- الإعلانات -

انسانی سمگلنگ….قصوروار کون؟

khalid

گزشتہ دنوں ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر بہت گردش کرتی رہی اور ہمارے اکثر ٹی وی چینلز نے بھی بارہا دکھائی، جس میں ایک پاکستانی نوجوان کو یورپی بارڈر پر روتا ہوا دکھایا گیا ہے، جو ”بہتر مستقبل“ کے لیے غیرقانونی طریقے سے یورپ جا رہا تھا۔ توجہ اس نوجوان کے رونے دھونے نے نہیں کھینچی۔ توجہ حاصل کی اس بدبخت شخص کے ساتھ موجود اس کے معصوم بیٹے نے۔ یہ نوجوان اکیلا نہ تھا،اپنے 5، 6 سالہ بچے کو بھی ساتھ لے گیا تھا، شاید اہلخانہ بھی ہمراہ ہوں۔ شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے اس کم ہمت اور کاہل شخص کے لیے، کہ جب یہ خود مصائب سے گھبرا کر رونے لگا تو اس کا معصوم بیٹا اس کے چہرے پر ہاتھ پھیر کر اس کو دلاسہ دے رہا تھا۔ اس عمر کے بچے باپ کی بانہوں کو پناہ گاہ سمجھتے ہیں، کوئی خطرہ ہو تو دوڑ کر باپ کی طرف جاتے ہیں۔ مگر ایک یہ کم بخت شخص تھا کہ اپنے ہی معصوم بیٹے کے دلاسے کا مستحق قرار پایا تھا۔ آنکھیں نم ہو گئیں یہ منظر دیکھ کر۔ہمارے ہاں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو آنکھوں میں سنہرے مستقبل کے خواب سجائے کسی مغربی ملک سدھارنے کی جدوجہد میں لگے ہوئے ہیں، وہاں پہنچنے کا طریقہ جائز ہو یا ناجائز، اس سے انہیں کوئی سروکار نہیں۔شوق سے جائیں اور مزے سے ذلیل و خوار ہوں مگر کیا ضروری ہے کہ اپنے ساتھ اپنے اہلخانہ اور معصوم بچوں کو بھی رسوا کریں؟ یہ تو حقیقت ہے کہ جو شخص یہاں کچھ نہیں کر سکتا وہ سمندر پار بھی کچھ نہیں کر سکے گا، جو یہاں صفر ہے وہ وہاں بھی صفر ہی ہو گا۔ مگر آپ کو اپنے آپ پر رحم نہیں آتا تو شوق سے اپنا یورپ جانے کا شوق پورا کریں مگر اپنے معصوم بچوں پر تو رحم کریں۔ انہیں یہیں ماں کے پاس، دادا دادی کے پاس یا نانا نانی کے پاس چھوڑ جائیں اور جب یورپ پہنچتے ہی آپ پر ڈالروں کی بارش ہونے لگے، آپ جاتے ہی کسی عالیشان گھر کے مالک بن جائیں اور دو چار لگژری گاڑیاں آپ کے ہاتھ آ جائیں تو پھر اپنے بچوں کو بھی کسی جائز طریقے سے وہاں بلوا لیجیے گا۔آپ کے یورپ پہنچنے کے ایک مہینے کے اندر ہی تو آپ کے پاس اتنی رقم آ جانی ہے کہ آپ پورا پنجاب خرید سکیں گے، پھر آپ کے لیے اپنے بچوں کے ویزے لینا کون سا مشکل کام ہو گا؟خدا کے لیے خود مریں لیکن اپنے معصوموں پر رحم کھائیں۔ہم ہمیشہ ایسے واقعات کا موردالزام انسانی سمگلروں کو ٹھہراتے ہیں، مگر کیا انسانی سمگلر کسی کو گھر آ کر زبردستی لے کر جاتے ہیں…. کہ بھائی چلو آپ کے بغیر یورپ والوں کی پوری نہیں پڑ رہی؟پہلا مجرم وہ شخص خود ہے جو ان انسانی سمگلروں کے پاس جاتا ہے اور انہیں باہر جانے کے شوق میں بھاری رقوم دیتا ہے۔ایسے لوگوں میں اکثریت ان لوگوں کی ہوتی ہے جو ماں کا زیور اور بہن کے جہیز کے لیے جمع کردہ باپ کی جمع پونجی لٹانے ان سمگلروں کے پاس آتے ہیں۔شور برپا ہے کہ پاکستان میں بیروزگاری ہے، اس لیے لوگ باہر کا رخ کرتے ہیں، مگر میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس میں اگر کوئی شخص کام کرنے والا ہو تو کبھی بھوکا نہیں مر سکتا۔ چھوٹے موٹے سینکڑوں کام ایسے ہیں جو چند ہزار روپے سے شروع کیے جا سکتے ہیں اور ان سے اچھی خاصی آمدنی ہو سکتی ہے، کسی بھی نوکری پیشہ شخص کی تنخواہ سے زیادہ۔ مگر وہ پیشوں کو یہ ماں کا زیور اور بہن کا جہیز بیچ کر باہر جانے والے اپنے شایانِ شان نہیں سمجھتے۔ لیکن اگر ان میں سے کوئی خوش قسمت یورپ پہنچ جائے تو وہاں پٹرول پمپوں اور سروس سٹیشنوں پر گاڑیاں بھی صاف کر لیتے ہیں، وہاں پہنچ کر دنیا کا ہر گھٹیا ترین کام ان کے شایانِ شان ہو جاتا ہے۔انسانی سمگلروں کی ہم بات ہی کیوں کریں کہ وہ تو انسان ہی نہیں، اب کسی درندے سے آپ کیا توقع کر سکتے ہیں۔ یہ تو ایسے نیچ ہیں کہ حج اور عمرے کے نام پر خواتین کو جنسی دھندے کے لیے سعودی عرب بھیج رہے ہیں، گزشتہ دنوں ہی یہ انکشاف ہو چکا ہے۔کوئی جیے یا مرے، ان کی بلا سے۔ہم اگر اپنے آپ کو درست کر لیں تو پھر یہ کسے سمگل کریں گے؟کہاوت مشہور ہے کہ ”محنتی شخص کے لیے پہاڑ بھی کنکر ہوتا ہے اور کاہل کے لیے کنکر بھی پہاڑ۔“اور یقین کیجیے یہ کہاوت جتنی یہاں صادق آتی ہے اتنی ہی یورپ میں بھی آتی ہے۔ مرزااسد اللہ خاں غالب کا واقعہ یاد آ رہا ہے، کیا سبق آموز بات کہی انہوں نے، اگر کوئی سبق سیکھ سکے تو۔ ایک بار مرزا غالب کے ایک شاگرد ان کے پاس آئے اور کہا کہ ”حضور یہاں دلی میں روزگار نہیں ملتا، میں کسی دوسرے شہر جا رہا ہوں۔“ مرزا گویا ہوئے ”اچھا صاحب! جاﺅ مگر وہاں کے خدا کو میرا سلام کہنا۔“ شاگرد حیرت سے بولاکہ ”استاذِ من! کیا وہاں کا خدا کوئی اور ہے؟“ مرزا صاحب بولے کہ ”اگر وہاں اور یہاں کا خدا ایک ہے تو یہیں بیٹھ رہو، خدا تمہیں یہاں بھی رزق دے گا۔“