- الإعلانات -

نیب کی غیر تسلی بخش کارکردگی !

riaz-ahmed

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں کرپٹ ممالک کی فہرست میں پاکستان کی پوزیشن میں دس درجے کمی خوش آئند ہے۔ حکومت اور نیب کی طرف سے اس رپورٹ کو ایک کامیابی قرار دیاجارہا ہے۔ کرپشن کے عالمی دن کے موقع پر جہاں پاکستان میں کرپشن کی تحقیقات کرنے والا سب سے بڑاادارہ قومی احتساب بیورو(نیب) پاکستان کی عالمی درجہ بندی میں دس درجہ کمی کاکریڈٹ لے رہا ہے وہیں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ کیاملک میں کرپشن واقعی کم ہوئی ہے اور اس سے عام آدمی کو کوئی فائدہ پہنچا ہے یا نہیں۔قومی احتساب بیورو کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو نیب کے حکام اپنی کارکردگی سے زیادہ ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں۔ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے دور میں نیب کی کاروائیاں اگرچہ سیاسی انتقام کی ایک صورت تھیں تاہم اس ادارے کی کارکردگی گزشتہ چھ برس کی جمہوری حکومتوں سے بہتر تھی۔ مشرف دور میں کئی سابق وزرائے اعظم سمیت سرکاری اہلکاران کے خلاف مقدمات قائم کیے گئے تھے۔ کروڑوں اربوں روپے کی مالی بدعنوانی سے لے کر دس ہزار روپے کی کرپشن کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائی کی گئی تھی۔ جمہوری حکومتوں کے آنے کے بعد اس ادارے کی کارکردگی تنزلی کا شکار ہوئی ہے۔چیئرمین نیب کی تعیناتی کا تمام تر دارومدار حکومت اور اپوزیشن کو مل جانے سے اس عمل کی شفافیت مجروح ہوئی اور نیب کی کارکردگی سیاسی دباو¿ کے باعث بری طرح متاثر ہوئی ۔پیپلزپارٹی کے پانچ سالہ دور حکومت اور موجودہ حکومت کے اڑھائی سال کے دوران نیب کی کارکردگی میں کچھ خاص فرق نظر نہیں آتا۔ قومی احتساب بیورو کی کارکردگی سرکاری اہلکاروں اور موسمی فراڈیوں کے حوالے سے تو بہت بہترہوئی ہو گی جیسے ڈبل شاہ سکینڈل یا مضاربہ سکینڈل کی صورت میں، لیکن سیاستدانوں کے خلاف نیب کی کارروائی غیر موثر رہی ہے۔ نیب کا حال یہ ہے کہ گزشتہ تین برس کے دوران رینٹل پاور ، سیف سٹی ، ریلوے ، سی ڈی اے ، نیشنل بنک ، ہاو¿سنگ سوسائٹیوں ،این ایچ اے ، پی ڈبلیو ڈی ، ایف بی آر ، این آئی سی ایل اوراین ایل سی کرپشن سکینڈل میں کسی اہم اور بڑی مچھلی کو نیب نے نہیں پکڑا۔ اگر قومی احتساب بیورو کی کرپشن کے خلاف تحقیقات غیر جانبدار اورسیاسی دباو¿ سے آزاد ہوتیں تو سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اورراجہ پرویز اشرف، سابق وفاقی وزیر امین فہیم( مرحوم)، سابق چیئرمین اوگرا توقیر صادق اور دیگر بااثر افراد باہر نہ بیٹھے ہوتے۔ نیب اٹھارہ کروڑ عوام کے ٹیکس پر کام کرنے کے باوجود بااثر شخصیات کے خلاف کافی شواہد اکٹھے نہیں کرپایا۔نیب کی کمزور تحقیقات کے باعث مالی بدعنوانی کے مرتکب افرادعدالتوں سے باآسانی چھوٹ جاتے ہیں۔ بیاسی ارب روپے کی کرپشن کرنے والے توقیر صادق لاہور میں کھلے بندوں موجود ہیں ۔ یہ وہی توقیر صادق ہے جس کی گرفتاری کے لیے نیب نے کروڑوں روپے خرچ کیے تھے۔نیب کے سابق چیئرمین نے سرکاری سطح پر سات ارب روزانہ کرپشن تسلیم کی تھی تاہم اس کرپشن کی روک تھام کے لیے خاطر خواہ اقدامات اب تک نہیں کیے جا سکے۔ان اعدادوشمار کی تصدیق یوں بھی ہو سکتی ہے کہ ملک میں اس وقت سات سو ارب کے ترقیاتی منصوبوں پر کام ہو رہا ہے اور ہر سرکاری منصوبے میں بڑے پیمانے پر کرپشن کاامکان نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔نیب کے طریق کار میں دو اہم اوربڑی خامیاں ہیں جو اس ادارے کی کارکردگی کو بری طرح متاثر کر رہی ہیں۔ نیب کی طرف سے ہر کرپٹ شخص کو دو آپشن دیئے جاتے ہیں ابتدائی انکوائری کے بعد ہزاروں روپے سے لے کر اربوں روپے تک کی کرپشن کرنے والوں کو وی آر (Voluntary Return) یعنی رضاکارانہ واپسی کااختیار دیا جاتا ہے۔ اس سہولت کے تحت اگر لوٹی ہوئی کرپشن کی رقم رضاکارانہ طور پر واپس کر دی جائے تو نیب اس کے ساتھ مکمل تعاون کرے گا۔ نیب ایسے افراد کو خوردبردکی جانے والی رقم قسطوں میں واپس کرنےکی سہولت بھی دیتا ہے اور سرکاری افسرہو نے کی صورت میں اس کی سرکاری نوکری کوبھی تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔دوسری صورت میں اگر کرپٹ شخص رضاکارانہ تعاون سے انکار کرے تو نیب انکوائری کو تفتیش میں تبدیل کر دیتا ہے۔ تفتیش کے دوران اگر کرپشن ثابت ہو تو پھر نیب کرپٹ شخص کو پلی بارگین یعنی لوٹی ہوئی رقم جرمانہ کے ساتھ واپس کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ جرمانے کے ساتھ رقم کی واپسی پر نیب مقدمہ پر مزید کاروائی روک دیتا ہے۔ نیب کا یہ طریق کار متنازعہ ہے اور کرپشن بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ گزشتہ سات آٹھ برس کے دوران کسی اہم شخصیت ،سرکاری افسر ،سیاستدان یا فوجی افسر کو نیب عدالت سے سزا نہیں ہوئی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نیب کی تمام تر توجہ صرف لوٹی ہوئی دولت کی بازیابی تک محدودہے۔نیب افسران کو لوٹی ہوئی رقم بازیاب کرانے میں اس لیے بھی زیادہ دلچسپی ہے کیوں کہ اس طرح نیب افسران ، ملازمین اور حکام کوانعامی رقم، سہولیات اور مراعات ملتی ہیں اور نیب رقم کی وصولی پر اپنی کارکردگی کی بہتر تشہیر کرسکتا ہے۔ نیب کا ادارہ جب سے بنا ہے تب سے ہی اس کی کارکردگی سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے اور لگتا ہے کہ یہ صرف مخصوص سیاست دانوں کو ہی اپنا نشانہ بنائے ہوئے ہے۔ اس کا ثبوت حالیہ مقدمہ ہے جس میں ایسے الزامات نیب نے لگائے ہیں جن کا وہ خود بھی سپریم کورٹ میں کو ئی ثبوت پیش نہیں کر سکا ہے۔ جبھی تو معزز عدالت کے جج صاحبان کو کہنا پڑا کہ نیب ہمیں ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانے کی کوشش کر رہا ہے۔ نیب نے عدالت میں بغرص ثبوت ایک سو پچاس سیاستدانوں اور بیورو کریٹس پر الزامات لگا کر اپنے ادارے کو ہی سوالیہ نشان بنا دیا ہے۔سپریم کورٹ آف پاکستان کا کہناہے کہ پارلیمنٹ آئین میں ترمیم کرسکتی ہے تو نیب کے قانون میں کیوں نہیں کر سکتی۔ کیوں نہ نیب کی اندرونی غیر تسلی بخش کارکردگی کی تفتیش ایف آئی اے کو دے دیں۔وزیر اطلاعات پرویز رشید صاحب درست کہتے ہیں کہ نیب کیلئے بھی قانون سازی ہونی چاہیے۔ لگتا ہے آج واقعی نیب کے اپنے احتساب کی بھی بہت ضرورت ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا کرپشن کے خاتمے میں وفاقی حکومت کی دلچسپی ہے۔ کیا وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر چیئرمین کی تقرری کے بعد بری الذمہ ہیں ۔ چیئرمین نیب جو مرضی کرتا رہے اسے کوئی پوچھنے والا نہیں ۔ کیا وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے نیب کے خلاف پارلیمنٹ میں تحریک لانے کیلئے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے ہاتھوں چیئرمین بننے والا شخص کس طرح حکومتی اور اپوزیشن کے کرپٹ اراکین کے خلاف تحقیق کرے گا۔