد میں شہید کردیا گیا آپ نے اِس پر کیا انسانی حقوق کا کیا کانامہ انجام دیا ؟ بنگلہ دیش میں لاکھوں مسلمانوں اندھیرے کیمپوں میں زندگی کی بنیادی سہولیات سے محروم بدترین ساعتوں سے گز ر رہے ہیں اُن کے بارے میں کسی نیکی یا خیر کاکام کوئی کام آپ نے سرانجام دیا؟ جہاں تک آپ کا یہ رونا ہے کہ پارلیمنٹ نے پاکستان سے دہشت گردی کا قلع قمع کرنے کے لئے جو آپریشن ضرب ِ عضب شروع کیا، سیاسی حکومت نے پارلیمنٹ سے نیشنل ایکشن پلان ایک ایکٹ کے طور متفقہ منظور کرایا جس کے تحت ملک میں فوجی عدالتیں قائم ہوئیں اگر اُنہیں اِس پر کوئی اعتراض ہے تو وہ حکومت کو براہ ِ راست تنقید کا نشانہ بنائیں مگر ایک سوال کا جواب خود اپنے ضمیر کو دے لیں کہ” یہ فوجی عدالتیں جن دہشت گردوں کو حکم ِ قرآن ِ پاک کی تعلیمات کے مطابق ’خون کا بدلہ خون ‘ جنہوں نے ایک دو کو نہیں بلکہ اجتماعی قتل ِ عام میں کیا ہو سینکڑوں مسلمانوں کو جن عورتیں اور بچے بھی شامل ہوں کیا اُن کی اِن انتہائی سزاو¿ں پر بھی اِن کا ضمیر مطمئن ہے امریکا دنیا بھر میں کھلے عام انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کررہا ہے گونتا موبے میں انسانوں کو جانوروں کی طرح پنجروں میں قید رکھا جاتا ہے وہاں انسانی حرمت و عظمت کی کھلے عام تذلیل ہورہی ہے اُن پر محترمہ اظہار ِ تاسف کیوں نہیں کرتیں امریکی کی ایسی حرکات کے خلاف وہ اپنے نام سے انگریزی اخبارات اور نامور جرائد میں مضامین کیوں نہیں لکھتیں ؟ بھارت یقینا نجانے کیوں اِس ’کیوں ‘ کا جواب وہ خود جانتی ہونگی وہ بھارت جائیں وہاں آجکل انسانی حقوق کی خلاف وزریوں کے ایک دو سلسلے نہیں بھارت میں دیش میں انسان کو صرف مسلمان ہونے کی سزائیں دی جارہی ہیں مسلمانوں سے کہا جارہا ہے کہ ’بھارت میں رہنا ہے تو ہندو بن کر رہنا ہوگا ‘ بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ دیگر اقلیتوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر پورے دیش میں ایسی عظیم انشان انسانی ہمدردیوں کی نئی تاریخ مرتب ہوچکی ہے ’دنیاوی مطلب پرست ‘ انسانی حقوق کی ایکٹوسٹس کو زیادہ سنجیدگی سے بھارت کے اندرونی حالات پر اپنے ضمیروں کا از سر نو جائزہ لینا پڑے گا ،پاکستانی مسلمانوں کے خلاف ٹارگٹ کرکے محترمہ عاصمہ صاحبہ بلاوجہ جمہوری حکومت کی آئینی اتھارٹی کو چیلنج نہ کریں ویسے زندگی بھر اُنہوں نے کراچی میں ایم کیو ایم کی طرز ِ سیاست کو ہمہ وقت تنقید کا نشانہ بنائے رکھا مگر الطاف حسین نے جب افواج ِ پاکستان پر حد سے گری ہوئی زبان استعمال کی تو اُن کی وکالت کی ذمہ داری عاصمہ جہانگیر نے فوراً اپنے ذمہ لے لی اِ سے اُن کا فوج کے خلاف دلی بغض وعناد اور کھل کر سامنے آگیا ہاں یاد رہے یہ صاحبہ صرف فوج کے خلاف ہی نہیں بلکہ بعض اوقات یہ ’جنابہ‘ ہر ایسے پھڈے میں فوراً کود پڑتیں ہیں جس معاملے کو مغربی میڈیا زیادہ کوریج دہتے ہیں مثلا جیسے جہلم میں ایک ایسا واقعہ رونما ہوا جس کی تفصیلات میں ہم جانا نہیں چاہتے زیادہ کیا کہیں مغر بی ممالک کی ’ہمہ وقت کی چاپلوسی کرنے سے ایک عاصمہ جہانگیر کیا چاپلوسی کرنے والوں کا ایک جہاں جمع ہوکر آجائے ایک مضبوط نظریاتی ریاست کی جڑوں سے وہ اپنا سر ٹکرا ٹکرا کر تباہ ہوجائے گا نظریاتی ریاسے اپنی جگہ قائم رہے گی یاد ہے کہ یہ کالم Double standard hangings alleged کے عنوان سے لکھے گئے24 نومبر2015 کے انگریزی اخبار روزنامہ ڈان کے ایک کالم کے جواب میں تحریرکیا گیا ہے۔