- الإعلانات -

مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی

riaz-ahmed

10دسمبر انسانی حقوق کے دن کے طورپر یاد کیا ہے۔1948ءمیں اقوام متحدہ نے اس دن انسانی حقوق کے تحفظ اور آگاہی کیلئے عالمی منشور جاری کیا۔جنرل اسمبلی میں رائے شماری کے وقت اس کے حق میں 48 ممالک نے رائے دی جبکہ آٹھ ممالک نے رائے شماری میںحصہ نہیں لیا۔ 30 دفعات پرمشتمل اس منشور کے تحفظ اورتجاویز کیلئے ایک مستقل کمیشن برائے انسانی حقوق بھی قائم کیا گیا، جو مختلف اوقات میں عملدرآمد کی صورتحال کا جائزہ لیتا رہتا ہے۔اس منشور کی ہرہرشق میں انسانی آزادی ، مساوی حیثیت ، آزادانہ نقل و حرکت ،آزادی اظہار، باوقار زندگی ، سماجی تحفظ کا حق، مذہبی آزادی اور تشدد، ظلم و ستم ، غیر انسانی اورتوہین آمیز سلوک یا سزا کا نشانہ نہ بنائے جانے کو یقینی بنایا گیا ہے۔
جس طرح انسانی حقوق کا عالمی منشور پوری شدومد کے ساتھ منظور کرایا گیا مگر دیکھنے میں آیاہے کہ اسی شدومدکےساتھ اس پر عملدرآمد نہیں کروایا جارہا ہے۔جہاں جس طاقتور ملک کا زورلگتا ہے وہ انسانی حقوق کی آڑ میںعالمی سیاسی مفادات کیلئے سب کچھ تج دیتا ہے۔اس دن کو منانے کا بنیادی مقصددنیا بھر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز بلند کرنا ہے۔یہ خلاف ورزیاں انفرادی سطح پر ہوں ےا اجتماعی ہر دو سطح پرپورے کا پورا معاشرہ ظلم و جبر کا شکار ہو جاتا ہے۔ فلسطین اورمقبوضہ کشمیر اس کی نمایاں مثال ہیں۔
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کے انسانیت سوز مظالم اور سنگین انسانی حقوق کی پامالیوں کے ستائے کشمیری اقوام عالم کی بے حسی پر شکوہ کناں رہتے ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں تعینات سات لاکھ سے زائد بھارتی فوجیوں کو مختلف کالے قوانین کے تحت لامحدود اختیارات حاصل ہیں جن کی آڑ میں ایک لاکھ سے زائد کشمیری شہید کئے جا چکے ہیں جبکہ پندرہ ہزار کے قریب افراد لاپتہ ہیں جن کے عزیزو اقارب اپنے پیاروں کی تلاش میں دربدر کی ٹھوکریں کھارہے ہیں۔ مقبوضہ وادی میں بھارتی تسلط کی سیاہ ترین تاریخ کا ایک باب ہزاروں گمنام قبریں بھی ہیں۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹر نیشنل گمنام قبروں کی تحقیقات کے لیے بھارت سے آزاد تحقیقاتی کمیشن کا مطالبہ کرتی رہتی ہے لیکن اس پربھارت کے کان پرجوں تک نہیں رینگتی۔ دوسری جانب بلیک سیفٹی ایکٹ کے کالے قانون کے تحت قابض انتظامیہ نوجوانوں کو جیلوں میں ڈال کران کا مستقبل تباہ کررہی ہے۔ بھارتی فوج کے شر سے کشمیری بچے بھی محفوظ نہیں انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایشین سینٹر فار ہیومین رائٹس کی ایک رپورٹ کے مطابق مقبوضہ وادی کی جیلوں میں بڑی تعداد معصوم بچوں کی ہے۔ آرمڈ فورسز سپیشل پارز ایکٹ کے بدنام زمانہ قانون کے تحت بھارتی فوج کےلئے کسی بھی کشمیری کی جان لینا معمولی بات ہے۔ اس غیر انسانی قانون کے خاتمے کا ہیومین رائٹس واچ سمیت متعدد بین الاقوامی تنظیمیں مطالبہ کرچکی ہیں لیکن سب بے سود۔
انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کالے قانون افسپا کو انصاف کی فراہمی میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دے چکی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کے پروگرام ڈائریکٹر ششی کمار ویلاٹھ کی طرف سے جاری بیان میں بھارتی حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ افسپا 1958ءاور 1990ءکی فوری واپسی کیلئے اقدامات کرے۔
اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر اہم مسئلہ ہے۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو ختم کروانا ہمارا فرض ہے۔ ہم نے دونمائندے مقبوضہ کشمیربھیجے۔ ان کی رپورٹس میں تشویش کا اظہار کیا گیا۔ کونسل ان پر غور کر رہی ہے۔ اقوام متحدہ نے ریاست جموں و کشمیر میں رائے شماری کے لئے کئی قراردادیں پاس کیں۔ مگر بھارت ان قراردادوں پر عمل کرنے کی بجائے مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ کشمیریوں پر بھارتی مظالم بند کرائے۔ عالمی برادری بھی کچھ نہیں کر رہی۔ وہ دوہرے معیار پر عمل کر رہی ہے۔ جنوبی سوڈان اور مشرقی تیمور میں تو فوراً عمل ہو گیا۔ مگر کشمیر اور فلسطین میں مسلمان پس رہے ہیں اورعالمی برادری خاموش ہے۔عالمی برادری کو یہ روش ترک کرنا ہو گی۔
کشمیر بھارت کا حصہ نہیں اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود ایک متنازعہ علاقہ ہے جس میں کشمیریوں نے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا ہے۔ یہ حق عالمی ادارے کی قراردادوں نے اسے دلا رکھا ہے لیکن بھارت آج تک حیلوں بہانوں سے استصواب رائے کو موخر کر کے شاید یہ سمجھ بیٹھا ہے کہ کشمیر اس کا حصہ بن چکا ہے۔ حالانکہ کشمیریوں نے ہر موقع پر ثابت کیا ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے۔ بھارتی یوم جمہوریہ کو کشمیری یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں اور پاکستان کے یوم آزادی (14 اگست) کو وہاں جشن کا سماں ہوتا ہے۔ اسی سے کشمیریوں کے جذبات کا اندازہ ہو جاتا ہے اور اگر بھارتی قیادت کو اس میں کوئی شک و شبہ ہے تو استصواب رائے کا راستہ کھلا ہے، بھارت اس کا اہتمام کرے اسے اندازہ ہو جائے گا کہ کشمیری کیا چاہتے ہیں۔ کشمیر (مقبوضہ) میں جو انتخابات ہوتے ہیں کشمیریوں کی نمائندہ قیادت ان کا بائیکاٹ کرتی ہے۔ اس بائیکاٹ کے بعد جو چند فیصد ووٹ پڑتے ہیں ان کی بنیاد پر تو کشمیریوں کی رائے سامنے نہیں آتی۔
بھارت میں حکمران جماعت بی جے پی عرصے سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے لئے آرٹیکل 370 ختم کرنے کی خواہاں ہے۔ کانگریس کے حال ہی میں ختم ہونے والے دس سالہ دور سے پہلے دس برس تک مسلسل بی جے پی کی حکومت رہی، لیکن وہ آرٹیکل 370 ختم نہ کر سکی جو ظاہر ہے بھارتی آئین میں کشمیری قیادت اور کشمیریوں کو خوش کرنے کے لئے شامل کیا گیا تھا ورنہ کیا مجبوری تھی کہ اسے آئین کا حصہ بنایا جاتا۔ کشمیر میں اکثریتی آبادی کا تعلق مسلمانوں سے ہے اس لئے آزادی کے بعد سے مقبوضہ کشمیر میں جو بھی کٹھ پتلی حکومتیں رہیں وہ بہر حال مسلمان تھیں۔ بھارت کی مرکزی حکومت نے ان حکومتوں کے ذریعے کشمیریوں کے جذبہ حریت کو ختم کرنے کی بڑی کوشش کی لیکن کشمیریوں کے دلوں میں آزادی و حریت کی شمع ہمیشہ فروزاں رہی اور حالیہ برسوں میں تو یہ شعلہ اور بھی بھڑک اٹھا ہے۔ چند ہفتے پہلے مقبوضہ کشمیر میں ایک پاکستانی پرچم لہرانے پر بھارتی قیادت سیخ پا تھی اور پرچم لہرانے پر مسرت عالم کو گرفتار اور سید علی گیلانی کو نظر بند کر دیا تھا لیکن اب ہر طرف پاکستانی پرچم لہرا رہے ہیں اور بھارتی قیادت کے پاس اس جذبہ جنون کا کوئی توڑ نہیں۔
مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کے لئے بھی بھارت کی مرکزی حکومت نے بہت سے پاپڑ بیلے جو کشمیری پنڈت کشمیر چھوڑ کر چلے گئے تھے انہیں واپس لا کر کشمیر میں آباد کرنے کے لئے پنڈتوں کی الگ بستیاں بنانے کا منصوبہ بھی بنایا گیا۔ بی جے پی نے پہلی مرتبہ کشمیر کے پارلیمانی انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے کے لئے بھی بہت سے پاپڑ بیلے پانچ مرتبہ وزیر اعظم نریندر مودی نے مقبوضہ کشمیر کا دورہ کیا حالانکہ ریاست کے گورنر نے انہیں ایسا کرنے سے منع کیا اس کے باوجود بی جے پی ریاستی انتخابات میں 25 سے زیادہ نشستیں جیت نہ سکی اور وہاں بی جے پی کی حکومت بنانے کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوا تو ریاست میں گورنر راج لگا دیا گیا بالآخر بی جے پی کو مفتی محمد سعید کو وزیر اعلیٰ قبول کرنا پڑا اور پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت بنائی۔
کشمیر کے حالات بھی اس کے لئے ساز گار نہیں ہیں۔ کشمیری قیادت کی آواز کو اس وقت دنیا میں سنا جا رہا ہے۔ کشمیریوں نے اپنی جدوجہد کو کلی طور پر سیاسی جدوجہد کے قالب میں ڈھال لیا ہے۔ وہ سیاسی جدوجہد کے ذریعے کشمیریوں کے حق کے حصول کی کوشش کررہے ہیں جس پر دنیا کو کوئی اعتراض نہیں بلکہ کشمیریوں کے لئے ہمدردی کے جذبات پیدا ہو رہے ہیں۔ان حالات میں بھارت کے لئے یہی مناسب ہے کہ وہ مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق کشمیر کے مستقبل کی منصوبہ سازی کرے۔ کشمیریوں کو ان کا بنیادی حق دے جو بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے بھی تسلیم کیا تھا اور اقوام متحدہ میں کشمیر میں ریفرنڈم کا وعدہ کیا تھا۔ کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیئے بغیر کشمیر میں بھارت کی کسی بھی سیاسی جماعت کی کوئی چال کامیاب نہیں ہو سکتی۔