- الإعلانات -

ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس ایک تازہ ہوا کا جھونکا

uzair-column

خدا خدا کرکے طلسم ٹوٹا،پاک بھارت تعلقات میں ایک تازہ ہوا کا جھونکا ہارٹ آف ایشیاء کی صورت میں نمودار ہوا ہے اور ساتھ ہی بھارتی میڈیا نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ آخرکار مودی سرکار نے سری لنکا میںپاک بھارت سیریز کھیلنے کی اجازت بھی دیدی ہے اوربھارت نے پاکستان کی بلائنڈ کرکٹ ٹیم کو بھی انڈیا آنے کی اجازت بھی دی ہے ۔یہ دونوں خبریں تو خوش کن ہیں ہی کیونکہ کرکٹ شائقین اس سے بہت خوش ہوں گے اور پوری دنیا جو روایتی حریفوں کے کرکٹ میچ سے لطف اندوز ہوتی ہیں انہیں بھی دونوں ٹیمیں میدان میں نظر آئیں گی کیونکہ پاکستان اوربھارت کے درمیان کوئی بھی میچ ہو چاہے وہ کرکٹ ،ہاکی ،کبڈی ہو یوںمحسوس ہوتا ہے کہ جیسے مہا بھارت ہورہی ہے ۔ہر پاکستانی کی دعا اوردلی خواہش ہوتی ہے کہ شاہین بھارتی سورماﺅں کو دھول چٹائیں اور عموماً ایسا ہوتا ہے ۔اب ہارٹ آف ایشیاءکانفرنس میں شرکت کرنے کیلئے بھارت کے وزیرخارجہ سشما سوراج پاکستان آچکی ہیں اور انہوں نے آتے ہی میڈیا سے مختصراً گفتگو کی جس میں ا نہوں نے کہا کہ ہم پاک بھارت تعلقات کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں ۔میںنوازشریف سے بھی ملاقات کروں گی پھر شام کو مشیرخارجہ سرتاج عزیز نے سشما سوراج کے اعزاز میں عشائیہ دیا جس میں انہوں نے بھارتی وزیر خارجہ سے انتہائی گرمجوشی سے ہاتھ ملایا ۔دونوں کی آپس میں نظریں چار ہوئیں ،ماحول بتارہا تھا کہ اس مرتبہ سشما سوراج کی آنکھوں کی چمک یہ گواہی دے رہی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کچھ نہ کچھ بہتری ضرور کارفرما ہوگی کیونکہ ویسے بھی یہ کانفرنس علاقائی سطح کے ممالک کے مشیروں کی ہے اور اس میں تمام شریک ممالک نے اپنی اپنی سرحدوں کی حفاظت اور آپس میں تعلقات کو بھی بہتر بنانا ہے ۔یہ بات بھی اہمیت کی حامل ہے کہ تمام ممالک اس بات کو بھی یقینی بنائیں گے کہ ان کی سرزمین ایک دوسرے کیخلاف استعمال نہیں ہوگی ۔گو کہ افغانستان کے صدر اشرف غنی نے جو کہ آج پاکستان پہنچیں گے آنے سے قبل کچھ ایسے الزامات والے بیانات عائد کیے ہیں جس سے یہ محسوس ہوتاہے کہ وہ کچھ تعلقات بہتر بنانے میں اتنے مخلص نہیں ہیں ۔کیونکہ انہوں نے کہا کہ گذشتہ کافی عرصے سے پاکستان کی جانب سے افغانستان کیخلاف ایک خاموش جنگ جاری ہے پھریہ بھی الزام عائد کیا کہ افغانستان کے دہشتگردوں کی پناہ گاہیں پاکستان میں موجود ہیں ۔یہ ایسے بے بنیاد الزامات ہیں جن کا حقیقت سے دور کا بھی تعلق نہیں ۔آپریشن ضرب عضب کے بعد دہشتگردوں کی بےخ کنی کردی گئی ہے ۔ان کی کمر ٹوٹ چکی ہے ،شمالی اورجنوبی وزیرستان میں ان کے ٹھکانے ختم کردئیے گئے ہیں ۔لہذا دہشتگردوں کے ڈانڈے پاکستان سے ملانا انتہائی مضحکہ خیز بیان ہے ۔پھر اس کانفرنس میں تمام رہنماﺅں نے مل بیٹھ کر مسائل کا حل نکالنا ہے نہ کہ ایک دوسرے پر الزام تراشی ،ایک بات اور بھی انتہائی اہم ہے کہ بھارتی وزیرخارجہ سشما سوراج وزیراعظم پاکستان نوازشریف سے بھی ملاقات کریں گی اور یقینی طور پر وہ اس میں اپنے ملک کے وزیراعظم نریندرمودی کی جانب سے خصوصی پیغام بھی وزیراعظم پاکستان تک پہنچائیں گی ۔کچھ یہ مطالبات بھی سامنے آرہے ہیں کہ پاکستان کوچاہیے کہ وہ بھارتی وزیرخارجہ کو بلوچستان میں راءکی مداخلت کے بارے میں ثبوت فراہم کرے ۔یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ وہاں پر بھارتی مداخلت موجود ہے ۔دراصل بلوچستان میں جو حالات اس وقت چل رہے ہیں ان پر توجہ دینا انتہائی ضروری ہے ۔وہاں کی اس وقت نوجوان قوم جو کہ پاکستان سے بے تحاشا محبت رکھتی ہے اس کو صحیح رہنمائی کی ضرورت ہے ۔جس طرح کہ پاک چین اقتصادی راہداری سے وہ علاقہ مستفید ہوگا ،پھر گوادر کی بندرگاہ بھی بن رہی ہے ،لہذا یہ بہت ضروری ہے کہ وہاں کے پڑھے لکھے نوجوانوں کو بھی ان منصوبوں میں ایڈجسٹ کیا جائے ۔تاکہ وہ کسی بھی بے راہ روی کا شکار نہ ہوسکیں ۔کیونکہ جس طرح بلوچستان پر دشمن نے اپنی نظریں گاڑھی ہوئی ہیں اگر وہاں پر توجہ نہ دی گئی تو خدانخواستہ وہ اپنے مذموم عزائم میںکامیاب ہوجائینگے ۔بلوچستان معدنیات کے حوالے سے انتہائی زرخیز صوبہ ہے اور وہاں پر اللہ تعالیٰ نے زمین میں اتنے خزانے رکھے ہوئے ہیں کہ جن کو دریافت کرکے پورے وطن عزیز کے بہت سارے مسائل حل کیے جاسکتے ہیں ۔آج ملک بھر میں جو سوئی گیس چل رہی ہے اس کا بھی اصل اور بڑا منبع سوئی کا مقام ہے جو کہ بلوچستان میں واقع ہے ۔بلوچستان کے حوالے سے ہی چلتے چلتے ایک بات اور بھی کرتے چلیں کہ جب وہاں پر بلوچستان کے وزیراعلیٰ عبدالمالک بلوچ نامزد کیے گئے تو معاہدے کے تحت ان کا اس وقت ختم ہوچکا ہے اور خبریں تیزی سے گردش کررہی تھیں کہ اب اڑھائی سال کے بعد ثناءاللہ زہری کو وزیراعلیٰ بنایا جائیگا لیکن معاملات نے کچھ کروٹ بدل لی ہے ۔اب یہ سنا جارہا ہے کہ وزیراعلیٰ عبدالمالک ہی رہیں گے کیونکہ ایسے وقت میں اگرانہیں تبدیل کردیا جائے تو مسائل پیدا ہوسکتے ہیں لہذا اسی وجہ سے ثناءاللہ زہری کو آج وزیراعظم نے طلب کرلیا ہے ۔اس وقت وہاں پر جو مسئلہ اٹکا ہوا ہے وہ یوتھ کا ہے کیونکہ کچھ مطالبات محمود خان اچکزئی بھی سامنے آرہے ہیں اور کچھ یوتھ کے نمائندے وفاقی دارالحکومت میں موجود ہیں اب یہاں پرزیرک فیصلہ وزیراعظم نے کرنا ہے کہ وہ یوتھ کے حوالے کیا اقدام اٹھاتے ہیں ۔