- الإعلانات -

حسینہ واجد حکومت ہوش کے ناخن لے

syed-rasool-tagovi

دسمبر پاکستان کی تاریخ میں ایک کرب کا مہینہ ہے۔ 44 برس قبل دشمن نے پاکستان کے مغربی بازو کو کاٹنے کی سازش کی تو گزشتہ برس اسی دن آرمی پبلک سکول کے معصوم بچوں پرحملہ کرکے ثابت کیا کہ اسے تقسیم ہند کا کرب چین سے بیٹھنے نہیں دیتا۔ 44 برس قبل اس نے مکتی باہنی کے روپ میں پاکستان کے مشرقی بازو کو کاٹنے کی سازش کی تو آج وہ کہیں ٹی ٹی پی تو کہیں بی ایل اے کے روپ میں سانپ بن کر وطن عزیز کے دامن کو ڈس رہا ہے، مگر صد شکر کہ اس کے سلامتی کے ضامن ادارے جاگ چکے ہیں اور ان سانپوں کے سر کچلے جارہے ہیں۔ 71ء میں اگر مکتی باہنی کے سرپرستوں کو کامیابی ملی تو یہ حالات کا جبر تھا مگر اب ایسا نہیں ہے۔ سقوط ڈھاکہ پاکستان کیلئے ایک گہرا گھاﺅ اورقومی تاریخ کا ایک المناک باب بھی مگر پاکستان نے خطے کے بہتر مستقبل کیلئے اتنے گہرے زخم کوبھی رواداری کے ساتھ برداشت کرتے ہوئے بنگلہ دیش کو ایک برادر ملک کی حیثیت سے صدق دل کے ساتھ قبول کرلیا۔ یہ فروری 1974ءکا موقع تھا جب اسلامی سربراہی کانفرنس لاہور میں پاکستان نے بنگلہ دیش کو باضابطہ طورپر تسلیم کرلیا۔ صرف یہی نہیں بلکہ اپنے بچھڑے بھائی کو بھرپور طریقے سے خوش آمدید کہا۔ تب دوماہ بعد دونوں ممالک میں طے پایا تھا کہ 1971ء کے سانحے سے جڑے جنگی جرائم کے حوالے سے کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔ یہ محض رسمی بات نہیں تھی بلکہ اپریل 1974ءمیں دہلی میںہونے والے سہ فریقی یعنی پاکستان بھارت اور بنگلہ دیش کے مابین معاہدہ ہوا تھا۔یہ معاہدہ کچھ عرصہ تو چلا مگر پھر بنگلہ دیش کی طرف سے اس کی خلاف ورزی کا سلسلہ شروع ہوگیا۔شیخ مجیب الرحمن کی دختر شیخ حسینہ واجد جب 2008ءمیں اقتدار میں آئیں تو انہوں نے پہلا کام معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وار کرائم ٹریبونل کا احیاءاور اپنے والد بزرگوار شیخ مجیب الرحمن کے معاہدے کی دھجیاں اڑتے ہوئے جنگی جرائم کی آڑ میں پاکستان سے وفاداری کی بات کرنے والے سیاسی لیڈروں کو نشانہ بنانے کا اعلان کردیا۔ پاکستان سے بُغض اور بھارت کی کاسہ لیسی کیلئے ڈریکولا صفت خاتون وزیراعظم محترمہ شیخ حسینہ واجدصاحبہ اب تک چار ایسے بنگالی لیڈروں کا خون پی چکی ہیں جو بھارتی ریشہ دوانیوں کو سمجھ چکے تھے اور نہیںچاہتے تھے کہ وہ الگ ہوں۔یہ نیک جرم بھارت کو ہضم نہیںہورہا تھا چنانچہ جب اس کی کٹھ پتلی حسینہ کو اقتدار اور اختیار ملا تو انہوں نے اپنا خبث باطن ازخود ہی طشت ازبام کردیا۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد پاکستان اگر چاہتا تو بنگلہ دیش کےساتھ وہی معاندانہ رویہ اختیار کرسکتا تھا جوبھارت نے تقسیم ہند کے دکھ میں پاکستان کے ساتھ گزشتہ 68 برس سے اختیار کررکھا ہے مگر پاکستان نے ایسا نہیں کیا بلکہ ماضی بھلاکر مستقبل کیلئے اسے ہمیشہ سینے سے لگانے کی کوشش کی۔ پاکستان کی تمام تر مخلصانہ کوششیں کرنے کے باوجود بنگلہ دیشی قیادت کی سوئی اس بات پر اٹکی رہتی ہے کہ پاکستان 1971ءکے خونی واقعات پرمعافی مانگے۔یہ وہ مطالبہ ہے جو بھرے زخموں کو کریدیتا ہے۔ پاکستان کا یہی موقف رہا ہے بنگلہ دیش میں وقوع پذیر خون آشام واقعات کی ذمہ دار مکتی باہنی ہے جسکی سرپرستی بھارت کررہا تھا ۔پاکستان کے اس موقف کی تصدیق تو خود بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے محترمہ حسینہ واجد صاحبہ کے پہلو میں کھڑے ہوکر گزشتہ برس یہ کہہ کر کردی تھی کہ بنگلہ دیش کی آزادی میں ان کا بھی حصہ ہے۔ مودی کا یہ اقبال جرم جہاں بنگلہ دیش کونام نہاد آزادی دلانے والے ہیرو شیخ مجیب الرحمن کی بیٹی حسینہ واجد کے منہ پر تھپڑ ہے تو وہاں یو این کے آرٹیکل 4 کی خلاف ورزی بھی کہ اس نے متحدہ پاکستان میںسازش کے ذریعے مداخلت کی۔بنگلہ دیش پاکستان سے تو مطالبہ کرتا ہے کہ وہ 71ءکے واقعات کی معافی مانگے مگر نریندر مودی کے اعتراف اور اقرارکے باوجود بھارت سے سوال تک نہیں اٹھایا اور نہ ہی مذمت کی گئی کہ معصوم بنگلہ دیشیوں کی نسل کشی کرنے والی مکتی باہنی کی سرپرستی کیوں کی گئی۔ وہاں تو الٹا انہیں فرینڈز آف بنگلہ دیش ایوارڈ سے نوازا گیا، یہ معاندانہ رویہ ہی ہے جودونوں ممالک کو ایک دوسرے کے قریب نہیں آنے دے رہا۔ پاکستان کی بنگلہ دیش کی طرف مفاہمتی پالیسی کی خواہش کو کمزوری سمجھنا کٹھ پتلی ذہنیت کی واضح عکاس ہے۔ ورنہ تو اگست 2002 میںجنرل مشرف کے دورہ بنگلہ دیش کے وقت ہی غلط فہمی دورہوجاتیں ۔ حسینہ واجد صاحبہ ڈھاکہ کے نواح میں قائم شہدا کی یادگار پر رکھی وزٹر بک کا مطالعہ کرلیں کہ جنرل مشرف نے کس طرح نیک تمناﺅں اور خواہشات کا اظہار کیا تھا۔ جنرل مشرف نے لکھا تھا کہ آپکے پاکستانی بہن بھائی 1971ءکے واقعات کے دکھ میں آپکے ساتھ شریک ہیں۔اس پر آشوب دور میں ہونے والی زیادتیاں قابل افسوس ہیں۔ آئیے اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ماضی کودفن کردیںاور کوشش کریںکہ وہ ہمارے مستقبل کو دھندلا نہ پائے“۔جنرل (ر) مشرف جو اس وقت صدر بھی تھے اور آرمی چیف بھی کھلے دل سے ماضی کو بھلا کر مستقبل کی بات کررہے تھے مگر اسے بھی درخور اعتنا نہ جانا گیا اوربھارتی زبان میں ” میں نہ مانوں“ پر اڑرہا۔حسینہ واجد حکومت نے جس طرح بنگلہ دیش کو بھارتی حکمرانوں کی مرضی اور منشاء کے رحم و کرم پرچھوڑ رکھا ہے وہ بنگلہ دیشی عوام کے مستقبل کےلئے خوفناک اور بھیانک نتائج لئے ہوئے ہے۔ اب یہ بنگلہ دیشی عوام پر منحصر ہے کہ وہ کب تک حسینہ واجد حکومت کوبرداشت کرتے ہیں۔حسینہ حکومت حقائق سے نظریںچرانے کی عادی ہے۔ اسے یہ سمجھ نہیں آتی کہ جب جنگیں ہوتی ہیں تو پھر بہت کچھ اجڑ جاتا ہے اور پھرجب آپ کی جنگ سے کوئی دوسرا ملک فائدہ اٹھارہا ہو تو پھروہ یہ نہیںدیکھتا کہ کون اسکی زد میں آرہا ہے۔یہی کچھ بنگال کی علیحدگی کے وقت ہوا۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ بنگالی عوام اپنے حکمرانوں کے ذاتی اورسیاسی مفادات کی بھینٹ نہ چڑھیں اپنے اندر گھسے بہروپیوں کوپہچانیں جو یہ کہتے ہیں کہ بنگلہ دیش کی آزادی میں ان کے ساتھ کھڑے تھے۔