- الإعلانات -

پاکستان بھارت ٹریک ڈپلومیسی اور مسئلہ کشمیر

rana-baqi

دنیا بھر میں بڑی طاقتوں کے درمیان جنگوں کے دائرہ کار کو محدود کرنے اور قوموں کے درمیان جذباتی وابستگی سے اُلجھے ہوئے دوطرفہ مسائل کو سلجھانے کےلئے فریقین اقوام متحدہ کے چارٹر کےمطابق آپس میں معاہدے کرتے ہیں لیکن اگر متحارب قومیں نفسیاتی یا جذباتی دباﺅ کی کیفیت پر قابو نہ پا سکیں اور اُن کے درمیان نوبت جنگ تک آ پہنچے تو اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کو اختیار حاصل ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے چارٹر کےمطابق صورتحال کی بہتری اور امن و امان کی کیفیت بحال کرنے کےلئے ضروری اقدامات کرے۔ اِن اقدامات میں فوری جنگ بندی اور مسائل کے حل کےلئے اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل احکامات جاری کرتی ہے یا امن تجاویز کےمطابق متحارب قوموں کو دو طرفہ طور پر اپنے مسائل حل کرنے کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔دنیا کے ممالک چونکہ مختلف گروپوں میں بٹے ہوئے ہیں اور دنیا کی پانچ بڑی طاقتوں کو سیکیورٹی کونسل میں ویٹو پاور حاصل ہے لہذا، اِن بڑی طاقتوں کے مفادات اور متحارب طاقتوں کی ہٹ دھرمی کے باعث کچھ مسائل حل طلب رہ جاتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی کوششیں اپنی جگہ اہم ہیں لیکن مسائل کے حل کےلئے متحارب قوتوں کے درمیان دو طرفہ مذاکرات کو مثبت انداز سے آگے بڑھانے کےلئے سرکاری یا غیر سرکاری سطح پر جو مربوط کوششیں کی جاتی ہیں اُس کےلئے آج کی دنیا میں ٹریک ون اور ٹریک ٹو ڈپلومیسی کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے ۔ٹریک ون ڈپلومیسی میں سرکاری سطح پر غیر رسمی انداز اختیار کرتے ہوئے اہم ریاستی مسائل اور قوموں کے درمیان جھگڑوں کے حل کےلئے متحارب ریاست یا فریق سے متعلقہ اہم افراد کے اثر و رسوخ کو استعمال کرنے کےلئے حکمت عملی تیار کی جاتی ہے جنہیں عوام کی نظروں سے پوشیدہ رکھا جاتا ہے ۔ جبکہ ٹریک ٹو ڈپلومیسی میں غیر رسمی طور پر متعلقہ فریق کےساتھ اثر و رسوخ رکھنے والے غیر سرکاری یا نان اسٹیٹ ایکٹرز کے ذریعے مسائل کے حل کےلئے دوطرفہ لچک کے حوالے سے معلومات کا تبادلہ کیا جاتا ہے۔ اگر ٹریک ٹو ڈپلومیسی کے ذریعے بات آگے بڑھتی ہے تو پھر عوامی نفسیات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایسی ممکنہ حل کی اطلاعات کو غیر رسمی طور پر عوامی بحث و مباحثہ کےلئے لایا جاتا ہے۔
ایسے ہی اُلجھے ہوئے مسائل میں پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر بنیادی مسئلہ ہے جو 3 جون 1947ءکے تقسیم ہندوستان کے ایجنڈے کےمطابق حل طلب ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان تین جنگوں کے باوجود خطے کے امن اور ترقی کےلئے بدستور خطرہ بنا ہوا ہے۔ بھارت 1948ءمیں مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ میں لے گیا تھا لیکن سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دینے سے گریز کرتا رہا ہے چنانچہ بھارتی ہٹ دھرمی کے سبب مسلم اکثریتی ریاست جموں و کشمیر بھارتی مقبوضہ کشمیر اور پاکستان حمایت یافتہ آزاد کشمیر میں بٹی ہوئی ہے۔ 1971ءکی پاکستان بھارت جنگ کے بعد اقوام متحدہ کی جنگ بندی کی قرارداد کی روشنی میں ریاست جموں و کشمیر کی جنگ بندی لائین کنٹرول لائین میں تبدیل ہو چکی ہے ۔ البتہ سقوط ڈھاکہ کے پس منظر میں بھارتی وزیراعظم مسز اندرا گاندہی اور پاکستانی وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے 2 جولائی 1972 ءمیں دوطرفہ شملہ معاہدے پر دستخط کئے جس میں دونوں ملکوں کے تعلقات اقوام متحدہ کے مقاصد، اصولوں اور چارٹر کےمطابق استوار کرنے کا عزم ظاہر کیا گیا۔ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے شملہ معاہدے کے آرٹیکل 4(ii) میں واضح طور پر کہا گیا کہ دونوں فریق حکومتیں اقوام متحدہ کی 17 دسمبر 1971ءکی جنگ بندی کی قرارداد کے نتیجے میں جموں و کشمیر میں وجود میں آنے والی کنٹرول لائین کا ہر صورت میں احترام کریں گے جبکہ آرٹیکل 6 میں دونوں ممالک کے سربراہوں مستقبل میں پھر ملاقات پر رضامندی کا اظہار کیا تاکہ اِس دوران دونوں ممالک کے نمائندے تعلقات کو معمول پر لانے اور خطے میں امن قائم کرنے کےلئے بات چیت کے ذریعے بشمول جنگی قیدیوں کی واپسی ، جموں و کشمیرکے مسئلہ کے حل (final settlement) اور سفارتی تعلقات کی بحالی کےلئے طریقہ کار (modalities) اور معاہدے طے کریں ۔ حیرت ہے کہ جنگی قیدیوں کی واپسی بہت پہلے ہو چکی ہے ، دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات بحال ہوئے ایک عرصہ بیت چکا ہے ، موثر تجارتی تعلقات قائم ودائم ہیں لیکن بھارت مسئلہ کشمیر کے حل کےلئے دوطرفہ بات چیت سے گریزاں ہے ۔
اندریں حالات ، شملہ معاہدے اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت بھارت دو طرفہ ڈائیلاگ کے ذریعے مسئلہ کشمیر کا حل تلاش کرنے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات پر معمول پر لانے کے بجائے وزیراعظم نریندر مودی کی نئی انتہا پسند ہندو قیادت حالات کو بگاڑ کی جانب لے جانے میں اپنی تما تر توانائیاں صرف کر رہی ہے جبکہ خطے میں امن لانے کےلئے مسئلہ کشمیر ہی کور ایشو ہے۔ حالانکہ وزیراعظم نریندر مودی کی حلف برداری کی تقریب میں سارک ممالک کی دیگر قیادت کے ہمراہ وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف نے ریاستی تحفظات کے باوجود شرکت کی۔گو کہ بھارتی وزیراعظم نے تعلقات معمول پر لانے کےلئے پاکستان کےساتھ خارجہ سیکریٹری لیول پر مذاکرات پر آمادگی کا اظہار کیا لیکن عین مذاکرات سے چند روز قبل یہ کہتے ہوئے مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کر دیا کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے، پاکستان کی جانب سے کشمیر کو متنازع علاقہ قرار دینا اور پاکستانی ہائی کمشنر کا مقبوضہ کشمیرکے رہنماﺅں سے ملاقات کرنا بھارت کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے مترادف ہے۔ جوابی طور پر پاکستانی قیادت نے بھارت کےساتھ تعلقات معمول پر لانے کےلئے بھارتی موقف کو تسلیم کرنے سے انکار کیا اور مسئلہ کشمیر سمیت تمام مسائل کو بات چیت سے حل کرنے پر مشروط کر دیا جو کوئی نیا موقف نہیں ہے بلکہ شملہ معاہدہ جسے بین الاقوامی طور پر ایک اہم دوطرفہ معاہدہ سمجھا جاتا ہے میں دونوں ممالک کی قیادت کشمیر کو متنازع مسئلہ تسلیم کر چکی ہے ۔ چنانچہ ہندوستانی دانشور صحافی برکھا دت نے ٹریک ڈپلومیسی کے حوالے سے سجن جندال اور حسین نواز شریف کے حوالے سے وزیراعظم نواز شریف کی نریندر مودی سے کھٹمنڈو میں خفیہ ملاقات اور پھر ٹریک ون ڈپلومیسی سے ہٹ کر ٹریک ٹو کے ذریعے پیرس میں ملاقات کا تذکرہ کیا ہے ۔ وزیاعظم نواز شریف نے پیرس جانے سے قبل ہی بھارت کےساتھ تعلقات معمول پر لانے کےلئے غیر مشروط مذاکرات پر آمادگی ظاہر کر دی تھی لیکن محسوس یہی ہوتا ہے کہ بھارت مسئلہ کشمیر کا حل نکالنے میں مخلص نہیں ہے بلکہ اپنی جدوجہد کے تسلسل سے پاکستانی قیادت کو با ر بار نچوڑنے پر لگا ہوا ہے ۔ بھارت امریکہ کا دفاعی اتحادی ہے اور افغانستان میں اہم کردار ادا کر رہا ہے لہذا، اپنے مخصوص مفادات کے تحفظ کےلئے افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے اسلام آباد میں منعقد ہونے والی ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں ہر صورت میں شرکت کا متمنی تھا جس میںمیاں نواز شریف کے غیر مشروط بات چیت کے اعلان بعد بھارتی وزیر خارجہ شسما سوراج پاکستان تشریف لائی ہیں ۔ دریں اثنا پاکستان اور بھارتی دفاعی مشیروں کے درمیان بھی ملاقات ہوئی ہے جس میں کشمیر کنٹرول لائین کی صورتحال اور دیگر مسائل پر گفتگو ہوئی ہے اور اِس گفتگو کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے لیکن بھارت اپنے مخصوص مفادات کی خاطر بات چیت شروع کرتا ہے اور اپنے مقاصد حاصل کرنے کے بعد مسائل کے حل سے گریز کرتا ہے۔ چنانچہ ، ہمارے پالیسی اداروں اور سیاسی قیادت کو اِس اَمر پر ضرور غور و فکر کرنا چاہیے کہ کہیں ہم بھارت سے غیر مشروط بات چیت پر آمادگی ظاہر کرکے کشمیروں کو ناراض تو نہیں کر رہے ہیں جنہوں نے اپنی جان پر کھیل کر سرینگر میں پاکستانی پرچم بلند کرنا شروع کر دیا تھا اور جسے اب بھارت بات چیت کا ڈول ڈال کر محض کشمیریوں کی توجہ مسئلہ کشمیر سے ہٹانے کے درپے ہے؟