- الإعلانات -

داعش کاآر ایس ایس سے الحاق کا امکان

syed-rasool-tagovi

یہ تاریخی حقیقت ہے کہ بنیاد پرست ،فرقہ پرست اور شدت پسند ہندو طالبان تنظیموں برہموسماج ، آریا سماج، ہندو مہاسبھا اور آر ایس ایس کے منظرعام پرآنے اورمتعصب ہندورہنماﺅں کی جانب سے ہندو دھرم کو ماضی کے ویدک دور سے جوڑنے کے باعث ہندوستان کے سیاسی ماحول میں فرقہ پرستی اورشدت پسندی کا زہر برسوں قبل ہی گھول دیا گیا تھا۔1827ءمیں راجہ رام موہن رائے نے برہمو سماج نامی تنظیم قائم کی،دیانند سرسوتی نے1875ءمیں آریا سماج قائم کی اورنعرہ لگایا ہندوستان صرف ہندوﺅں کا ہے۔1921ءمیں ہندو مہاسبھا قائم ہوئی راشٹریہ سوامی سیوک سنگھ(آر ایس ایس) کی داغ بیل انتہاپسند لیڈر ڈاکٹر کے بی ہیڈ گیور نے1930ءمیں ڈالی۔ اس تنظیم کاشمار پہلے دن سے ہی دہشت گرد تنظیم کے طورپر ہوتا آرہاہے ۔تقسیم ہند سے قبل آر ایس ایس ایک خفیہ تنظیم کے طورپر ہٹلر اور مسیولینی کے فاشسٹ اصولوں پرقائم ہوئی تھی، مگربعدازاں مسلمانوں کیخلاف کھل کرمیدان میںآگئی۔مسلمانوں کیخلاف ان کی زہریلی سوچ کااندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے گاندھی جی کو اس لئے قتل کروا دیا کہ وہ مسلمان اور اچھوتوں کے ساتھ ظالمانہ رویے کیخلاف تھے صرف اسی پراکتفاءنہ کیا گیا بلکہ اس کام کو مزید منظم انداز میں آگے بڑھانے کیلئے تمام دہشت گرد تنظیموں نے ملکر سنگھ پریوارکی بنیاد رکھی اورہندووئیت کو” ہندوتوا“کے فلسفے کا نام دے کر مسلمانوں اور دیگراقلیتوں کیخلاف قتل غارت گری کو اپنامقصد حیات بنالیا۔ اسی مقصد حیات کے طفیل ہی آج مودی کا دور اقتدار انتہاپسندی کابدترین دورثابت ہوا ہے۔نام نہاد سیکولر بھارت میںانتہاپسند ہندو طالبان کو مکمل چھوٹ ہے چاہے وہ سرعام قتل وغارت گری کریں یا پھر کسی کاجینا حرام کردیں۔ حالیہ دنوں میں رونما ہونیوالے واقعات نے ثابت کیا ہے کہ بھارت جو سیکولر ازم کی راہ پر نکلاتھا ہندو توا کے نرغے میں آچکا ہے ۔ شیوسینا اور آر ایس ایس کاراج ہے انکی دہشت گردی پرکسی کو جرات نہیںکہ وہ انکے سامنے آواز بلند کر سکے۔ آرایس ایس کے بارے میں صرف بھارت سے باہر ہی یہ رائے نہیںکہ وہ دہشت گرد ہے بلکہ خود بھارت کے اندر بھی یہی رائے ہے۔بھارتی ریاست مہاراشٹر کے سابق انسپکٹر جنرل پولیس ایس ایم مشرف نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ”حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی اہم نظریاتی انتہا پسند تنظیم راشٹریہ سوامی سیوک سنگھ آر ایس ایس بھارت کی سب سے بڑی دہشت گرد جماعت ہے۔اسکے کارکن دہشت گردی کے تیرہ ایسے واقعات میں مجرم قرارپائے جن میں دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا تھا، انکا کہنا تھا کہ ایسے واقعات میں اگر انتہا پسند تنظیم بجرنگ دل کو بھی شامل کر لیا جائے تو دہشت گردی کے ان واقعات کی تعداد17ہو جاتی ہے۔ بھارتی پولیس افسر نے2007ءمیں حیدر آباد کی مکہ مسجد میں ہونے والے بم دھماکے،2006 اور2008ءمیں مالے گاوں میں ہونےوالے بم دھماکوں اور 2007ءمیں سمجھوتہ ایکسپریس بم دھماکوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ٓار ایس ایس بھارت کی سب سے بڑی دہشت گرد جماعت ہے۔“ اسی طرح کے انکشافات تقریباً دوسال قبل بھارتی وزارت داخلہ کے ایک افسر نے بھی کئے تھے۔وزارتِ داخلہ کے سابق انڈر سیکریٹری آر وی ایس منی نے یہ انکشاف کرکے کھلبلی مچادی تھی کہ پارلیمنٹ اور ممبئی پر حملے خود حکومت نے کرائے تھے اور ایسا کرنے کا بنیادی مقصد انسدادِ دہشت گردی سے متعلق قوانین کو مزید سخت کرنا تھا۔ عشرت جہاں انکاو¿نٹر کیس کے تفتیشی افسر اور وزارتِ داخلہ کے دو بیاناتِ حلفی پر دستخط کرنے والے آر وی ایس منی نے عدالت میں جمع کرائے جانے والے ایک بیانِ حلفی میں انکشاف کیا تھا کہ سی بی آئی اور ایس آئی ٹی کی مشترکہ ٹیم کے رکن ستیش ورما نے انہیں بتایا تھا کہ2001میںپارلیمنٹ ہاو¿س اور 2008 میں ممبئی میں ہونے والے حملے بھارتی حکومت کی سازش کا نتیجہ تھے۔ ان حملوں کا مقصد انسدادِ دہشت گردی کے قوانین میں ترامیم کرکے انہیں مزید سخت کرنا تھالیکن بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کے بعد بھارت نے پاکستان سے ملحق سرحد پر فوج لگاکر جنگ کا ماحول پیدا کردیا گیا تھا۔ مقبوضہ کشمیر کے افضل گورو کو عدم ثبوت کے باوجود اس کیس میں پھانسی دے دی گئی۔ 2008 کے ممبئی حملوں کے الزام میں اجمل قصاب کو پھانسی دی گئی۔ ممبئی حملوں کا الزام پاکستان پر عائد کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ منصوبہ بندی پاکستان میں کی گئی اور حملہ آور بھی پاکستان ہی سے آئے تھے۔ اس طرح کے لغو الزام تراشی بھارت کا ہمیشہ وطیرہ رہا ہے۔ پاکستان تو اس حقیقت سے اچھی طرح آگاہ ہے لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ بین الاقوامی سطح پر اس بات کا نوٹس نہیں لیا جاتا کہ بھارت اس طرح کا اشتعال انگیز ماحول پیداکرکے جنوبی ایشیاءکا امن داﺅ پرلگانے کی حرکتیں کیوں کرتا ہے۔ اگر مذکورہ دونوں رپورٹوں کا جائزہ لیا جائے تو اس مطالبے میں وزن محسوس ہوتا ہے کہ یو این او بھارت کی سنگھ پریوار کی تمام تنظیموںکو دہشت گرد تنظیم ڈکلیئر کرکے پابندی عائد کرے خصوصاً آر ایس ایس اور شیوسینا کو کالعدم قرار دینا ضروری ہوگیا ہے۔ اگراقوام متحدہ ایسا نہیں کرتی تو پھر داعش کو بھارت میںگھسنے میں سہولت رہے گی۔ داعش ایسے علاقوں میں وائرس کی طرح جڑیںپکڑتی ہے جہاں پہلے ہی انتہا پسند اورپرتشدد ذہنیت کارفرما ہو۔ بھارتی وزیر مملکت برائے داخلہ کیرن رجیجو کا ایک بیان گزشتہ ہفتے منظر عام پر آچکا ہے کہ بھارت میںداعش موجود ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ بھارت کی جنوبی ریاستوں میں اس کے پھیلنے کے خطرات موجود ہیں۔ اس سے پہلے کہ داعش عرب خطے کے بعد جنوبی ایشیاءکا رخ کرے بھارت میں پائی جانے والی دہشت گرد تنظیموں کوکالعدم قرار دیاجائے۔یہ اطلاعات بھی ہیں کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی ”را“ اور مودی کے سیکورٹی ایڈوائزر اجیت دوول داعش سے خفیہ مراسم قائم کرنے میں مصروف ہیں تاکہ اسے خطے میںبھارت مخالف ممالک کےخلاف استعمال کیاجاسکے جیسے افغانستان میں ٹی ٹی پی اوردیگرکالعدم تنظیموں کی سرپرستی کرکے پاکستان کے خلاف استعمال کروایا جا رہا ہے۔