- الإعلانات -

انسانی حقوق کا عالمی دن،کشمیریوں کو حق کب ملے گا

syed-rasool-tagovi

10 دسمبر انسانی حقوق کے دن کے طورپر یاد کیا ہے۔1948 میں اقوام متحدہ نے اس دن انسانی حقوق کے تحفظ اور آگاہی کیلئے عالمی منشور جاری کیا۔جنرل اسمبلی میں رائے شماری کے وقت اس کے حق میں 48 ممالک نے رائے دی جبکہ آٹھ ممالک نے رائے شماری میںحصہ نہیں لیا ۔ 30 دفعات پرمشتمل اس منشور کے تحفظ اورتجاویز کیلئے ایک مستقل کمیشن برائے انسانی حقوق بھی قائم کیا گیا، جو مختلف اوقات میں عملدرآمد کی صورتحال کا جائزہ لیتا رہتا ہے۔اس منشور کی ہرہرشق میں انسانی آزادی ، مساوی حیثیت ، آزادانہ نقل و حرکت ،آزادی اظہار، باوقار زندگی ، سماجی تحفظ کا حق، مذہبی آزادی اور تشدد، ظلم و ستم ، غیر انسانی اورتوہین آمیز سلوک یا سزا کا نشانہ نہ بنائے جانے کو یقینی بنایا گیا ہے۔ اس منشور میں جن حقوق اور آزادیوں کا اعلان کیا گیا ہے انہیں بعد میں دو حصوں میں تقسیم کردیا گیا ایک میں معاشی سماجی اورثقافتی حقوق کو یکجا کیا گیا ہے جبکہ دوسری فہرست میں شہری اور ریاستی حقوق کو رکھا گیا ہے۔جنرل اسمبلی نے 1966 میں ان دوعہدناموں کی منظوری دے دی ۔جس طرح انسانی حقوق کا عالمی منشور پوری شدومد کے ساتھ منظور کرایا گیا مگر دیکھنے میں آیاہے کہ اسی شدومدکےساتھ اس پر عملدرآمد نہیں کروایا جارہا ہے ۔جہاں جس طاقتور ملک کا زورلگتا ہے وہ انسانی حقوق کی آڑ میںعالمی سیاسی مفادات کیلئے سب کچھ تج دیتا ہے۔اس دن کو منانے کا بنیادی مقصددنیا بھر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز بلند کرنا ہے۔یہ خلاف ورزیاں انفرادی سطح پر ہوں ےا اجتماعی ہر دو سطح پرپورے کا پورا معاشرہ ظلم و جبر کا شکار ہو جاتا ہے۔اس پہ مستزاد یہ کہ یہ ظلم و جبر صرف پسماندہ معاشروں تک محدود نہیںبلکہ یہ سلسلہ جمہوریت پسند ترقی یافتہ ممالک تک پھیلا ہوا ہے۔دنیا میں انسانی حقوق کے تحفظ کا سب سے بڑا علمبردارامریکہ بھی اس سے محفوظ نہیں ہے۔ امریکہ اور یورپ میں نسلی تعصب اتنا عام ہے کہ اس کی مثال دوسرے معاشروں میں کم ہی ملتی ہے۔تعصب انسانی حقوق کی وہ خلاف ورزی ہے جس سے کئی نسلیں متاثرہوتی ہیں۔ عالمی سطح پر دیکھا جائے توریاستی خلاف ورزیاں بھی عام ہیں۔ فلسطین اورمقبوضہ کشمیر اس کی نمایاں مثال ہیں۔فلسطین میں اسرائیل کی ریاستی دہشت گردی کے باعث لاکھوں فلسطینیوںکا بنیادی حق آزادی پامال ہو رہا ہے تو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کے انسانیت سوز مظالم اور سنگین انسانی حقوق کی پامالیوں کے ستائے کشمیری اقوام عالم کی بے حسی پر شکوہ کنا ں رہتے ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں تعینات سات لاکھ سے زائد بھارتی فوجیوں کو مختلف کالے قوانین کے تحت لامحدود اختیارات حاصل ہیں جن کی آڑ میں ایک لاکھ سے زائد کشمیری شہید کئے جا چکے ہیں جبکہ پندرہ ہزار کے قریب افراد لاپتہ ہیں جن کے عزیزو اقارب اپنے پیاروں کی تلاش میں دربدر کی ٹھوکریں کھارہے ہیں۔ مقبوضہ وادی میں بھارتی تسلط کی سیاہ ترین تاریخ کا ایک باب ہزاروں گمنام قبریں بھی ہیں۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹر نیشنل گمنام قبروں کی تحقیقات کے لیے بھارت سے آزاد تحقیقاتی کمیشن کا مطالبہ کرتی رہتی ہے لیکن اس پربھارت کے کان پرجوں تک نہیں رینگتی۔ دوسری جانب بلیک سیفٹی ایکٹ کے کالے قانون کے تحت قابض انتظامیہ نوجوانوں کو جیلوں میں ڈال کران کا مستقبل تباہ کررہی ہے۔ بھارتی فوج کے شر سے کشمیری بچے بھی محفوظ نہیں انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایشین سینٹر فار ہیومین رائٹس کی ایک رپورٹ کے مطابق مقبوضہ وادی کی جیلوں میں بڑی تعداد معصوم بچوں کی ہے۔ آرمڈ فورسز سپیشل پارز ایکٹ کے بدنام زمانہ قانون کے تحت بھارتی فوج کےلئے کسی بھی کشمیری کی جان لینا معمولی بات ہے۔ اس غیر انسانی قانون کے خاتمے کا ہیومین رائٹس واچ سمیت متعدد بین الاقوامی تنظیمیں مطالبہ کرچکی ہیں لیکن سب بے سود۔انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کالے قانون افسپا کو انصاف کی فراہمی میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دے چکی ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کے پروگرام ڈائریکٹر ششی کمار ویلاٹھ کی طرف سے جاری بیان میں بھارتی حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ افسپا 1958ءاور 1990ءکی فوری واپسی کیلئے اقدامات کرے۔ مقامی اور عالمی سطح پر افسپا کیخلاف بحث اور افسپا کی آڑ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے جاری سلسلے کے تناظر میں اس متنازعہ قانون کو فوری طور پر واپس لیا جانا چاہئے۔ماہرین کے ادارے اب اس بات کی طرف اشارہ کررہے ہیں کہ جہاں کہیں بھی افسپا لاگو ہے اس کی وجہ سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہورہی ہیں۔ ان اداروں نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ افسپا نے ان علاقوں کو محفوظ بنانے کے بجائے عام لوگوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بڑے پیمانے پر فروغ دیا ہے۔ بھارتی حکام افسپا کے دفاع کیلئے قومی سلامتی کا بہانہ بنانے کا سلسلہ جاری نہیں رکھ سکتے۔ مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ دو دہایوں کے دوران قابض فوج ہر حربہ آزما چکی ہے لیکن کشمیریوں کے حوصلے شکست نہیں کھا رہے۔آزادی کا حصول ہر کا کا بنیادی حق عالمی چارٹر بھی اس کی حمایت کرتا ہے لیکن بد قسمتی کہ اس چارٹر پر عملدرآمدکے ضامن ادارے خود مصلحت کوشی کا شکار ہیں۔یہ صورتحال عالمی امن کےلئے صرف خطرناک ہی نہیں تباہ کن ہے۔