- الإعلانات -

قربانی تودینا ہی پڑے گی

uzair-column

کراچی کی صورتحال پر وفاق نے واضح طور پر بتا دیا ہے کہ کراچی میں امن وامان کے قیام کے حوالے سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا۔اس حوالے سے سیاسی اورعسکری قیادت قطعی طور پر متفق ہے ۔وزیراعظم نے واضح کردیا ہے کہ آپریشن کے باعث امن وامان بحال ہوا ،بھتہ خوری اورٹارگٹ کلنگ میں نمایاں کمی آئی ہے ۔کراچی میں کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہورہا ہے ۔دہشتگرد عناصر کو دوبارہ سر اٹھانے سے روکنے کیلئے موثر اقدامات پر توجہ دینا ہوگی ۔کراچی میں رینجرز کے اختیارات کے حوالے سے بھی وزیراعلیٰ سندھ نے یقین دہانی کرا دی ہے جبکہ خبر یہ بھی ہے کہ چار ماہ کیلئے اختیارات میں اضافہ کردیا گیا ہے ۔عسکری قیادت نے بھی کہا ہے کہ آپریشن کا جو عمل جاری کیا گیاہے اس کو کسی صورت واپس نہیںلیا جاسکتا ۔یہ ایک غیرسیاسی آپریشن ہے اور دہشتگردوں کے سہولت کاروں کیخلاف کیا جارہا ہے البتہ یہ بات ضرور سمجھ سے بالاتر ہے کہ جب ایک بات طے شدہ ہے کہ امن وامان ہر صورت قائم رکھنا ہے تو ہر تین چار ماہ بعد یہ اختیارات کامسئلہ کیوں آن کھڑا ہوتاہے ۔یہ بات بھی اہمیت کی حامل ہے کہ آپریشن کو کراچی اورسندھ سے نکل کر ملک کے دوسرے علاقوں تک پھیلانے کی ضرورت ہے کیونکہ دہشتگرد اوردہشتگردوں کے سہولت کار ملک کے دیگر صوبوں میں بھی موجود ہونگے اور ان کی گرفتاریاں بھی انتہائی ضروری ہیں ۔شاید اس اقدام کے اٹھانے کے بعد پھر رینجرز کے اختیارات میں توسیع کا مسئلہ درپیش نہ آئے کیونکہ یہ تاثر بھی جنم لے رہا ہے کہ آپریشن صرف کراچی اورسندھ میں ہی کیوں ؟ گو کہ وہاں پر دہشتگردی کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں ،ٹارگٹ کلنگ بھی زیادہ ہے ،اغواءبرائے تاوان کی وارداتیں بھی ہورہی ہیں،کراچی جو کبھی روشنیوں کا شہر تھا وہاں پر انسانی خون ارزاں ہوگیا تھا لیکن اب وزیراعظم کی بہترین کاوشوں اورعسکری قیادت کی بہترین صلاحیتوں کے باعث شہر قائد میں رونقیں واپس آرہی ہیں تو اس سلسلے میں سب کا تعاون کرنا انتہائی ضروری ہے ۔یہ بات تو کراچی آپریشن کے حوالے سے ہورہی تھی ،اب ملک کے اندر کچھ اوربھی دیگر اہم مسائل اس وقت زیر بحث ہیں جن میں سب سے اہم مسئلہ پی آئی اے کی نجکاری ہے ،اس نجکاری کے حوالے سے اپوزیشن نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ اگر یہ فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو وہ قومی اسمبلی سے روزانہ واک آﺅٹ کریں گے ۔نجکاری کرنے کی وجوہات کو سامنے لایا جائے اگر اسی طرح حکومت نجکاری کرتی رہی تو کل کوئی بھی ادارہ نہیں بچ سکے گا ۔تاہم وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے کی کارکردگی بہترین بنانے کیلئے قانون سازی کررہے ہیں ،قومی ائیرلائن کو منافع بخش قومی ادارہ بنانا چاہتے ہیں ،نئے آرڈیننس میں ملازمین کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے ۔پی آئی اے ملازمین کے حقوق کسی صورت سلب نہی ہونگے اور نہ ہی پی آئی اے کی نجکاری کی جارہی ہے ۔چیئرمین پی آئی اے نے تمام یونین کے عہدیداروں کو کل طلب کرلیا ہے تاکہ اس صورتحال پر قابو پایا جاسکے ۔دوسری جانب ایک اورصورتحال بڑی گھمبیر صورت اختیار کرتی جارہی ہے ،ڈاکٹر عاصم جو اس وقت مختلف الزامات کے تحت زیرحراست ہیں وہ جب عدالت میں پیش ہوئے تو گویا کہ پھٹ ہی پڑے انہوں نے کہا کہ گناہ کسی کا ہے اور پکڑا مجھے جارہا ہے ،مجھے اس طرح ذلیل نہ کیا جائے اگر مارنا ہے تو مجھے مار دیا جائے ۔میرے ہی ہسپتال میں مجھے ہتھکڑیاں لگا کر لایا گیا،میری بیوی کینسر کی مریضہ ہے وہ کچہریوں کے چکر کاٹ رہی ہے ،والدہ میری انتہائی بزرگ ہیں جومجھ سے ملاقات کیلئے تڑپ رہی ہیں گو کہ اگر سوچ بھی لیا جائے کہ ڈاکٹر عاصم کی یہ باتیں درست ہیں تو یہ تو اس وقت سوچنے کی بات تھی جب یہ سارے کام ہورہے تھے یا پھر کیے جارہے تھے ۔اس وقت کیوں نہیں ان کے آگے حد بندی کی گئی ۔آج جو تحقیقات کے دوران یہ بتارہے ہیں کہ غلطی کسی کی ہے پکڑا مجھے جارہا ہے تو واضح طور پر کیوں نہیں بتا دیتے کہ آخر غلطی کس شخصیت کی ہے ۔تاکہ وہ پابند سلاسل ہو انہی غلطیوں کے خاتمے کیلئے اس وقت پاکستان میں انتہائی اہم اقدامات اٹھائے جارہے ہیں ۔عمران فاروق قتل کے حوالے سے دیکھا جائے تو بہت اہم پیشرفت کی جارہی ہے ،ان ملزمان نے بھی اہم انکشافات کیے ہیں ،عدالت نے ان کو سات روزہ جسمانی ریمانڈ پر دیدیا ہے ۔امکانات یہ ہیں کہ کچھ ایسی شخصیات پرعنقریب ہاتھ ڈال دیا جائے گا جس کے بعد بہت سے حالات درست ہونا شروع ہوجائیں گے ۔گذشتہ روز اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا تھا کہ چند ایک بڑے سیاستدانوں کے پکڑنے سے حالات درست نہیں ہوتے ہم یہ کہیں گے کہ چند ایک ہوتے ہی ہوتے بہت سارے ہوجائیں گے ۔آخر کار کرپشن کو ختم تو کرنا ہے ،سہولت کاروں کی گردن گرفت میں لانی ہے ،دہشتگردوں کو انجام تک پہنچانا ہے ،ملک میں امن وامان قائم کرنا ہے ۔اس سب کیلئے قربانی تو دینا ہی پڑے گی ۔